جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا

نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا خیال یہ تھا کہ وہ لاہور پہنچنے سے قبل ہی ملک کے مقبول لیڈر بن جائیں گے۔ ان کے پروگرام کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں میں بھرپور استقبال ہوگا۔ جگہ جگہ رک کر خطابت کریں گے لیکن اب ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ بیان بازیوں سے تو معلوم یہی ہوتا ہے کہ نواز شریف لاہور میں ایک قد آور شخصیت کے طور پر اتریں گے۔ ان کی ہر دلعزیزی آسمان کو چھو چکی ہوگی۔ نواز شریف اور فیملی اور نواز لیگ کے مطابق انہیں لاہور میں وہ رتبہ ملے گا کہ وہ قائداعظم ثانی بن کر لاہور آئیں گے۔ یا انہیں نیلسن منڈیلا کے طورپر خوش آمدید کہا جائے گا یا وہ پاکستان کے اتاترک کہلائیں گے۔ لیکن اب ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

مشک آں است کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید

نواز شریف کی حالیہ تقریروں میں نارسائی اور شکست کے اسباب موجود ہیں۔ لیکن نون لیگ اسے ہوا دے رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک منتخب وزیراعظم کو معزول کرنا اور اسے تاحیات نااہل قرار دے کر گھر بھجوانا یہ وزیراعظم کی توہین نہیں ہے بلکہ 20عوام کروڑ کی توہین ہے جنہوں نے اسے اپنا قیمتی ووٹ دے کر منتخب کیا ہے اور عدالت عالیہ یک جنبش قلم اسے گھر بھجوا رہی ہے۔

”آپ کیا کریں گے؟“ نواز شریف کے ایسے بیانات میں عدالت عالیہ کی کھلی توہین ہے جس میں عدالت عالیہ ہی نہیں وہ اس میں پاکستانی افواج کو نیچا دکھا رہے ہیں اور اپنے آپ کو معصوم اور بے گناہ گردان رہے ہیں۔ یہ وہ وزیراعظم کہہ رہا ہے جس نے پاکستان کے خزانوں پر شب خون مارا۔ ملک کی دولت کو بیرون ملک غیر قانونی ذرائع سے منتقل کیا اور جب جی ٹی آئی نے اسے سرعام کیا اور عدالت عالیہ کے پانچوں ججز نے فیصلہ صادر کر دیا کہ نواز شریف نہ ہی صادق ہیں اور نہ ہی امین ہیں۔ ججز کے فیصلے کے خلاف انہوں نے صلاح و مشورے کئے اور اسلام آباد سے لاہور تک کا سفر بذریعہ جی ٹی روڈ کرنے کا حکم صادر کر دیا۔

تمہارے ساتھ ہے کون آس پاس تو دیکھو

یہ حقیقت ہے کہ جشن جی ٹی روڈ کے شرکا سارے سرکاری ملازمین ہیں، جن میں بے وردی پولیس، پٹواری، تحصیلدار اور ڈی سی  شامل ہیں جن کے ذمے یہ کام لگایا گیا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ سڑک پر اکٹھا کریں۔ اس جشن جی ٹی روڈ کا سارا خرچہ سرکاری ذرائع سے ادا کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ جشن جی ٹی روڈ کے شرکا کے ہاتھوں میں لفافے ہیں۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ اہتمام کس لئے کیا جا رہا ہے۔ کیا اس جشن جی ٹی روڈ کا مقصد جمہوریت کو بچانا ہے۔ پارٹی کو بچانا ہے۔ یا خاندان کوبچانا ہے۔

نواز شریف کی جبلت کو دیکھا جائے تو ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کا مقصد خاندان کو بچانا سرفہرست ہے۔ نومنتخب وزیراعظم اگرچہ نواز شریف کی کرسی پر براجمان ہیں لیکن ان کے پاﺅں زمین پر نہیں ہیں۔ وہ عاجزی سے کہتے ہیں کہ ملک کا وزیراعظم تو نواز شریف ہے۔ شاید اسی لئے جشن جی ٹی روڈ پر نومنتخب وزرا، حکومت کی ساری مشینری رواں دواں ہے۔ کسی کو علم نہیں کہ نومنتخب وزیراعظم کو یہ کام کس نے سونپا ہے۔ جس کی اہمیت اچانک ان کے فرض منصبی سے کہیں سے ارفع ہو چکی ہے۔

نومنتخب وزیراعظم کو قوم نے ایک اہم ذمہ داری دی ہے۔ انہوں نے ابھی ابھی حلف اٹھایا ہے جس کی روشنائی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی اور وہ جشن جی ٹی روڈ کے لئے سرگرداں ہیں۔

ہمارا ذہن نارسا سوچتا ہے کہ کب تک ہم جشن جی ٹی روڈ پر جابجا عدالت عالیہ کی بے حرمتی دیکھتے رہیں گے۔ کب تک ہم اپنی افواج کے سرفروشوں کی تذلیل دیکھتے رہیں گے۔ کب تک ہم اپنے ملک کی پسماندگی کی تصویر دیکھتے رہیں گے۔ کب تک ہم پاکستان کے عوام کا خون پسینہ سے کمایا ہوا ٹیکس ناجائز استعمال کے تنور میں دیکھتے رہیں گے۔ ملک کے عوام کب تک ناانصافیوں کے جشن کی قندیلیں شمار کرتے رہیں گے اور کب تک ہم اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے:

ابھی لبوں پہ حکایات خون چکیدہ سہی
بہ سینہ رہ سپرم دست و پا بریدہ سہی