نواز شریف احتجاج میں مصالحت کے راستے پر

نااہل وزیراعظم نوازشریف کا الٹا قافلہ لاہور پہنچ چکا ہے۔ الٹا اِن معنوں میں کہ سیاسی جماعتوں اوراقتدار کے خواہش مندوں کے تمام قافلے اسلام آباد کی طرف جاتے ہیں کہ یہ شہر اقتدارکا مرکز اور وفاق کا دارالحکومت ہے لیکن نوازشریف کا قافلہ اسلام آباد چھوڑ کر لاہور کی طر ف آیا ہے۔ ابھی تک کسی کو نہیں معلوم کہ اس قافلے کی منزل کیا ہے اور اس تھکا دینے والی مشق کا مقصد کیا ہے۔

سخت گرمی  کے موسم میں یہ اپنے حامیوں اور کارکنوں کا اذیت ناک امتحان تھا کہ نوازشریف اور اُن کے وزرا تو ایئرکنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھے رہے جبکہ سخت ترین موسم میں سڑکوں پر وہ غریب عوام تھے جو گزشتہ چار سال کے دوران اپنے قائد سے ہاتھ بھی نہیں ملا سکتے تھے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی حکمران جماعت احتجاجی مارچ کر رہی ہے اور وزیراعظم اور وزرا اس احتجاجی قافلے کو رخصت کر رہے ہیں۔ گویا یہ احتجاج کم از کم وفاقی حکومت کے خلاف نہیں۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اسی جماعت کی حکومت ہے اور احتجاجی قافلے کے قائد میاں نوازشریف کے چھوٹے بھائی یہاں گذشتہ دس سال سے برسراقتدار ہیں۔ صوبائی وزرا کی جانب سے لاہور شہر کو نوازشریف کی حمایت میں لکھے ہوئے بینرز اور ہورڈنگز سے بھر دیا گیا ہے۔ ایک صوبائی وزیر زعیم قادری قافلے کے ساتھ آئے ہیں گویا یہ احتجاج صوبائی حکومت کے خلاف بھی نہیں۔ یہ بات ویسے بھی عقل کے خلاف ہے کہ حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگ اپنی ہی حکومتوں کے خلاف احتجاج کریں۔ یقینی طور پر نوازشریف کا احتجاج عدلیہ اور فوج کے خلاف ہے لیکن وہ کھل کر اپنے اہداف کا نام نہیں لے رہے۔ اُس کی وجہ کچھ تواُن کے اندرونی تحفظات اور ذاتی و خاندانی خوف ہیں اورکچھ یہ خدشہ بھی کہ ان دونوں یا دونوں میں سے کسی ایک ادارے کے خلاف محاذ آرائی ایک خطرناک کھیل ہے، جس کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔ اورسب کچھ ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔

دراصل مسلم لیگ نون اور حکومت عملی طور پر کوئی چیز نہیں ہے۔ جو کچھ ہیں نوازشریف ہیں، وہی حکومت وہی جماعت، وہی لیڈراور وہی فیصلہ ساز۔۔۔  وہ خود نفسیاتی طور پر بہت سی تقسیم کا شکار ہیں۔ تجربات، حادثات، نشیب و فراز اور مفادات و خدشات نے انھیں ایک گنجلک انسان بنا دیا ہے۔ وہ ملک و قوم کے لیے بہت سے مثبت خواب اپنی آنکھوں میں رکھتے ہیں، مگر ساتھ ہی انہیں اپنے اور اپنے خاندان کے کاروباری مفادات بھی عزیز ہیں۔

وہ ایک ہی وقت میں تمام دینی حلقوں سے بہترین روابط میں ہیں۔ تبلیغی جماعت کے حاجی عبدالوہاب، جامعہ اشرفیہ کے مولانا عبدالرحمان اور مولانا فضل رحیم اور جامعہ نعیمیہ کے مفتی محمد حسین نعیمی سے راغب نعیمی تک ان کی نیاز مندی اور عقیدت موجود ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ ممتاز قادری کو پھانسی دینے میں عوامی و دینی حلقوں کے دباؤ کے باوجود کوئی تاخیر نہیں کرتے۔ وہ ایک ہی وقت میں جنگجو اور صلح جو ہیں، ایک ہی وقت میں طبل جنگ بجا رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی سمجھوتے اور مفاہمت کی کوشش بھی جاری رکھتے ہیں۔ وہ اداروں پر دباؤ ڈال رہے ہوتے ہیں اور اُن سے معاملات بھی بہترکر رہے ہوتے ہیں۔ گویا وہ ایک ہی وقت میں سیاست دان اور کاروباری ہیں۔ کبھی سیاست دان کی طرح حملہ آور ہوتے ہیں اور کبھی ایک کاروباری شخص کی طرح بچھ جاتے ہیں۔ آج بھی اُن کی یہی صورت ہے۔ وہ اب تک کھل کر نہیں کہہ رہے کہ اُن کی تحریک کس کے خلاف ہے۔ اُن کا ہدف کون ہے، کیونکہ جن کو وہ دباؤ میں لانا چاہ رہے ہیں، اُن ہی سے مفاہمت کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ شیخ رشید نے کہہ دیا ہے کہ نوازشریف ریلی کے ساتھ چور دروازے سے مذاکرات بھی کررہے ہیں۔

نوازشریف کی ریلی کتنی کامیاب رہی ہے اورکیا نتائج دیتی ہے یہ آنے والے وقت میں پتا چلے گا مگر جس ریلی کی منزل اور مقاصد واضح نہ ہوں وہ کیا نتائج دے سکتی ہے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ نوازشریف پانامہ پیپرز کی وجہ سے اس بحران سے دوچار ہوئے ہیں۔ ان پیپرز میں براہِ راست اُن کا نام نہیں ہے۔ تاہم اُن کے بچوں کے نام آئے ہیں۔ اُن کی نااہلی پانامہ پیپرز کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک اثاثہ ڈکلیئر نہ کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ لیکن اگر پانامہ پیپرز کا پنڈورا بکس نہ کھلتا تو یہ معاملہ بھی دبا رہتا اور دوسرے ملک کے اقامے بھی ظاہر نہ ہوتے۔ نوازشریف کو اس حال پر پہنچانے والی بنیادی چیز پانامہ پیپرز ہیں۔ جن میں 436 دوسرے پاکستانی افراد کے نام شامل ہیں۔ ان میں سیاست دان، تاجر، بیوروکریٹ، جج اور کچھ سابق فوجی بھی شامل ہیں۔ ان پیپرز کی وجہ سے نوازشریف کو بدترین صورتِ حال سے گزرنا پڑ رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اب تک یہ مطالبہ کیوں نہیں کر رہے کہ پانامہ کے باقی کرداروں کو بھی منظرعام پر لایا جائے۔ اُن کے خلاف بھی تفتیش اور تحقیق کی جائے۔

یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کا جواب وہی ہے کہ وہ طبل جنگ بجانے کے باوجود مفاہمت اور سمجھوتہ کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر وہ سراج الحق کی طرح پانامہ کے باقی کرداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیں تو ایک بڑی عوامی قوت ہونے کی وجہ سے اُن کا یہ مطالبہ آسانی سے تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس صورت میں پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، پاکستان کی تاجر برادری، صنعت کار، ججز اور جرنیلوں سمیت اشرافیہ اُن کے خلاف ہو جائے گی۔ کیونکہ ان کے نام پانامہ پیپرز میں موجود ہیں۔ نوازشریف انہیں ناراض نہیں کرنا چاہتے بلکہ اپنے اور اپنے خاندان کے بچاؤ کے لیے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

عوامی قوت بھی وہ اسی مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی سیاست کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ مصلحت اور منافقت سے باہر آئیں۔ پانامہ کے تمام کرداروں کو انجام تک پہنچانے کے لیے آگے بڑھیں۔ اس میں ملک و قوم کا فائدہ ہے۔ لیکن نوازشریف ایسا نہیں کریں گے۔ کیونکہ اس میں اُن کے خاندان کو اچھا خاصا رگڑا لگ جائے گا!