بتاؤ مجھے نا اہل کیوں کیا!

نواز شریف کی ریلی کامیاب رہی یا ناکام۔ اس سوال کا جواب تو بہت جلد سامنے  آجائے گا لیکن اسلام آباد سے لاہور تک نواز شریف  اپنے ہر خطاب  میں ایک ہی سوال کو بار بار دہراتے رہے کہ  ’’بتاوُ مجھے نااہل کیوں کیا‘‘۔ اس کے علاوہ  وہ سپریم کورٹ کے ان پانچ ججوں کو مسلسل ہدف تنقید بناتے رہے جنہوں نے انہیں ’نااہل‘ قرار دیا تھا ۔ میں نے چار اگست کو ایک مضمون ’’ نواز شریف نااہل ، چمک کا کمال‘‘ لکھا تھا ، نواز شریف کے اس سوال کہ ’’بتاوُ مجھے نااہل کیوں کیا‘‘ کا  جواب کافی حد تک اس مضمون کے پہلے پیرگراف میں موجود تھا۔

میں نے لکھا تھا کہ’’ نااہل ہونےکے بعد اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کا  کہنا تھا کہ ’’مجھے فخر ہے کہ میری نااہلی کی وجہ کرپشن نہیں ہے‘‘۔ میں بھی   نواز شریف کی اس بات سے پورا  اتفاق کرتا ہوں کہ واقعی  نواز شریف کو کرپشن کی بنیاد پر نااہل قرار نہیں دیا گیا  بلکہ میرا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ نواز شریف کی خواہش پر ہوا ہے۔ اگرفیصلہ واقعی کرپشن کی بنیاد پر ہوتا  تو اس وقت نواز شریف کم از کم دس سال کےلیے کسی جیل میں ضرور ہوتے۔ پھر ایک اور سوال ذہن میں آتا ہے کہ جج صاحبان کوپورے پاناما کیس میں دبئی کا اقامہ اور دس ہزار درہم نہ لینا ہی نواز شریف کی نااہلی کی وجہ لگے اور یہ سوچتے سوچتے مجھے بینظیر بھٹو کا یہ کہنا یاد آجاتا ہے کہ سب ’چمک‘ کاکمال ہے  جومیرے خیالات کی تصدیق کررہا ہے‘‘۔

نوازشریف نے ریلی کے نام پرچار دن  جی ٹی روڈ پر قبضہ  جمائے رکھا۔ لالہ موسی میں بارہ سال کا حامد نامی  ایک بچہ اس ریلی کی وجہ سے جاں بحق  ہؤا۔  انسانیت کا قتل ایسے ہؤا کہ نہ پرٹوکول کی گاڑیاں رکیں اور نہ بچے کو کوئی  ایمبولینس نصیب ہوئی۔ جب یہ خبر جلوس کے قائدین کو ملی تو انہوں نے بھی جلوس کو نہیں روکا۔ نواز شریف نے بچے کے حوالے سے کچھ نہیں کیا۔ اگلا پڑاؤ  گوجرانوالہ تھا۔ صبح ٹی وی پر ان کو پیش کی گئی ڈشز دکھائی گئیں۔ معلوم نہیں نواز شریف کے حلق سے گوجرانوالہ کا ناشتہ کیسے اترا۔  بقول شخصے: ’’مجھے نہ جانے کیوں شوربے کا رنگ لہو کے رنگ جیسا  نظرآرہا تھا لیکن یہ ضروری نہیں  کہ نواز شریف اور ان کے خوشامدیوں کو بھی ایسا ہی نظرآیا ہو“۔ گوجرانوالہ میں خطاب بھی ہؤا اور سوال بھی ہؤا کہ’’بتاوُ مجھے نااہل کیوں کیا‘‘۔ نواز شریف لاہور پہنچے تو نام نہاد انقلابیوں کا انداز اپناتے ہوئے  کہا کہ  مجھے لاہور پہنچنے میں چار دن لگے ہیں۔ پاکستان کا بچہ بچہ سراپا احتجاج ہے(لالہ موسی میں ہلاک ہونے والے بچے حامد کا کوئی ذکر نہ تھا)۔ اچھے کاموں پر کیا وزیراعظم کے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے۔ لوگوں کا جذبہ انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ انقلاب نہ آیا تو غریب ہمیشہ غریب رہے گا، بے روز گار، بے روز گار ہی رہیں گے۔ جبکہ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ نواز شریف ایک بدعنوان حکمران رہے ہیں۔ شریف خاندان  تین نسلوں سے پاکستان کو لوٹ رہا ہے اور غریبوں سے ہمدردی شریف خاندان صرف اپنی تقریروں میں کرتا ہے۔  لیکن  لاہور  میں بھی  نواز شریف کا سوال تھا کہ ’’بتاوُ مجھے نااہل کیوں کیا‘‘۔

نواز شریف کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کوئی کرپشن نہیں کی لیکن پانچ ججوں نے ایک منٹ میں انہیں اپنے عہدے سے ہٹادیا۔ نواز شریف کے بقول  پانچ ججوں نے 20 کروڑ عوام کو نااہل قرار دیا ہے۔ ان کا اس طرح سے ہٹایا جانا کروڑوں ووٹروں کی توہین ہے۔  یعنی نواز شریف یہ دعویٰ کررہے  ہیں کہ وہ تن تنہا 20 کروڑ کے برابر ہیں۔ 2013 کے انتخابات میں کل رجسٹرڈ ووٹر کی تعداد تقریباً 8 کروڑ 42لاکھ تھی جس میں سے نواز شریف کی جماعت کو تقریباً ڈیڑھ کروڑ ووٹ ملے تھے۔ گویا کل ووٹوں کا  17.82 فیصد اور آپ دعویٰ  100 فیصد کا کررہے۔  آپ کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ آپ 20 کروڑ عوام کے نمائیندے ہیں۔ صرف پنجاب میں لوگ آپ کو اپنا لیڈر مانتے  ہیں۔ باقی تین صوبوں میں آپ کتنے مقبول ہیں یہ آپ بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ آج آپ  اپنا ایجنڈا آئین کی بالادستی کو بتارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آپ کے خلاف سازش ہوئی ہے لیکن اعتزاز احسن ہمیں بتارہے ہیں کہ ’’سازش سازش‘‘  کی گردان کرنے والے نواز شریف نے فوج اور کبھی عدلیہ کے ساتھ مل کر چھ بارمختلف وزرائے اعظم اور صدور کے خلاف سازش کی ہے۔ کوئی ایسا نہیں  ہے جو اعتزار احسن کی اس دعوے کی تردید کرنے کو تیار ہو۔ اب بھی آپ کے بارے میں تازہ خبر یہ ہے کہ ’’شریف خاندان کا 17ملین ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے چین بھجوایا  گیا ہے‘‘ ۔ کیا آپ اب بھی کیا یہ سوال کریں گے کہ’’بتاوُ مجھے نااہل کیوں کیا‘‘۔

کوئی مانے یا نہ مانے  مگر میں اس بات پر قائم ہوں  کہ نواز شریف اب بھی  وزارت عظمیٰ اپنے ایک کٹھ پتلی کے زریعے چلارہے  ہیں جو روز صبح اٹھ کر  کہتا ہے کہ میں جو کچھ بھی کررہا ہوں وہ نواز شریف کی سوچ کے مطابق ہے۔  نواز شریف 2018 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو بھاری اکثریت دلانا چاہتے ہیں ، نااہل قرار دیئے جانے سے قبل   نواز شریف اپنی حکومت کی خدمات اور ملک کی ترقی کا ذکراس طرح  کررہے تھے جیسے صرف ان کی جماعت اور خود وہ  ملک کےلیے لازم  و ملزوم   ہیں۔ جبکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی حکومت کے زمانے میں ہی بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیبٹ 800 ارب روپے ہوگیا ہے۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ 30 ارب ڈالر سے زائد ہوچکا ہے۔ غیر ملکی قرضہ جات 80 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ہر پاکستانی ایک لاکھ تیس ہزار روپے کے قریب  کا مقروض ہے۔ بجلی کی پیداوار کےلئے ان کے منصوبے مسلسل  ناکام ہورہے تھے۔ گرمیوں  کے مہینوں میں اور خاص کر اگست میں ملک میں بدترین لوڈ شیڈنگ اور تاجروں کی حمایت کھو دینے کے خوف سے براہ راست ٹیکس وصولی میں ناکامی کے بعد عوام پربالواسطہ ٹیکسز کا بوجھ ڈالا گیا۔ 60  فیصد عوام خط غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں بدترین کارکردگی ۔ کوئی معاشی منصوبہ بندی نہیں۔  تمام تر اخراجات بیرونی امداد کے زریعے۔  پاکستان پانی کی کمی کا شکار ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہونے والا ہے لیکن  اس حوالے سے کسی بھی منصوبہ کا آغاز نہیں ہوا۔

یہ تمام سوالات 2018 کے انتخابات  میں  کئے جائیں گے ۔ ان سوالوں سے بچنے کا حل نواز شریف کے پاس یہی تھا کہ عدالت سے کسی ایسی وجہ پر اپنے آپ کو نااہل قرار دلوا لیں جس میں یہ نہ کہا گیا ہوکہ وہ ایک کرپٹ حکمران ہیں۔ ایسا فیصلہ دیا گیا جو نواز شریف کو سزا سے بھی بچالے اور مظلوم بھی بنادے۔ دو سینیر جج تو اپنا پہلا والا فیصلہ ہی بھول گئے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد  جوکارروائی ہوئی اس  میں وہ شامل نہیں تھے۔ لیکن نواز شریف کی نااہلی کی وجہ تمام ججوں کے مطابق دبئی کا اقامہ  رکھنا اور اپنے بیٹے سے  دس ہزار درہم نہ لینا ہے۔  اب کوئی نواز شریف سے ملک کے مسائل پر سوال نہیں کرے گا لیکن نواز شریف شاید  یہ سوال دہراتے رہیں گے کہ ’’بتاوُ مجھے نااہل کیوں کیا‘‘۔