سیاسی تماشہ چلنے دیں، اس سے گھٹن ختم ہوتی ہے

پاکستان کی 70 ویں سالگرہ پر عالم یہ ہے کہ منتخب وزیر اعظم کی معزولی پر قوم کے جذبات ملے جلے ہیں۔  جن کی پہنچ فیس بک تک ہے ان کی آواز سنو تو لگتا ہے کہ یہ ایک مستحسن اقدام ہے مگر ایسے میں سڑک پر نکلے ان چاردنوں سے ہم رکاب ہجوم کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔ کیا ایک شخص پر فرد جرم عائد کر دینے سے احتساب کا عمل مکمل ہوگیا۔ کیا ستر سالہ تاریخی گناہوں کا کفارہ فرد واحد کی معزولی سے ادا ہو جائے گا۔ نہیں۔

14 اگست کے  موقع پر معزولی کے بعد سے کوئٹہ اور لاہور میں دو دھماکے ہو چکے ہیں۔ ان دھماکوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن کیا ان دھماکوں اور سیاسی شورشوں کو صرف طاقت سے دبا لیا جائے گا۔ ما ضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ ایک منتخب وزیر اعظم کو حکومت نہ کر نے دینے کا نتیجہ ملک  دولخت کرنے کی صورت میں  سامنے آچکا ہے۔ ایک منتخب وزیر اعظم کو تختہ دار پر چڑھانے کے بعد پھیلنے والی مذہبی انارکی بھی زیادہ دور بات نہیں۔ بلکہ اب بھی ہماری جڑیں کھوکھلا کر رہی ہے۔
عدالت قتل کے مقدمے میں انصاف کا قتل کرکے یا بدعنوانی کے مقدمے میں ‘بدعنوانی‘ کرکے وقتی سرخرو تو ہو سکتی ہے۔  انتظامیہ حسب معمول کام جاری رکھ سکتی ہے یعنی bussnines as usual  کہہ کر کام چلا سکتی ہے۔ مگر اندر پکنے والے لاوے کو صرف وہی محسوس کر سکتے ہیں جو ہجوم کے اندر اتر کر دیکھنے کی بصارت رکھتے ہیں۔ 

عوام کی بات سنو تو غم وغصے کا اندازہ ہوگا۔ پھیلی مایوسی کا احساس ہوگا۔ بات ایک فرد واحد کی حمایت کی ہے نہ ایک سیاسی جماعت کی ہے۔ بات سیاسی گھٹن کی ہے۔ بے شمار مقدمے کھلے ہوں لیکن ان پر فیصلے نہ ہوتے ہوں۔ جرم میں ملوث ملزم چکمہ دے کر ملک سے فرار ہوجائیں اور ایسی صورتحال میں جو خود کو عدالت میں پیش کرے اسے میڈیائی ٹرائل سے راندہ درگاہ کیا جانا، مسائل سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ عوامی مینڈیٹ کو تار تار کرنا، عوامی امنگوں کا خوں کرنا، انارکی کو دعوت دینا ،  ملکی سالمیت کو داؤ پر لگانے کے برابر ہے۔ دھرنا ہو یا شہر کا بند کرانا ہم نے دیکھا کہ عین منجھدار میں چھوڑ کر، جاؤ ڈوبو میری بلا سے کہہ کر سیاست سے کنارہ کش ہونے والے رہنما نہیں بلکہ صرف گمراہ کرنے والے ہوتے ہیں۔

سیاست مفاہمت اور ڈائیلاگ کرنے کا نام ہے۔ ڈیڈلاگ اور تعطل تو پٹڑی سے ٹرین اتارنے کی وجہ بنتے ہیں۔ اور پٹڑی سے اتری ٹرین کبھی بھی درست حالت میں واپس ٹریک پر نہیں آتی۔ آئین کو توڑ کر ملک میں جمہوری راہ کو مسدود کرنا، ملک کی منتخب حکومت کو راتوں رات طاقت کے بل بوتے پر فارغ کر دینے کے نتیجے میں ملک کے اندر پھیلنے والے خلفشار اور بیرون ملک  تماشہ بننے  سے ملک کو کس قدر نقصان پہنچ رہا ہے، اس کا اندازہ کیجئے۔ اس کے دور رس نتیجے کو مت نظر انداز کیجئے۔ ماضی کو پلٹ کر دیکھئے کہ کیا ہجوم کو ہمراہ لئے کسی کو غدار کہہ کر ہم نے کچھ حاصل کیا یا بہت کچھ کھو دیا۔ بپھرے ہجوم پر طاقت آزمائی حالات کو  صرف خراب کرتی ہے۔  آج بنگلہ دیش بننے کی ذمہ داری ایک سیاست دان کے اس غیر مصدقہ  بیان پر  ڈال دینے سے کیا ہو گا۔

 ہم نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا اور سانحوں کے بعد بھی ملک کو ٹوٹ پھوٹ کی راہ پر چلنے دیا۔ کل بھی خدانخواستہ کچھ ہوگا تو ہم کسی اور سیاستدان کے کسی اور بیان کو وجہ بناکر اس  کی تاویل  پیش کرنے کوشش نہ کریں۔ اسی لئے آج مفاہمت کا راستہ اپنائے۔ سیاست بہت بری چیز ہے۔ سیاست کرنے والا بھی بہت چکرباز ہے۔ مگر اس مداری کے ہاتھ میں وہ ڈگڈی ہے جس پر صرف بندر نہیں ہجوم سانسیں روکتا ہے اور سانسیں چھوڑتا ہے۔ اور کھیل تو ڈگڈگی کے بغیر ممکن ہے نہ مداری کے بغیر۔ کھیل تماشے بھی ضروری ہیں۔ ورنہ گھٹن ہوگی۔ جب شہر بند ہونے اور دھرنے کے کھیل نہ رہیں گے تو کیا ہوگا۔ بہتر ہے دوسرے کھیل تماشے ہی ہوتے رہیں، ناٹک اور نوٹنکی ہو۔ ایسے کھیل تماشے ڈرائینگ روم کی صاف ستھری پالیسی کی نظر میں کتنے ہی کمتر کیوں نہ ہوں ،  کتنے بےوقعت کیوں نہ ہوں۔ ہجوم اسی کو پسند کر تا ہے۔ 

سیاسی گھٹن صرف تختہ الٹ کر ہی نہیں پیدا کی جاتی بلکہ سیاسی پالیسیوں کی جوڑ توڑ اور ریشہ داوانیوں کے ذریعہ بھی پیدا ہوتی ہے۔ ماضی میں ہمیشہ یہی ہوتا رہا ہے کہ ایسے لوگ سامنے آجاتے ہیں جو اس تعطل اور گھٹن کو سہارا دینے کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کی ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔  مجھے سیاست نہیں آتی نہ ہی سیاسی تجزیہ نگاری میرا مشغلہ ہے۔ نہ میں بازی گری میں نہ ہی مجمع کا حصہ۔۔۔ مگر چوتھی جماعت کے ایک بچے کے سینے پر کشتی کا لگا  سیاسی نشان یا لالٹین سے سجی ڈھاکے کی سڑکیں۔ تین تلوار کا کراچی کا موڑ ہو یا شیر  کی دھاڑ۔۔۔۔۔ سیاست کی اکھاڑ پچھاڑ دیکھتے جوان ہوتے اور بدلتے تیور کا مطالعہ کرتے یہ بات ایماندارانہ طور پر سچ لگتی ہے۔ بعض اوقات مصلحت کی خاموشی بھی جانبدارانہ رویہ ہوتا ہے۔  لہذا علم و شعور اور آگاہی کا فرض ہے کہ خاموش نہ رہا جائے۔