وحشی لوگ اور معصوم لڑکیاں
جب انسان کوئی ایسا جرم کرتا ہے جس سے انسانیت کی روح کانپ جاتی ہے تو وہ اس مجرم کو اتنی سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتا ہے جس سے ہمارے انسانی حقوق پر یقین کمزور پڑ جاتا ہے۔ اور تو اور ہم سعودی عرب جیسے ملک کی مثال دیتے ہوئے اس بات کی مانگ کرنے لگتے ہیں کہ ایسے وحشی انسان کا سر قلم کر دیا جائے یا اس کو سرِ عام کوڑے لگائے جائیں۔
میرا اپنا تجربہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے اور ہم بھی ان ہی لوگوں کی طرح سخت سزا کی مانگ کی حمایت کرتے ہیں۔ ایسی دل دہلا دینے والی خبروں کو سننے کے بعد میرا ضمیر بھی جاگ اُٹھتا ہے اور ان لوگوں کی طرح اس بات کا مطالبہ کرنے لگتا ہے کہ اس مجرم کو یا تو مار ڈالا جائے یا اسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ تاہم برطانیہ میں رہتے ہوئے انسانی حقوق کے حمایتی کے طور پر اپنے جذبات اور ایسی سوچ کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی احساس ہوتا ہے کہ آخر کیوں ایسے جرائم ہوئے اور ان لوگوں کا پسِ منظر کیا ہے۔
پچھلے دنوں برطانیہ کی ایک عدالت نے 18ایسے مرد اورعورتوں کو سزا سنائی جنہوں نے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ منشیات اور شراب دے کر جنسی تعلقات قائم کئے تھے۔ ان میں زیادہ تر لوگوں کے نام مسلمانوں والے ہیں اور یہ برطانیہ کے مشہور شہر نیو کاسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ زیادہ تر لڑکیوں کی عمر کم تھی جن میں کئی 14سال اور اس بھی کم عمر کی تھیں۔ 2011 میں پولیس کو ایسی شکایت ملی جس میں یہ اطلاع دی گئی کہ مردوں کا ایک گروپ جن کا تعلق ہندوستان، پاکستان، عراق، ایران اور ترکی سے ہے اور جن کی پیدائش برطانیہ میں ہوئی ہے اس طرح کے جرائم کر رہے ہیں۔ پولیس کو اس شکایت کو جاننے اور ان لوگوں کو گرفتار کرنے میں تین سال کا وقت لگا۔ فی الحال تین لوگوں کو اس جرم میں جیل ہوئی ہے جبکہ باقی لوگوں کو ابھی فیصلہ سنانا باقی ہے۔ پولیس کی کارروائی میں اس بات کا بھی انکثاف ہوا ہے کہ پولیس نے ان مجرموں تک پہنچنے اور سچّائی جاننے کے لئے ایک ایسے سزا یافتہ مجرم کا سہارا لیا جو ایک بچّے کی عصمت دری میں ملوث تھا۔ پولیس ان لوگوں تک پہنچنے کے لئے اس آدمی کو 16310,000 پونڈ کی رقم بھی ادا کی۔
یہ وحشی لوگ اپنی ایک انگریز لڑکی دوست کے ذریعہ ان معصوم اور کم عمر لڑکیوں تک پہنچتے تھے ۔ پہلے یہ لوگ ایک پارٹی کا اہتمام کرتے تھے اور پھر ان لڑکیوں کو شراب اور نشیلی منشیات کے لئے آمادہ کرتے تھے۔ ظاہر سی بات ہے یہ معصوم لڑکیاں ایسے حالات کی ستائی ہوئی ہوتی ہوں گی جن کے والدین یا تو گھریلو جھگڑے سے دوچار ہوں گے یا آزاد ماحول کا فائدہ اٹھا کر ان درندوں کے چنگل میں پھنس گئی ہوں گی۔ یہ درندے پہلے تو ان لڑکیوں کو نشیلی منشیات یا شراب فراہم کرتے اور جب وہ اپنے ہوش و حواس کھو دیتی تو پھر ان معصوم لڑکیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا جاتا۔ یہ معصوم لڑکیاں منشیات اور شراب کی عادت اور لالچ میں آکر ان وحشیوں سے بار بار ملنے جاتیں جہاں یہ درندے اپنی جنسی پیاس کو بجھاتے جس کا شاید ان معصوم لڑکیوں کو اس وقت علم بھی نہ ہوتا تھا۔
پولیس کو شمالی برطانیہ میں لگ بھگ 703ممکنہ شکایتیں موصول ہوئی ہیں ۔ پولیس نے اب تک اس معاملے میں461 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور ایسے لوگ پورے ملک میں معصوم لڑکیوں کو منشیات اور شراب کا لالچ دے کر اپنی ہوس کا شکار بنا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس کے مجرموں کو پکڑنا اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ اس میں ملوث لڑکیاں یا تو اپنے بیتی ہوئے کل اورغلطی کو دہرانا یا اس کا اظہار کرنے میں شرمندگی محسوس کرتی ہیں۔ جس سے بہت سارے مجرموں تک پہنچنے میں پولیس کو دشواری ہو رہی ہے۔
ایک لڑکی نے پولیس کو جب اپنی کہانی سنائی تو پولیس کو مجرم تک پہنچنے میں کافی وقت لگا۔ کیونکہ پولیس کو مجرموں کو کورٹ لے جانے کے لئے ثبوت کی ضرورت تھی جس کے لئے پولیس ہر کیس کی ہوشیاری سے تفتیش کرتی ہے۔ 2014 میں جب اس لڑکی نے پولیس سے جنسی زیادتی کی شکایت کی اور عبدل مینوئی کا نام بتایا تو پولیس نے اس لڑکی کو شہر کے کئی مقامات کی سیر کرائی تاکہ پولیس جان سکے کہ کس علاقے میں عبدل مینوئی رہائش پزیر تھا۔ اس کے علاوہ اس بات کو بھی پولیس جاننا چاہتی تھی کہ وہ کون سے مقامات تھے جہاں یہ وحشی مرد پارٹیاں کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی لڑکیوں نے اسی طرح کے شکایت کی اور پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ چند ایشیائی مردوں نے انہیں شراب اور منشیات فراہم کرکے ان کے ساتھ زبردستی کی اور جب وہ اپنی پیاس بجھا لیتے تو انہیں رقم بھی ادا کرتے۔ ان لڑکیوں نے یہ بھی بیان دیا کہ یہ وحشی مرد ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد تشدد بھی کرتے تھے۔
ان درندوں کے بارے میں نہ تو میرا کوئی تفصیل لکھنے کو جی چاہ رہا ہے اور نہ ہی ان کے متعلق کوئی بات کرنے کا ارادہ ہے ۔ لیکن پھر بھی ہم ان درندوں کا نام آپ کو ضرور بتائے گے۔ ان وحشیوں کے نام محمد اعظم، جہانگیر زماں، نصیرالدین ، سیفل اسلام، محمد حسن علی، یاسر حسین، عبدل صابے، حبیب الرحیم، بدرالحسین، محیب الرحمٰن، عبدا لحمید مینوئی ، منجور چودھری، پربھات نیلی، عیسیٰ موسوی، تحرول عالم، ندیم اسلم اور ردوان صدیقی ہیں۔ ان میں زیادہ تر مسلم ناموں کو پڑھ کر ہر کسی کے ذہن میں پہلا سوال یہی آئے گا کہ ’ ایشیائی مسلم لوگ‘ وحشی ہوتے ہیں ۔ تبھی تو ان وحشیوں نے معصوم گوری رنگت والی لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ اور یہ سچ بھی ہے کیونکہ جب یہ خبر اخباروں کی سرخیوں میں آئی اور ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے لگی تو کچھ پل کہ لئے یہی محسوس ہوا کہ ہمارا سر صرف جھُک نہیں گیا بلکہ راہ چلتے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ہر انگریز کی نگاہ میں ہم گنہگار ہیں۔
یہ تو ہماری خوش قسمتی ہے کہ برطانیہ ایک تہذیب یافتہ اور رواداری والا ملک ہے جس سے یہاں کے لوگوں میں پل بھر کے لئے غصّہ تو آتا ہے لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کام کے لئے پوری مسلم کمیونٹی یا ایشیائی لوگوں کو بدنام کرنا درست نہیں ہے۔ ٹیلی ویژن پر البتہ اس مسئلے پر بحث ضرور ہوتی رہی ہے۔ جس میں سیاستداں ، دانشور طبقہ اور ماہرین اس بات پر بحث کرتے رہے ہیں کہ سماج میں ایسی برائی کو ختم کرنے اور روکنے کے لئے کس طرح ایک پیلیٹ فارم پر جمع ہو کر اس کا حل تلاش کیا جائے۔
نیوکاسل شہر میں جن نام نہاد مسلمانوں اور غیر مسلموں نے اپنی جنسی پیاس کو بجھانے کے لئے ان معصوم اور گوری رنگت والی لڑکیوں کو نشانہ بنایا انہیں ہمارمذہب اور سماج بھی کبھی معاف نہیں کرے گا۔ ہم یہی چاہیں گے کہ عدالت ایسے وحشیوں کو سخت سے سخت سزائیں دے تاکہ آئندہ ہمارے سماج میں کسی معصوم لڑکی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔