آئین کا احترام ضروری ہے

مشہور کہاوت ہے کہ چت بھی میری اور پٹ بھی ۔ موجودہ دور میں ہمیں تو ہر طرف اس کہاوت کا عملی مظاہرہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یعنی اقتدار بھی اپنے پاس ہی ہے اور احتجاج بھی خود ہی کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اپنی رہی سہی عزت کو سنبھالنے کی کوشش میں کیا جا رہا ہے۔ یہاں جماعت کی عزت بھی فرد واحد کی عزت سے  مشروط ہے۔ اگر جناب گئے تو پھر جماعت بھی گئی۔

دراصل یہی پاکستانی سیاست کا خاصہ ہے یعنی سیاسی جماعتیں کسی بھی سول ڈکٹیٹر کے سایہ میں ہی پلتی بڑھتی ہیں اور جب یہ صاحب کچھ زیادہ ہواؤں میں اڑنا شروع کرتے ہیں، تو  اصلی ڈکٹیٹرز حرکت میں آجاتے ہیں۔ مگر اس بار یہ سمجھنا ذرا مشکل  ہے کہ کیا واقعی ڈکٹیٹرز حرکت میں آئے ہیں یا پھر آپ کے اپنے کرتوت کھل کر ساری دنیا کہ سامنے آگئے۔  ہمارے ملک میں  ووٹریا عوام اسی وقت یاد آتے ہیں جب یا تو انتخابات کا دور دورہ ہو یا پھر قانون جاگ جائے اور کوئی ایسا فیصلہ سنا دے جس میں صاحب اقتدار کو نااہل قرار دے دیا جائے۔ اور وہ نااہل سیاست دان یا اعلی حکومتی عہدے دار اس فیصلے کے خلاف ریلیاں نکالنے کیلئے عوام کو بلائے۔ اگر  پاکستان میں قانون کی بالادستی ہوتی تو اس قسم کی ریلی کا کوئی جواز نہیں بنتا جو کہ وزیر اعظم صاحب کو نااہل قرار دیئے جانے پر نکالی جارہی ہے۔ یہ قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ 

نواز شریف کی ریلیوں کا جو مقصد سمجھ آتا ہے وہ یہی ہے کہ فیصلہ ہمیں قبول نہیں ہے اور ہم ایسے کسی فیصلے کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ تین دفعہ کے سبکدوش کئے گئے سابق وزیر اعظم کو اپنے عہدے کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ہوسکا یا یوں کہوں کہ وہ اس عہدے کے ایک بار بھی اہل نہیں تھے۔ ویسے تو پاکستان کا کوئی بھی سیاست دان ملک کے اس اہم ترین عہدے  کا اہل  دکھائی نہیں  دیتا۔  جمہوریت میں منتخب نمائندے اسمبلیوں میں بیٹھ کر ملک کی بقا اور سالمیت کیلئے ، چوری اور بدعنوانی روکنے کیلئے اور ملک کے وسیع تر مفادات کیلئے قانون سازی کرتے ہیں۔ اور مروجہ قوانین میں بہتری کیلئے ترامیم لاتے ہیں ۔  اسمبلی میں موجود نمائیندوں کا فرض ہے کہ وہ جماعتی اور ذاتی مفاد سے بالا ہو کر ملک کی خاطر عوام کی بھلائی کے لئے کام کریں۔ 

اب دبے  لفظوں میں آئین کی شق 62 اور 63 میں ترمیم کی بات کی جارہی ہے۔  یہ وہ آئین ہے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ضمانت ہے اگر اس آئین کو نکال دیا جائے یا اسے توڑ مڑوڑدیا جائے توپاکستان کے آئین سے اور نام سے لفظ اسلامی کو بھی علیحدہ کرنا پڑے گا۔ علامہ اقبال نے بہت واضح الفاظ میں کہا تھا کہ جدا ہوسیاست دین سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ ہمارے ملک میں آج تک سیاست اور دین پر مشتمل حکومت قائم ہی نہیں ہوسکی۔ جس سے یہ پتہ چلانا مشکل نہیں ہے کہ ہم پاکستانی کس قسم کی ریاست چاہتے ہیں۔  پاکستان کو اس وقت ایسی سوچ سے دور رکھنا ہے جس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہو کہ کوئی فرد یا جماعت آئین سے بالاتر ہے۔ اور اپنے ذاتی مفادات کیلئے آئین کااستعمال کر سکتی  ہے۔ یہ ملک کے اتحاد کے لئے ضروری ہے۔

کیا اسے ہم خودغرضی کی انتہا نہیں کہہ سکتے کہ جو قانون آپ کا راستہ روکے یا آپ کو بدعنوانیوں سے روکے  تو آپ اسے مشکوک ثابت کرنا شروع کردیں۔  یہی نہیں بلکہ عوام کو بھی ورغلائیں اور آئین سے تصادم کی سازشیں شروع کردیں۔ اسے کیوں کر حبالوطنی اور عوام کی خدمت کہا جائے گا۔