معاشی بدحالی اور حکومتی دعوے

پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ معاشی بدحالی سے نمٹنا اور  کر ملک کو  ترقی اور خوشحالی کے راستے پر ڈالنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے  ریاست ، حکومت اور ادارہ جاتی سطح پر موجود ترجیحات کا جائزہ لیں تو اس میں  سیاسی اور معاشی نعرے تو نظر آتے ہیں مگر عملی صورتحال کافی بگاڑ کا شکار ہے ۔  حکومت اور اس کے  ماہرین  معاشی صورتحال کے اعداد وشما ر کو ترقی کے تناظر میں پیش کرتے ہیں ۔ مگر حقائق حکومتی دعوؤں کے برعکس ہیں اور یہ صورتحال  حکمرانوں  اور عوام  کے درمیان بداعتمادی پیدا کرتی ہے ۔

معاشی امور پر تحقیقی کے انداز میں کام کرنے والا ایک بڑا تھنک ٹینک ’’ پرائم انسٹی ٹیوٹ ‘‘ اسلام آباد نے حکومتی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے اپنا نواں سکور کارڈ جولائی میں جاری کیا ہے ۔  تحقیقی امور پر ترقیاقی اور معاشی موضوعات پر کام کرنے والے علی سلمان اس ادارہ کے سربراہ ہیں ۔ یہ ادارہ عملی طو ر پر حکومت کی معاشی پالیسیوں کو جانچتا ہے ۔ میں ذاتی طور پر ان کی صلاحیتوں کا معترف ہوں اور کافی برسوں سے ان کے کام  سے آگاہ رہا ہوں ۔ اس رپورٹ کے مطابق 2017 کے پہلے نصف میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کی کارکردگی باالخصوص معاشی احیا کے ضمن میں کمزور رہی ہے ۔

اس رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے اپنے انتخابی منشور میں جو 89 وعدے کیے تھے ان میں سے اب تک صرف 6 وعدے ہی پورے کیے جاسکے ہیں ۔اس کے مقابلے میں حکومت نے ان میں سے  10اہداف پر تو کام تک شروع نہیں کرسکی ، جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اور  7 ایسے اہداف ہیں جن میں کچھ پیش رفت ہوئی مگر آگے جاکر اسے نظر انداز کردیا گیا ۔ اس رپورٹ میں پرائم انسٹی ٹیوٹ نے معاشی احیا کو 10میں سے 4.66 کا سکور دیا ہے ۔ اس ناکامی کا  سبب غیر ترقیاتی اخراجات ہیں ۔ حکومت عملی طور پر سرکاری کاروباری اداروں کے نقصانات میں کمی لانے اور گردشی قرضے کو نمٹانے میں ناکام رہی ہے ۔ جو  401 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ جس شعبہ میں حکومت برے طریقے سے ناکام ہوئی وہ انضباطی (ریگولیٹری ) ماحول ہے ، جسے دوسری مرتبہ 10میں سے صفر سکور ملا ہے ۔ ٹیکس اصلاحات، زرعی پالیسی اور علاقائی تجارت کے پھیلاؤ کے شعبہ میں بھی حکومت کوئی بہتری لانے میں ناکام رہی ہے۔ البتہ سرمائے او رمالیاتی مارکیٹوں (کیپٹل اینڈ فنانشل مارکیٹس) سے متعلق اصلاحات میں اس کی کارکردگی بہتر رہی ۔

وفاقی اور پنجاب حکومت کا سب سے بڑا دعویٰ توانائی کے منصوبوں میں بہتر کے دعوے ہیں ۔ پرائم انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق توانائی کے شعبہ میں 10میں سے 5.43 سکور دیا گیا ہے ۔ اس کی پشت پر کوئلے اور ایل این جی کے ٹرمینلز کا قیا م اور چین پاکستان راہداری کے تحت توانائی کے متبادل زرائع سے متعلق جاری منصوبوں میں کچھ پیش رفت نظر آتی ہے ۔ تاہم انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ  نیپرا ( نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ) کو اس کی خود مختاری سے محروم کیا جارہا ہے اور اس پر صوبدایدی ضابطے کو لاگو کیا جارہا ہے ، آگے جاکر اس کے منفی نتائج مرتب ہوں گے ۔

پرائم انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ علی سلمان کے بقول حکومت نے ابتدائی طو ر پر کچھ کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد مضبوط معاشی پالیسیوں میں پسپائی اختیار کی تھی۔ حکومت عملی طور پر اس موقع کو کھوچکی ہے جو اسے اسمبلی میں اکثریت کی صورت میں ملا تھا۔ یہ سب جانتے ہیں کہ نئے انتخابات 2018 سے قبل یہ حکومت کا آخری برس ہے تو ہمیں اب معاشی بہتری کے معاملات میں حکومت سے کسی سنجیدہ عمل کی توقع نہیں کرنی چاہیے ۔ البتہ اس بات کا امکان ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کرے گی جو ووٹروں کی سیاست پر اپنا کچھ اثر ڈال سکے  تاکہ نتائج کو اپنے حق میں کیا جاسکے ۔ البتہ 2013 کے انتخابات کے بعد سے حکومت کا مجموعی سکور  3.66 میں بہتری آئی اور یہ بڑھ کر 5,.05 تک پہنچ گیا ہے یعنی چار برسوں کا اوسط 4.50 بنتا ہے ۔

یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود  معاشی پالیسیوں میں بہتری کے نتائج حاصل نہیں کیے جس کا دعویٰ  انتخابی منشور میں کیا گیا تھا ۔ حالانکہ  وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے پوچھیں یا سابق وزیر اعظم نواز شریف اور شہباز شریف سمیت پلائنگ کمیشن اور دیگر اداروں کی دعوؤں ، تقریروں سمیت ان کی کارکردگی پر مبنی رپورٹس میں کہا جاتا ہے  کہ  معاشی ترقی ہو رہی ہے۔  سوال یہ ہے کہ حکومتی دعوں پر لوگ اعتماد کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں ۔ کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم سے حکمران طبقہ جھوٹ بول رہا ہے ۔  معاشرے میں امیری اور غریبی یا غربت کے درمیان واضح خلیج بڑھ رہی ہے، اس کے مقابلے میں معاشی ترقی کے دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں ۔

حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ معاشی  ناکامیوں میں  دو نکات پر زور دیتی ہے ۔ اول سابقہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ان کو ورثہ میں ہی بڑی معاشی بدحالی اور بدانتظامی ملی، جو تیزی سے آگے بڑھنے میں رکاوٹ ہے ۔ دوئم وہ حکومتی امور میں حزب اختلاف کے کردار ، دھرنا سیاست ، محاذ آرائی اور حکومتی کشمکش جیسے مسائل کو بنیاد بنا کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کرتی ہے ۔  یہ مسائل بھی اہم ہوں گے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب تک حکمران طبقہ اپنی نااہلی اور ذاتی مفادات پر مبنی سیاست کے معاملات پر ناکامیوں کا اعتراف نہیں کرے گا ، ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے ۔ جس بڑی تعداد اور بھاری شرائط پر قرضے اس حکومت نے عالمی اداروں سے لیے ہیں اس کا مداوا کون کرے گا ۔

جب ہم جمہوری نظام کی بات کرتے ہیں تو معاشی ایجنڈے کو بنانے ، اس پر عملدرآمد کرنے اور ان سے متعلق فیصلے کرنے میں پارلیمنٹ کہاں کھڑی ہے ۔  چین سے بھاری قرضے لیے گئے ہیں ان کی شرائط کیا ہیں۔علی سلمان کے پرائم انسٹی ٹیوٹ نے ابھی تو اس حکومت کے ان  89 اشاریوں کو دیکھا ہے جو معاشیات سے براہ راست تعلق رکھتے تھے لیکن سماجی شعبہ میں جو بدحالی حکومت پھیلارہی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے ۔ تعلیم اور صحت سمیت نئے روزگار پیدا کرنے کے عمل میں بھی جائزہ لیں تو آپ کو بڑی مایوسی ہوگی کہ حکومت کی ترجیحات میں عام اور کمزور طبقہ کہیں بھی بالادست نظر نہیں آتا۔  معاشی امور سے متعلق ماہرین کو یہ بنیادی نکتہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ معاشی اعداد وشمار میں بہت کچھ بہتر بنا کر پیش کرنا نہیں ، بلکہ لوگوں میں بھی یہ یقین دلانا ہوتا ہے کہ ان کی حالت بدل رہی ہے۔ ورنہ کوئی حکومت کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا ۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہماری معاشی پالیسیوں کو ترتیب دینے والوں کا اہداف بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ وہ دوراندیشی کی بجائے روزمرہ معاملات میں کچھ اتھل پتھل کرکے بس معاملات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔ مربوط اور ٹھوس  معاشی بنیادوں پر حکومتیں بڑے فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم نظر آتی ہے ۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ جب بطور حکومت  معاشی پالیسیوں کو ووٹ کی سیاست اور طاقت ور طبقہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا جائے گا تو اس سے  حکومتی ساکھ پر سوالات ضرور اٹھیں گے ۔ کرپشن اور بدعنوانی جیسے معاملات کو نظر انداز کرنا حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے ۔

جب ہمارا حکمران طبقہ اپنی ، اپنے خاندان ، دوستوں اور جماعت کے مفادات کو سامنے رکھ کر حکمرانی کے نظام کو چلائے گا تو اس سے قومی معاشی مفادات ک بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔