غربت، آزمائش یا نظام کی خرابی

غربت ، کہ جس کو دنیا بھر میں تمام برائیوں کی ماں قرار دیا جاتا ہے۔ اسے ہمارے معاشرے کی اکثریت کسی نہ کسی بنیاد پر آزمائش سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس مغربی یورپ، چین اور مشرق بعید  میں  غربت کو ایک چیلنج سمجھا۔ اسے مذہبی لبادہ اوڑھانے کی بجائے  وہاں ریاستیں غربت کو دیس نکالا دینے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گئی ہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق ہر وہ آدمی انتہائی غریب تصور کیا جاتا ہے جس کی روزانہ آمدنی اوسطاً 1.90ڈالر سے کم ہوتی ہے۔ اس پیمانے کے مطابق اس وقت دنیا میں مجموعی طور پر 2.4 ارب لوگوں کی آمدن اس شرح سے کم ہے۔ اقوام متحدہ کے حالیہ سروے کے مطابق دنیا کے 80 کروڑ لوگوں کو بمشکل ایک وقت کا کھانا ملتا ہے جبکہ پاکستان کی انتالیس فیصد آبادی ابھی بھی خط غربت سے نیچے گزارہ کرنے پر مجبور ہے۔ لیکن ریاستی اشرافیہ بڑی حد تک مذہبی بیانیے کو سہارا بنائے ہوئےہے۔ وہ  اپنی سیاسی و معاشی روزافزوں ترقی  کے دعوے کرتی ہے اور ایک غالب اکثریت کو محض امید فردا کے سہارے چھوڑا ہؤا ہے۔ جو شاہ ولی اللہ کے مطابق حیوانی سطح پہ زندگی کاٹنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔  بدقسمتی سے اس "کار خیر" میں "ریاستی اشرافیہ" کے کندھے سے کندھا ملانے والی قوتوں میں "مذہبی اشرافیہ" کا بھی کلیدی کردار رہا ہے۔ اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو مذہبی سیاسی قوتوں کی تان سود کے خاتمے اور صدقات و خیرات ادا کرنے سے  آگے نہیں جا سکی۔ حتیٰ کہ جب پچاس کی دہائی میں پاکستان سے جاگیرداری نظام کے خاتمےکےحوالے سے تحریک چلی تو انہی مذہبی طاقتوں نے "انجمن تحفظ جاگیرداراں" کا کاسہ لیس بننے میں دیر نہ لگائی۔ اس طرح ساری اصلاحات فتوؤں کی نذر ہو گئیں۔ جنرل ضیاء کے دور میں معاشی اصلاحات تو خیر کیا ہوتیں بس اتنا فرق ضرور پڑا کہ جہادِ افغانستان کے لئے جو امریکی امداد ملتی تھی اس میں سے پورے ڈھائی فیصد رقم زکوات کے نام پر عوام کے لئے مختص ہو جاتی تھی۔ رھے نام اللہ کا۔

اگر ترقی یافتہ ممالک کی ایک فہرست مرتب کی جائے تو اس نتیجے پر پہنچنا دشوار نہیں ہوگا کہ ان تمام ممالک میں کوئی ایک معاشی نظام رائج نہیں بلکہ مختلف نظام ہائے معاشیات کے تحت ترقی کے زینے طے کئے جا رہے ہیں۔  بعض صورتوں میں تو دو مختلف ملکوں میں بادی النظر میں دو متصادم نظام بھی رائج ہیں لیکن پھر بھی نہ تو ان کے معاشی اشاریے منفی ہیں اور نہ ہی عوام کے معاشی طرز زندگی میں کوئی خاص فرق ہے۔  دیکھا جائے تو اگر یورپ و امریکہ میں سرمایہ دارانہ نظام رائج ہے  تو بلامبالغہ روس اور چین کے نظام مکمل طور پر اس کی ضد ہیں۔ لیکن دونوں دنیاؤں کے لوگ ترقی یافتہ بھی ہیں اور ان کے ممالک کا شمار دنیا کی طاقتور ترین معیشتوں میں بھی ہوتا ہے۔ اسی لئے شاید یہ مباحث اتنے اہم نہیں ہیں کہ معاشی ترقی کے لئے کون سا ایک نظام کارگر ہے۔ اگر سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ترقی ممکن ہے تو سوشلزم و کمیونزم بھی ترقی کی ضمانت ہیں۔ ان دو متصادم نظام ہائے معاشیات کے عملی نمونے آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ شرط یہ ہے کہ  وہ نظام ، معیشت جیسے پچیدہ ترین امور کو سنبھالنے اور ان سے عہدہ برآہ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

پاکستان میں کبھی سوشلسٹ انقلاب کو معاشی ترقی کی کنجی قرار دیا جاتا ہے تو کبھی اسلامی نظام معیشت کو۔ کبھی اسلام اور سوشلزم کے امتزاج پر مباحث و مذاکرے تو کبھی سرمایہ دارانہ نظام ہی حرف آخر قرار پاتا ہے۔ دوسری طرف تاریخی پس منظر میں قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں پاپائیت کے دورمیں امورِسیاست و معیشت مکمل طور پر  چرچ کے زیر اثر تھے، وہ معاشی استحصال کے حوالے سے تاریک ترین دور کہلاتا ہے۔ یعنی نظام میں مذہب کی مداخلت  اس کے پاکیزہ و بابرکت ہونے کی دلیل نہیں۔ اس کے برعکس کئی سرمایہ دارانہ، جاگیردارانہ اور سوشلزم پر مبنی معیشتیں بھی نہ صرف  عوام کو معاشی انصاف دینے میں ناکام ہوئیں بلکہ سرعت کے ساتھ روبہ زوال بھی ہوئیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ نظام معیشت خواہ کوئی بھی ہو ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ اس کی ترجیحات میں سہرفہرست عوام کی فلاح و بہبُود ہو۔ عوام کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ اجارہ داری کو ختم کیا جائے، معاشی انصاف ہو، ٹیکس کے حوالے سے اصلاحات کی جائیں ، ہیومن ریسورس کیپیٹل کو استعمال کیاجائے، معیشت شفافیت پر مبنی ہو۔  سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک میں سیاسی استحکام ہو۔ نظامِ معیشت سے زیادہ اصولِ معیشت ترقی یا تنزلی کی راہ ہموار کرتے ہیں.