تعلیم عام کرنے کی ضرورت
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعہ 18 / اگست / 2017
- 3659
وقت آن پہنچا ہے کہ اپنے ملک کی خاطر نفرت اور شر انگیز سیاسی و مذہبی حربوں سے جان چھڑالی جائے۔ پاکستان میں پہلی دفعہ کسی بااثر شخصیت کو جواب دہ ہونا پڑا ہے حالانکہ وہ ملک کا وزیر اعظم تھا۔ اس باعث ملک کے سیاسی ماحول میں خوف موجود ہے۔ یہ اندیشہ موجود ہے کہ فوج کا دوبارہ اقتدار نہ سمبھال لے۔
اسی طرح پاکستان کو لاحق معاشی خطرات بھی پریشان کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے اندیشے اپنی جگہ موجود ہیں۔ پاکستان کا سب مستحکم اور باوقار ادارہ فوج ہے جس نے داخلی سطح پر بھی اپنی صلاحیت منوائی ہے اور سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی پوری کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید دہشت گردی کے باوجود پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہے۔ دشمن روز اول سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا تھا۔ جس کی وجہ سے پاکستان کے داخلی حالات کبھی بھی مستحکم نہیں رہے۔ ہم کسی نہ کسی انتشار ذدہ موسم کی ذد میں رہتے ہیں یا پھر کوئی قدرتی آفت ہمیں گھیر لیتی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے تو دہشت گردی کا دیو ہم پر بری طرح سے حاوی ہے۔ آخر ایسی کون سی وجوہات ہیں کہ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی فہرستمیں شامل نہیں ہو سکا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے علم سے منہ موڑ لیا ہے۔ قلم کی جگہ ہتھیاروں نے لے ی۔ دنیا اوپر کی طرف اٹھتی جا رہی ہے اور پاکستان تنزلی کی جانب گامزن ہے۔
دنیا کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ احساس ہوگیا کہ تعلیم وہ واحد ہتھیار ہے جو زندگی کو سہل اور آسان بنانے کیلئے ضروری ہے۔ پاکستان کو وجود میں آئے ستر سال گزر گئے اور ہم آج تک پاکستان کے لئے تعلیمی نظام ہی نہ ڈھونڈ سکے۔ ہم آج تک آئین میں ترامیم کئے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے ملک کے قابل لوگوں کو باہر جانے سے نہیں روک پا رہے۔ ہمیں یہی نہیں پتہ کہ ہمارے ملک کی سرزمین کون اور کن عزائم کے لئے استعمال کر رہا ہے ۔ آخر ان سب نااہلیوں کا ذمہ دار کون ہے ۔ پاکستان کا ہر شہری پاکستان کو اس نہج تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے ۔ انتخابات ہوتے رہے۔ لوگ ہر بار انہی لوگوں کو ووٹ دیتے رہے جو صرف ذاتی مقاصد کے لئے انتخابات میں شریک ہوتے ہیں اور اسمبلیوں میں بیٹھ کر بھول جاتے ہیں کہ ہم کن کے ووٹوں کی بدولت یہاں تک پہنچے ہیں۔ ہم نے علم جیسے زیور سے آراستہ ہونے کی بجائے اسے بھی اتنے مختلف نظاموں میں تقسیم کر رکھا ہے کہ ایک طالب علم دوسرے طالب علم کے تعلیمی نظام سے بالکل بے خبر ہوتا ہے۔ ہم پاکستانیوں نے ہر کام کو کاروبار بنا لیا ہے۔ جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے بھی کسی کاروبار بن چکے ہیں۔
پاکستان کو جب بھی کسی مشکل وقت کا سامنا تھا یا ہوا افواج پاکستان سیسہ پلائی دیوار کی طرح پاکستان کی سلامتی اور بقاء کیلئے موجود رہی ہیں۔ ہماری فوج نے پاکستان کیلئے ہر محاذ پر جنگ لڑی ہے ۔ زلزلہ ہو یا سیلاب یا پھر کہیں تودہ گرجائے یا پھر کسی شہر میں کوئی عمارت گرجائے، پاکستان کی فوج اپنی خدمات کے ساتھ وہاں پہنچتی ہے۔ اس وقت ساری دنیا ہی دہشت گردی کے خلاف بر سرِ پیکار ہے۔ ابھی اسپین میں تازہ واقعہ پیش آیا ہے۔ مگر سب سے زیادہ ہم دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہماری افواج انتھک لگن سے دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف نوعیت کے عسکری آپریشن کئے گئے اور ابھی بھی جاری ہیں۔
اب پاکستان کے استحکام کیلئے سب سے اہم تعلیم کو عام کرنا ہے۔ ہر گھر تک تعلیم کی سہولت پہنچنی چاہئے۔ تعلیم ہی کے ذریعے جوبدہی اور بد عنوان لیڈروں کے احتساب کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔ تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جو ملک سے دہشت گردی کے اسباب ختم کرسکتا ہے۔ تعلیم سے ملنے والی آگاہی ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے۔ پاک فوج ہی کوئی ایسا اپریشن شروع کرے جس سے ملک میں تعلیم عام ہو سکے۔ ایسے لوگوں کو ایسے اداروں کو آگے لایا جائے جو حقیقی معنوں میں تعلیم کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں۔ اور پاکستان کو ایک باشعور پاکستان بنانے کا عزم رکھتے ہوں۔ ان سب کو ایک جگہ اکٹھا کرنا ہے۔ ملک میں ‘آپریشن تعلیم‘ شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک نسل تعلیم یافتہ ہوگئی تو شعور کی بنیاد پر ملک میں دائمی تبدیلی آجائے گی اور پاکستان کسی کا محتاج نہیں رہے گا ۔