بلوچستان اور پاکستان زندہ باد
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 20 / اگست / 2017
- 4724
اس برس پاکستان کا یوم آزادی بڑی شان و شوکت سے منایا گیا اور اس میں سیاسی ، فوجی قیادت کے علاوہ ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے پاکستان سے اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ۔ یوم آزادی سے محبت کا اظہار ہر پاکستانی کا حق ہے۔ کیونکہ غلامی کے مقابلے میں آزادی ایک نعمت سے کم نہیں ۔ آزادی کا احساس اسی کو ہوسکتا ہے جو آزادی کے مقابلے میں غلامی کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہو۔ اس لیے اپنی آزادی کے دن کو منانا ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی۔ بالخصوص ہماری نئی نسل کو سمجھنا ہوگا کہ آزادی کیوں ضروری تھی اوراس کو کیسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
گزشتہ کچھ برسوں سے بلوچستان میں موجود حالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ محرومیوں اور تلخی بھری سیاست نے عوامی حقوق کے حوالے سے مایوسی پیدا کی ہے۔ ریاست اور حکومت کا مقدمہ بلوچستان میں رہنے والے لوگوں میں بہت کمزور تھا۔ مقامی لوگوں کو لگتا تھا کہ ریاست اورحکومت ایک مخصوص ٹولہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر عام بلوچ لوگوں کے حقوق کو بری طرح پامال کرتی ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ ریاست، حکومت اورعوام کے درمیان خلیج بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ۔ بلوچستان قوم پرستوں نے ان محرومیوں کو اپنے حق میں ’’ بطور ہتھیار استعمال کیا، بالخصوص نئی نسل کو گمراہ کیا کہ ہمیں اسلام آباد کے خلاف مسلح جدوجہد یا بغاوت کرنا ہوگی ۔
یہ بات بھی برملا کہی اور لکھی جاتی تھی کہ اب بلوچستان میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانا یا قومی پرچم کو لہرانا، تعلیمی اداروں میں قومی ترانہ بجانا ممکن نہیں تھا ۔ ایسے میں ریاستی و حکومتی ادارے بھی ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوتے تھے جو پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار مختلف طریقوں سے کرناچاہتے تھے ۔ اس سارے کھیل میں نفرت پیدا کرنے میں غیر ملکی ہاتھ بھی نمایاں تھا جس میں بھارت بھی شامل ہے۔ وہ ان لوگوں کی مالی، عسکری اور سیاسی حمایت میں پیش پیش رہا ہے جو ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کرتے رہے ہیں ۔
ہم خود بھی بلوچستان کی صورتحال میں مسلح جدوجہد کرنے والوں کو سیاسی جواز فراہم کرتے ہیں۔ کچھ معاملات حقائق پر مبنی ہیں۔ بعض معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا تھا۔ لیکن ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو داد دینا پڑے گی کہ اس نے تمام معاملات سے نمٹنے میں مختلف سیاسی اورانتظامی حکمت عملیاں ترتیب دیں۔ ابتدا میں لگتا تھا کہ جو حکمت عملیاں اختیار کی جارہی ہیں وہ درست نہیں لیکن اب جو نتائج سامنے آرہے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ چیلنج بڑا ہے مگر حالات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ اس بار بلوچستان میں یوم آزادی کے حوالے سے بلوچستان کی صوبائی حکومت اور مقامی فوجی قیادت نے دو روزہ تقریبات کا شاندار اہتمام کیا ۔ اگرچہ 12اگست کو وہاں خود کش حملہ آوروں نے سرکاری اہلکاروں پر حملہ کرکے کئی فوجی اور سول افسران کو شہید بھی کیا لیکن اس خطرات کے باوجود ان تقریبات کو ملتوی کرنے کی بجائے انعقاد کرکے یہ پیغام دیا گیا کہ ہم اس جنگ سے ڈرنے کی بجائے لڑیں گے۔
بلوچستان کے وزیر اعلی سردار ثنا اللہ زہری ، صوبائی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر انوار کاکڑ اور فوجی قیادت نے مجھ سمیت کئی صحافیوں اور کالم نگاروں کو بھی ان تقریبات میں شرکت کی خصوصی دعوت دی ۔ میرے علاوہ چوہدری غلام حسین ، مظہر برلاس ، حافظ طارق محمود، منصور علی خان ، حبیب اکرم ، بینش سلیم ، حرا شفق، علی عمار یاسر، ناصر اقبال خان شامل تھے۔ جبکہ کئی اور اہم نام دیگر مصروفیات کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکے ۔ یوم آزادی کی پروقار دو روزہ تقریبات بگٹی سٹڈیم کوئٹہ میں سجائی گئی تھیں ۔ اس میں عورتوں ، بچوں بچیوں سمیت مقامی شہریوں نے بھرپورشرکت کی ۔ نہ صرف سٹڈیم میں بلکہ پورے کوئٹہ میں چاروں اطراف پاکستان کا سبز ہلالی پرچموں کی بہار تھی۔ پاکستان زندہ باد کے نعروں گونج تھی جو واقعی متاثر کن تھی ۔
14اگست کو جو یوم آزادی منایا گیا ، وہ محض کوئٹہ تک محدود نہیں تھا ۔ بلکہ مقامی خبروں اور صوبائی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر انوار کاکڑ نے بتایا کہ اسی طرز کی تقریبات ہر شہر میں منعقد ہورہی ہیں ۔ جب ہم نے14اگست کو کوئٹہ شہر دیکھا تو مختلف گلیوں محلوں اور علاقوں سے نوجوان ٹولیوں کی صورت میں جھنڈے اٹھائے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے سڑکوں پر تھے۔ یہ واقعی یوم آزادی کا جشن تھا اور محسوس ہوا کہ واقعی بلوچستان بدل رہا ہے ۔ مقامی صحافیوں کے بقول یہ منظر پہلے ممکن نہیں تھا جو ملک سے اور صوبہ سے ان کی محبت کا بھرپور اظہارتھا۔ خاص طور پر نئی نسل کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سمیت فیملیوں کا بطور خاندان آنا اہم بات ہے ۔
اچھی بات یہ لگی کہ ان تقریبات میں وزیر اعلی بلوچستان ثنا اللہ زہری ، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض ، وزیر داخلہ سرفراز بگٹی ، صوبائی حکومت کے ترجمان انوار کاکڑ، حکومتی وزرا اور مختلف طبقات کے لوگ پیش پیش تھے ۔ وزیر اعلی اور کمانڈرسدرن کمانڈ کا دونوں دن تقریبات میں خود تشریف لانا اور دیر تک بیٹھنا ان کی کمٹمنٹ کو بھی اجاگر کرتا تھا ۔ مجھے اچھا لگا کہ دوسرے دن صوبائی حکومت کی جانب سے پورے سٹڈیم میں موجود لوگوں کی موجودگی میں صوبہ کے اہم شاعروں ، مصنفین ، ادیبوں ، دانشوروں ، گلوکاروں ، اداکاروں اور دیگر شعبہ جات میں اہم نمایاں کارکردگی دکھانے والے مرد و خواتین کو خصوصی ایوارڈ دیئے گئے ۔ یقینی طور پر اگر بلوچستان کو پرامن بنانا اور یہاں سماجی انقلاب لانا ہے تو یہ کلچر کی سطح پر بڑے کام کی صورت میں ہی ممکن ہوگا ۔ میں نے ایوارڈ لینے والوں کے چہرے کے تاثرات دیکھے ، اور جو قومی ترانے سنائے گئے ، نوجوانوں کی ترانوں اور ڈھول پر تھاپ ، محسوس ہوا کہ واقعی بہت کچھ بدل رہا ہے ۔ دس ہزار سے زیادہ لوگوں کی اس میلہ میں شرکت معمولی بات نہیں۔ بہت سے نوجوانوں نے ہمیں براہ راست بتایا کہ کئی برسوں کے بعد اس طرح یوم آزادی منانا اچھا لگ رہا ہے ۔
یوم آزادی کے اس میلہ نے ہمیں احساس دلایا کہ بلوچستان کے لوگ بھی ملک سے محبت کرتے ہیں ۔ مسئلہ سازگار ماحول کی فراہمی اور ڈر اور خوف کا خاتمہ ہے ۔ کیونکہ جب آپ نئی نسل کو تحفظ کا احساس دیں گے تو یقینی طو رپر وہ اس کا اظہا ر بھی کریں گے جو ملک سے محبت کی صورت میں ہوگا ۔ بلوچستان نے مجموعی طور پر اپنے صوبہ میں بڑا خون خرابہ دیکھا ہے ۔ کئی انسانوں کو جرم کے بغیر زندگی سے محروم کیا گیا ، داخلی اور خارجی عناصر بھی اس بربادی کے ذمہ دار ہیں ۔ بلاوجہ اس سوچ کو اجاگر کیا گیا کہ بلوچستان میں نئی نسل بغاوت پر اتر آئی ہے اور اس کا علاج طاقت کے استعمال میں ہے ۔ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے توازن پر مبنی پالیسی اختیار کی ہے تو اس کے بہتر نتائج بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔
کوئٹہ کے اس دورے میں یہ احساس بھی اجاگر ہوا کہ ہم لوگ لاہور میں بیٹھ کر بلوچستان میں ہونے والی تبدیلیوں سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ اور بہت سے معاملات پر روائتی طور پر اپنی فکر کو آگے بڑھارہے ہیں۔ محسوس ہوا کہ بلوچستان اور دیگر صوبوں بالخصوص پنجاب اور اسلام آباد کے درمیان معلومات کے حوالے سے کافی فاصلہ ہے ۔ بلوچستان کے وزیر اعلی اور ترجمان کا ہم لوگوں کو وہاں بلانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں ہونے والی تبدیلیوں پر رائے عامہ کو بیدار کیا جائے۔ بلوچستان تمام تر چیلنجز کے باوجود بہتری کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ اگرچہ ہمیں کئی حوالوں سے کچھ مسائل سنگین نوعیت کے لگے ، جس کا اظہار تحریر کی صورت میں کروں گا مگر جو نئی تبدیلیاں ابھر رہی ہیں اس کو تسلیم کرکے آگے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ یہی مضبوط بلوچستان کی ضمانت بن سکتا ہے ۔