شہر نابینا
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- سوموار 21 / اگست / 2017
- 4316
گجرات کا ملگجا آسمان دیکھ رہا تھا۔ نواز شریف حکومت کے خزانے کو بے دردی سے جشن جی ٹی ایس پر لٹا رہا تھا۔ کارواں رواں دواں تھا لوگ اپنے لیڈر کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھے۔ اس کارواں میں ایک 12 سالہ بچہ ”حامد“ بھی ان کی گاڑی پر پھول نچھاور کرنے کے لئے موجود تھا۔ اس کے چہرے پر عقیدت اور مسکراہٹ لہرا رہی تھی۔ وہ انتظار میں تھا کہ ایک تیز رفتار BMW اس سے ٹکرائی اور دونوں ٹائروں سے حامد کے جسم کو کچلتی ہوئی گزر گئی، سڑک پر خون کے دھبے اور حامد کی مردہ لاش سڑک پر بکھر گئی۔
حامد کے باپ کو دل کا دورہ پڑا اور ایلیٹ فورسز کی BMW کارواں کا حصہ بن گئی۔ اس ہنگام میں ایک ماں کی درد بھری چیخ ابھری اور سیدھا آسمانوں کی طرف لپکی۔ لوگ حامد کی لاش کے گرد جمع ہو گئے، وہ اسے ہسپتال لے جانا چاہتے تھے لیکن بے بس تھے۔ جشن جی ٹی روڈ کے کارواں کے تحفظ کے لئے دو ایمبولینس اور دوسری موبائل ہسپتال موجود تھیں لیکن وہ حامد کی لاش کے لئے نہ تھیں۔ حامد کے والدین نے حامد کے مردہ جسم کو ایک رکشہ میں ٹھونسا اور ہسپتال لے گئے۔ رپورٹ درج کرانے تھانے گئے، تھانے دار اور عملے کو اطلاع مل چکی تھی۔ انہوں نے رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا:
اس سے پہلے بھی تو پیمانِ وفا ٹوٹا تھا
شمشیرِ دل کی طرح آئینہ جاں کی طرح
کہا جاتا ہے کہ وہ BMW پرائم منسٹر ہاﺅس کی گاڑی تھی۔ اس گاڑی میں کون براجمان تھا جس نے ڈرائیور کو بھاگنے کی تلقین دی۔ وفاقی وزیر سعد رفیق نے حامد کی موت کو ”جمہوریت کا پہلا شہید“ قرار دیا۔ رانا ثنا اللہ نے حسب معمول مبہم اور ناکارہ بیان دیا۔ چشم فلک نے ایک اور اندوہناک نظارہ دیکھا۔ ڈاکٹر آصف کرمانی نے بجا کہا ہے کہ ”چشم فلک وہ نظارہ دیکھے گی جو پہلے کہیں نہیں دیکھا گیا“ ہم آپ اتفاق کرتے ہیں ڈاکٹر کرمانی صاحب۔ لیکن ہم سعد رفیق صاحب سے اتفاق کرنے کی جرات نہیں کر سکتے۔ ہم حامد کو جمہوریت کا پہلا شہید کہنے سے قاصر ہیں۔ البتہ ہم سعد رفیق کی خدمت میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ کتابوں میں یا تاریخ میں ایک آدمی کو کہیں بھی جمہوریت کا نام نہیں دیا۔ جمہوریت ایک آدمی کا نام نہیں ہے۔
آپ اس شخص کو جمہوری آدمی کہتے ہیں جس کو عدالت عالیہ نے نااہل قرار دیا ہے۔ عدالت عالیہ قابل احترام منصفوں نے حکم صادر کر دیا کہ وہ نہ تو صادق ہے اور نہ ہی امین ہے۔ جس کے جشن جی ٹی روڈ پر ملکی خزانوں کے کروڑوں بے آواز نچھاور کئے گئے اور جس کے تحفظ کے لئے پرائم منسٹر ہاﺅس کی گاڑیاں، گارڈ، پولیس اور MPA/MNA کی فوج کی فوج صف بند ہے اور بہتوں نے شادی بیاہوں کی طرح نوٹ ہوا میں اچھال اچھال کر لوگوں کو جمع کیا۔ اور چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ بھوکے عوام چیلوں اور گدھوں کی طرح نوٹوں پر پل پڑے۔
اور حامد کی لاش کو ماں کے آنسوﺅں اور باپ کی آہوں کا کفن پہنایا گیا، کارواں چلتا رہا، سرکاری خزانے کی دولت لٹتی رہی، جلسے ہوتے رہے، لیکن جمہوریت کا وہ فرد واحد تقریریں کرتا رہا۔ لیکن اس کی زبان پر حامد کا نام نہ آیا۔ اس کا ذکر نہ ہوا کیونکہ مرنے والا حامد کون تھا۔ وہ ایک نادار باپ کا بیٹا۔ وہ ناقابل توجہ مخلوق کا رکن تھا۔ وہ ایسا بچہ تھا جو جان کی بازی لگا کر ہوا میں اچھالے گئے نوٹوں پر جھپٹنے والوں کے گروپ کا فرد تھا۔ اگر ہم اپنے ادراک کی ساری قوتوں کو مجتمع کرکے غور کریں یہ سارا ماجرہ کیا ہے۔ یہ سارا قضیہ کیا ہے۔ اسلام آباد سے لاہور تک جشن جی ٹی روڈ کا مقصد کیا ہے۔ یہ وہی جماعت ہے جس کی ملک میں حکومت ہے۔ ایک شخص واحد نےاپنی مرضی کا وزیراعظم چنا۔ اپنی مرضی کی کابینہ بنائی۔ جس نے شطرنج کے مہروں کی طرح وزیروں کو براجمان کیا۔ وہ شخص واحد جس نے جی ٹی روڈ کے جشن کے دوران عدالت عالیہ کی کارکردگی کے بخیے ادھیڑے۔ نااہل شخص نے عدالت عالیہ کا حکم ماننے سے انکار کیا۔ اور عوام کو اکسا رہا ہے کہ وہ اس کا ساتھ دیں۔ اُدھر وفاقی وزیر طلال چوہدری صاحب، حامد میر کے ٹاک شو میں گویا ہیں کہ ”نواز شریف جس وقت بھی چاہیں وہ وزیراعظم بن سکتے ہیں“
”یہی کہا تھا میری آنکھ دیکھ سکتی ہے
تو مجھ پہ ٹوٹ پڑا سارا شہر نابینا“