بلوچستان میں بہتری کے امکانات

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی کے مقابلے میں بلوچستان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے ۔ اس کا اعتراف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو عملی طور پر بلوچستان کے داخلی مسائل اور اس کے حل کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا فہم رکھتے ہیں ۔ بلوچستان میں بہتری کوئی آسان عمل نہیں بلکہ ایک مشکل چیلنج تھا ۔ کیونکہ ایک طرف بلوچستان کی صورتحال کے بگاڑ میں داخلی مسائل تھے تو خارجی مسائل و  بیرونی مداخلت نے بھی صورتحال کو گھمبیر کردیا تھا ۔

بلوچستان کی صورتحال کی بہتری میں مختلف فریقین کے درمیان اعتماد سازی بڑا مسئلہ تھا ۔ بلوچستان کے بارے میں مقامی سطح پر ایک یہ تاثر  موجود ہے کہ اسلام آباد اور پنجاب کا طاقتور طبقہ بلوچستان کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ یہ طبقہ بلوچستان کو قومی  تناظر میں ایک ’’ ہتھیار ‘‘ کے طور پر استعمال کرتا ہے اوراس کے پاس کوئی ٹھوس اور طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں ۔ حالیہ دورہ کوئٹہ میں ہمیں وزیر اعلی بلوچستان ثنا اللہ زہری ، کمانڈر سدرن کمانڈ عامر ریاض، وزیر داخلہ سرفراز بگتی ، صوبائی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر انوار کاکڑ ، آئی جی بلوچستان سمیت کئی صوبائی وزرا اور مقامی صحافیوں سے مختلف امور پر بات چیت کا موقع ملا ۔ اس ملاقاتوں کے نتیجہ میں وہاں کے مسائل اور ان کے لئے  کئے گئے اقدامات اور نتائج کو بھی سمجھنے کا موقع ملا۔  عمومی طور پر ہم کسی بھی علاقہ کے بارے میں بہت دور بیٹھ کر یا کچھ خبروں کو بنیاد بنا کر نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جبکہ بعض معاملات میں حالات وہ نہیں جو ہم دور بیٹھ کر دیکھتے ہیں ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج سے آٹھ ماہ قبل جب کوئٹہ کا دورہ کیا اس وقت کے اور آج کے حالات میں بہتری ہے۔ ہماری معلومات کی بنیاد محض صوبائی سیاسی و عسکری قیادت ہی نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بہت سے مقامی بااثر افراد سے بھی جو بات چیت ہوئی وہ کافی حوصلہ افزا تھی ۔

کمانڈرسدرن کمانڈ عامر ریاض نے ہمارے وفد کو جو تفصیلی بریفینگ دی وہ  بہت معلوماتی تھی ۔ جنرل عامر ریاض کے کاموں کی مجھ سمیت بہت سے لوگوں نے تعریفیں سن رکھی تھیں۔ وہ ایک روائتی فوجی افسر نہیں بلکہ علمی شخصیت بھی ہیں ۔ ان کی گفتگو سے ایسا ہی محسوس ہوا کہ ان کے پاس بلوچستان کی بہتری کے حوالے سے ایک باقاعدہ روڈ میپ موجود ہے ۔ ان کے بقول ہمیں بلوچستان کے حوالے سے چند بڑے چیلنجز درپیش ہیں ۔ اول مقامی طرز حکمرانی میں موثر شفافیت اور بہتری کا عمل اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا، دوئم دہشت گردی چاہے اس کی عوامل داخلی یا خارجی ہیں ، سوئم ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے باغی عناصرکا خاتمہ یا سیاسی دھارے میں لانا ، چہارم نئی نسل کو اس بغاوت کے عمل سے باہر نکالنا ، پنجم سول اور سیاسی قیادت اور اداروں کے درمیان ادارہ جاتی عمل میں تعاون کے امکانات کو بڑھانا جیسے سنگین معاملات ہماری سیاسی و انتظامی حکمت عملی کا حصہ تھے ۔

کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل عامر ریاض کے بقول یہ جنگ محض فوجی نقطہ نگاہ سے یا فوج کے اقدامات سے ہی نہیں جیتی جاسکتی۔ اس کے لیے تمام وفاقی و صوبائی فریقین کو ایک پیچ پر آنا ہوگا اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے امکانات کو بڑھانا اور مسائل کو سمجھ کر عملی اقدامات کی طرف پیش رفت کرنا ہوگی۔ وزیر داخلہ سرفراز بگتی کے بقول وفاق سمیت چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ متحرک اور فعال، دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے اور اپیکس کمیٹیوں کے باقاعدہ اجلاس اور نگرانی کے عمل میں بلوچستان کا صوبہ سب سے آگے ہے ۔ ہمیں بھی مختلف تقریبات میں شرکت کرکے احساس ہوا کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان فاصلے کم اور اعتماد زیادہ ہے ۔

بلوچستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے بقول نوجوان نسل اس وقت ہمارا خصوصی ٹارگٹ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مختلف صوبوں کی یونیورسٹیوں اور دوسرے صوبوں کی یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کا دورہ بلوچستان اور ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی و سماجی اہم آہنگی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ ہمارے دورہ کوئٹہ میں بھی مختلف صوبوں کی یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات بڑی تعداد میں دیکھنے کو ملے ۔ نوجوان طبقہ  مقامی مسائل پر سب سے زیادہ پریشان تھا جس کا براہ راست تعلق حکمرانی کے نظام سے  تھا ۔ اچھی بات یہ ہے کہ مختلف صوبوں کے نوجوانوں کو ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے اور پہلے سے موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے کا بہتر موقع مل رہا ہے ۔  مختلف صوبوں کے نوجوانوں کا موقف تھا کہ یہاں آکر کوئٹہ یا بلوچستان کے بارے میں جو ایک ڈراؤنا تصور تھا ، وہ کا فی کم ہوا ہے ۔

ایک بڑا مسئلہ صوبائی حکومت کے طرز حکمرانی کا ہے۔ اگرچہ اس میں ماضی کے مقابلے میں کافی بہتری آئی ہے لیکن یہ بدستور ایک بڑا چیلنج ہے ۔ خاص طور پر مقامی حکمرانی کے نظام میں عام لوگوں کی شرکت اور ان کو حکومت کا حصہ بنانا ہوگا ۔ یہ بات بہت سے لوگوں سے سننے کو ملی کہ مقامی سطح پر اگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے بارے میں ہم نے کوئی ٹھوس اور ہنگامی بنیادوں پر بڑے اقدامات نہ کیے ، قانون کی عمل داری میں سخت فیصلے ، ادارہ جاتی عمل اور میکنیزم کو مضبوط بنانا ، روزگار کے نئے مواقع اور امن و آمان کی صورتحال کو  موثر بنانے پر بڑی توجہ کی ضرورت ہے ۔ یہ بات بھی محسوس ہوئی کہ وفاقی حکومت کا کردار بلوچستان کے بارے میں بہت محدود ہے ۔ پچھلے چار برسوں میں وزیر اعظم محض دو دفعہ تشریف لائے۔ جبکہ انہیں  باقاعدگی سے صوبے کا دورہ کرنا چاہئے۔

بلوچستان کے معاملات کو  ردعمل کی سیاست سے نہ دیکھا جائے یعنی اگر کوئی حادثہ رونما ہو تو ہم فوری طور پر سامنے آجاتے ہیں ۔ جبکہ تسلسل کے ساتھ پالیسی کو بنانا، عملدآمد کرنا، نگرانی کو شفاف بنانا، جوابدہی کا تصور جیسے اقدامات وفاق اور صوبے کی اہم ترجیحات کا حصہ بن کر صوبہ کو اور زیادہ بہتری کی طرف لاسکتی ہے ۔ خارجی معاملات سمیت بیرونی مداخلت پر یقینی طور پر وفاق کو بڑا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیر اعلی ، وزیر داخلہ اور کمانڈر سدرن کمانڈ سب کے بقول بھارت کی مداخلت ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کے خلاف ایک مربوط جنگ لڑنا ہوگی۔ اسی طرح اگر صوبائی حکومت  مقامی حکومت کے نظام کو ترجیحی بنیادوں پر مضبوط بنائے اور ان کو مقامی مسائل کے حل میں زیادہ انتظامی ، مالی اور سیاسی طور پر خود مختاربنائے تو مقامی لوگوں کا حکومت پر اعتماد زیاد ہ بحال ہوگا، جو کہ ابھی کافی کمزور ہے ۔

اچھی بات یہ ہے کہ اس وقت جہاں ہم دوسرے ملکوں کے تجربات سے سیکھنے کی بات کرتے ہیں وہاں ہم اپنے ہی ملک میں رہنے والے مختلف صوبوں کے درمیا ن موجود لوگوں کے درمیان بھی ایک دوسرے سے ملنے اور مکالمہ کے کلچر کو مضبوط بنائیں ۔  بلوچستان حکومت کے صوبائی ترجمان ڈاکٹر انوار کاکڑ کی تعریف کرنا ہوگی جو مختلف اوقات میں تواتر سے اسی طرح کی مجالس سجا کر ہم سب کو بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔ ہماری اس تجویز پر وزیر اعلی بلوچستان ثنا اللہ زہری نے اتفاق کیا کہ بلوچستان حکومت کے لوگ ان کی قیادت میں مختلف صوبوں کا دورہ کرکے وہاں کے مختلف طبقات کے لوگوں سے مکالمہ کرکے بہتری کے امکانات اور حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔

میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا ہوں کہ پاکستان کے لیے بلوچستان کا مسئلہ محض ایک صوبائی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اگر بلوچستان درست سمت  آگے نہیں بڑھتا تو اس کا نقصان بلوچستان کے علاوہ پاکستان کو بھی ہوگا ۔ اس لیے ہمیں بلوچستان کے مسئلہ کو سیاسی تنہائی میں نہیں دیکھنا چاہیے ۔  بلوچستان بدل رہا ہے اوراس کی کریڈیٹ وہاں کی سیاسی اور بالخصوص ہماری عسکری قیادت کو جاتا ہے ۔ لیکن یہ ابھی ابتدا ہے ، ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ جو لوگ بھی  صوبے کو تقسیم یا انتشار یا غیر محفوظ بنانا چاہتے ہیں ، ان کے خلاف سیاسی ، انتظامی نوعیت کے اقدامات درکار ہیں ۔ لیکن یہ کام ادارہ جاتی سطح پر ایک دوسرے کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔

یہ بات پیش نظر رکھنی ہوگی کہ بلوچستان کے حالات ہم سے غیر معمولی اقدامات کا تقاضہ کرتے ہیں۔ یہ کام روائتی طور پر نہیں ہوسکے گا ۔ اس کے لیے سیاسی اور عسکری سطح پر ہنگامی بنیادوں پر  بڑا روڈ میپ بنانا ہوگا۔  یہی عمل ہمیں ایک محفوظ بلوچستان کی طرف لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔