نوجوان ، انتہا پسندی اور آرمی چیف کا انتباہ
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 24 / اگست / 2017
- 4854
پاکستان دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے او راس جنگ میں ایک اہم طبقہ نوجوان طبقہ بھی ہے ۔ کیونکہ اگر پاکستان نے عملی طور پر انتہاپسندی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دہشت گردی کی جنگ کو جیتنا ہے تو نوجوان طبقہ جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں عملا شامل ہیں ، کلیدی کردا ر ہوگا ۔ کیونکہ دہشت گردی کی جنگ سے ہم بہت سے معاملات پر انتظامی اور طاقت کے انداز میں نمٹ کر مسئلہ کا حل تلاش کرسکتے ہیں ، مگر یہ جو ہمارے مزاج میں انتہا پسندی غالب آگئی ہے اس کا علاج ایک بڑی سیاسی اور فکری جنگ کے بغیر ممکن نہیں ۔ عملا یہ جنگ فوج سے زیادہ اس ملک کے سیاسی ، مذہبی فریقین ، تعلیم اور فکری ماحول سمیت اہل دانش کی سطح پر جیتی جاسکتی ہے ۔ جبکہ اگر ہم جائزہ لیں تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہم اس جنگ کو محض انتظامی بنیادوں کو بنیاد بنا کر جیتنا چاہتے ہیں ، جو ممکن نہیں ۔
چند دن قبل فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس پی آر میں انٹرن شپ کرنے والے نوجوان طبقہ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انتہا پسندی اور نوجوان طبقہ کے حوالے سے کافی فکر انگیز باتوں کی طرف نشاندہی کی ہے ، جو قابل غور ہے ۔اول پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے اور ملک میں نوجوانوں کی سطح پر آگے بڑھنے کے لیے بے پناہ ٹیلنٹ ہے ۔ دوئم نوجوان طبقہ انتہا پسندی سے اپنے آپ کو دور رکھیں اور بالخصوص داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں کا اصل ہدف نوجوان طبقہ ہے ۔ سوئم پڑھے لکھے نوجوان طبقہ جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں ان دہشت گرد تنظیموں کا ہدف ہے او راس کا میدان سوشل میڈیا ہے جہاں مخالف بیانیہ سے اپنے آپ کو بچانا ہوگا ۔چہارم نوجوان طبقہ عملی طور پر اپنی زندگیوں میں شارٹ کٹ سے بچیں اور ملک میں میرٹ اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھیں۔ پنجم نوجوانوں کو کامیابی کے لیے اللہ پر یقین ، والدین کی خدمت اور محنت پر بھروسہ کرنا ہوگا۔
فوج کے سربراہ قمر باجوہ نے جو نقاط اٹھائے ہیں وہ یقینی طو رپر انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے اہم ہیں ۔ لیکن مسئلہ محض داعش جیسی تنظیموں کا ہی نہیں بلکہ ہمارے ملک میں اسی طرذ فکر سے وابستہ کئی ایسے مذہبی انتہا پسند ادارے اور افراد موجود ہیں جو ملک کے داخلی محاذ پرنئی نسل کو اتنہا پسندی کا درس دے کر تقسیم کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔نیشنل ایکشن پلان میں ان تمام امور کا احاطہ کیا گیا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان نکات کو بنیاد بنا کر ہنگامی بنیادوں پر اپنی ترجیحات کا تعین بھی کریں گی اور عملدرآمد کے نظام کو فوجی قیادت کے تعاون سے ممکن بھی بنایا جائے گا ۔ لیکن نیشنل ایکشن پلان پر جو کچھ وفاقی اور صوبائی سطح پر ہورہا ہے اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے کہ ہم کدھر جارہے ہیں ، کیونکہ جو نتائج ہمیں ملنے چاہیے تھے اس میں ہم کافی پیچھے کھڑے ہیں ۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ریاست او رحکومت کے مقابلے میں وہ قوتیں جو فکری بنیادوں پر نوجوان نسل کو اپنے مخصوص ایجنڈے پر لے کر آگے بڑھنا چاہتی ہیں ، وہ زیادہ منظم ، فعال اور متحرک ہیں ۔ ان کا اپنے ایجنڈے پر کمٹمنٹ ہمیں زیادہ فعال نظر آتی ہے ۔جبکہ اس کے برعکس ہم سیاسی اور انتظامی الجھاو اور سمجھوتوں کی سیاست کے باعث اپنے حقیقی ایجنڈے سے کافی دور نظر آتے ہیں یا مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتی ہے ۔ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ انتہا پسندی مدارس سے جنم لے رہی ہے جبکہ حالت یہ ہے کہ ایک طرف مدارس اور دوسری طرف ہمارے بڑے تعلیمی ادارے شامل ہیں جہاں پڑھے لکھے نوجوان لڑکے او رلڑکیاں بھی انتہا پسندی میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔اچھی بات یہ ہے کہ ہماری عسکری قیادت بھی تعلیمی اداروں کو بنیاد بنا کر یونیورسٹیوں میں موجود پڑھے لکھے نوجوانوں میں انتہا پسندی کے خاتمہ او ران میں روداری او رمکالمہ کے کلچر کے فروغ کے لیے کام کررہی ہے ۔ یہ ہی رویہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا بھی ہے ، مگر یہ سب توجہ پڑہے لکھے نوجوانوں تک محدود ہے ۔ جو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ان بڑے تعلیمی اداروں یا یونیورسٹیوں تک نہیں پہنچ پاتے یا وہ ناخواندہ ہوتے ہیں وہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کے ترجیحات میں نہیں ۔
فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ نے نوجوانوں کو میرٹ اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے کا مشورہ دیا ہے ۔ یہ بات بجا ہے لیکن ہمیں اپنی حکمرانی کے ذمینی حقایق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔ کیا واقعی اس ملک میں میرٹ اور قانون کی حکمرانی کا تصور ہے ؟ آپ نئی نسل سے پوچھیں ان کے سامنے سب سے بڑی مایوسی اس میرٹ کے قتل اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کرنے سے جڑی ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا طرز حکمرانی ذاتی مفادات، خاندانی سیاست ، برادری کے جوڑ توڑ،رشوت ، بدعنوانی ، سیاسی بھرتیوں سے بھرا پڑا ہے ۔ کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں عدم میرٹ کی پالیسی کی وجہ سے اپنے آپ کو بہت زیادہ استحصال اور محرومی سے جوڑتے ہیں ۔ ان کو لگتا ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی سفارش یا رشوت نہیں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں ۔ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت، مجرمانہ ذہنیت، منفی سرگرمیاں ، منشیات کا استعمال ، خود کشیاں اس ظالمانہ نظام سے جڑی ہوئی ہیں ۔
اس لیے اگر ہم نے نوجوان نسل کو انتہا پسندی اور دہشت گرد جیسی تنظیموں سے باہر نکال کر ان کو امن کی سیاست میں لانا ہے تو وہ محض خوش نما نعروں سے ممکن نہیں ۔ اس کے لیے ہمیں اپنی نئی نسل کو ایک باوقار مستقبل دینا ہے او رجو ایک شفاف حکمرانی کے نظام کے بغیر ممکن نہیں ۔ یہ کام محض فوج نہیں کرسکتی ، کیونکہ نظام سیاسی حکومتیں چلاتی ہیں اور ان کی ترجیحات میں جو بنیادی تضادات ہیں وہ نئی نسل میں غصہ اور بغاوت کے عمل کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے ۔ہمیں ہنگامی طور پر نوجوان طبقہ کو بنیاد بنا کر جس میں پڑھے لکھے او رناخواندہ ، دیہی ، شہری ، امیر اور غریب سمیت معذور نوجوانوں جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہوں ان کو ایک بڑے ترقی کے ایجنڈے سے جوڑنا ہوگا ۔ المیہ یہ ہے یہاں سیاسی جماعتیں نوجوان طبقہ کو بنیاد بنا کر سیاست تو بہت کرتی ہیں ، لیکن ان کے پاس کوئی ایسا ٹھوس ایجنڈا نہیں جو ان نوجوان نسل کے مسائل کو بہتر طور پر حل کرسکے ۔
یہ بات سب کے پیش نظر ہونی چاہیے کہ جب ملک میں محرومی کی سیاست ہوگی تو اس کاسب سے زیادہ براہ راست اثر نوجوان طبقہ پر ہی پڑتا ہے ۔اس لیے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ نوجوان نسل انتہا پسندی کی طرف بڑھ رہی ہے یا داعش جیسی تنظیمیں ان کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہیں تو ہمیں اپنا غصہ محض نوجوان طبقہ پر نہیں نکلانا چاہیے کہ نئی نسل کیونکر انتہا پسندی کی طرف بڑھ رہی ہے ۔اس کے لیے ہماری ریاست اور حکومت کو خود بھی نئی نسل کے حوالے سے اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ ان سے کیا غلطیاں سرزد ہورہی ہیں او راس کا مداوا کیسے ممکن ہوگا، وگرنہ خالی خولی نعرے اس نوجوان طبقہ کاکسی بھی طور پر اعتماد بحال نہیں کرسکے گا ۔
جب یہ کہا جاتا ہے کہ انتہا پسندی کی جنگ فکری بنیاد پر لڑی جائے گی او راس کی قیادت ملک کا اہل دانش، استاد، شاعر، ادیب ، مصنف، عالم دین ،صحافی اور قلم کار نے کرنی ہے ، تو اس پر توجہ دینی ہوگی ۔ جب ایک نئے بیانیہ کی بات کی جاتی ہے تو اس نئے بیانیہ کی قیادت مجموعی طور پر پوری قوم اور اس کے ذمہ دار فریقین کو کرنی ہوگی ۔لیکن اس کے برعکس ہم بطور معاشرہ خود بھی تقسیم ہوتے ہیں او راپنی فکر سے دوسروں کو بھی تقسیم کرتے ہیں تو اس سے سوائے انتشار کی سیاست کے اور کچھ برآمد نہیں ہوگا ۔اس لیے ہمیں واقعی نوجوان طبقہ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک بڑے روڈ میپ کی ضرورت ہے تاکہ ان نوجوانوں کو انتہا پسندی کے خلاف ایک بڑے قومی سفارت کار کے طو رپر استعمال کیا جاسکے ۔
یقینی طور پر نوجوانو ن طبقہ ایک بڑ ی طاقت ہے او راس نے اپنی طاقت کو مختلف فریقین کو محسوس بھی کروایا ہے ۔ اس لیے ہمیں نوجوان طبقہ کے حوالے سے روائتی طور طریقوں سے باہر نکل کر کچھ نیا کرنا ہوگا ۔ یہ جو سٹیٹس کو کی سیاست ہے جس کی بنیا دپر نوجوان طبقہ محض استحصال کا ہی شکار ہے اس کو باہر نکالنا ہی ہمارا قومی ایجنڈا ہونا چاہیے ۔لیکن اس کے برعکس ہم محض نعرے لگاتے رہے تو یہ نوجوان طبقہ بہت جلد ہم سے اور دور ہوجائے گا ، جس کے ذمہ دار بطور ریاست ہم سب فریقین ہونگے ۔