اچکزئی کا بیان حقائق و حکمت کے تناظر میں
پختون خوہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور رکن پاکستان قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی ایک صاف گو اور بے باک اور جرات مند سیاسدان کے طور پر مشہور ہیں جو ہمیشہ اپنے ضمیر کے مطابق پارلیمانی زبان میں کھل کر اظہار خیال کرنا جانتے ہیں۔ آج کل اکثر پاکستانی سیاستدان دشنام طرازی کی مرض میں مبتلا ہیں۔ ﷲ تعالی ان سب کو افاقہ نصیب کرتے ہوئے رواداری کی دولت سے نوازے۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے ایک بیان پر عمران خان اور پی پی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والی ایک سابق خاتون وزیر تو گلی محلوں کے بچوں کی طرح کشمیری وزیر اعظم پر برس پڑے تھے۔ جبکہ پاکستان کے بعض اینکرز اور تبصرہ نگاروں نے تو بھارتی ٹی وی چینل پر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ آزادکشمیر کے وزیر اعظم کی حیثیت ہی کیا ہے۔ وہ ایک صوبیدار کے قلم کی نوک کی مار ہے۔ شکر ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھی محمود خان اچکزئی کے مسئلہ کشمیر کے حل پر دئیے جانے والے حالیہ بیان پر نہیں برسے۔ وہ اگر ایسا کرنے کی غلطی کرتے تو شاید انہیں جواب بھی فاروق حیدر خان کے جواب سے بہتر مل جاتا۔
محمود خان اچکزئی نے مسئلہ کشمیر کے حل پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پہل کرکے آزاد کشمیر چھوڑ کر بھارت کو بھی اپنے قبضے میں کشمیر کے بڑے حصے کو چھوڑنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ آئیے اب اس بیان کو تاریخی حقائق میں دیکھیں۔ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور حکمت کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں۔ آزاد کشمیر کو پاکستان نے آزاد نہیں کروایا تھا بلکہ مہاراجہ کی شخصی حکومت کے خلاف کشمیریوں نے پاک ہند تقسیم سے بہت پہلے تحریک شروع کی تھی۔ چار اکتوبر سن سنتالیس کو مہاراجہ کے خلاف عوامی بغاوت کے نتیجے میں آزاد جموں کشمیر کی عبوری انقلابی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کا پہلا دارالحکومت پلندری میں رکھا گیا تھا۔ 22 اکتوبر سن سنتالیس کو پاکستان کے قبائلی کشمیر میں داخل ہو گئے تھے ۔ مہاراجہ جو اپنے ہی عوام کی بغاوت کی وجہ سے بے بس ہو چکا تھا اور بھارت کو جموں کشمیر میں داخل ہونے کا کوئی جوز نہیں مل رہا تھا، ان دونوں کو اس وقت میز الٹی کرنے کا موقع مل گیا جب قبائلی کشمیر میں داخل ہوئے۔ اور مہاراجہ نے بھارت سے مدد مانگ لی، جس پر بھارت نے مہاراجہ کو بلیک میل کرتے ہوئے 27 اکتوبر کو فوجیں کشمیر میں داخل کر دیں۔
سرینگر تک پہنچ جانے والے کشمیری باغیوں کا اب مہارجہ کی فوج نہیں بلکہ بھارت کی ایک بڑی فو ج کے ساتھ مقابلہ تھا۔ پھر بھی کشمیریوں نے پسپائی اختیار نہیں کی تھی بلکہ اقوام متحدہ نے ہندوستان و پاکستان ٹکراؤ روکنے کے لیے مشروط فائر بندی کروائی اور کشمیریوں کے ساتھ رائے شماری کا وعدہ کیا۔ پا ک ہند نے رائے شماری کے لیے تعاون کا وعدہ کیا۔ 24 اکتوبر کو آزاد کشمیر حکومت کو از سر نو منظم کرکے دارالحکومت پلندری سے مظفرآباد منتقل کردیا گیا۔ اس طرح پاکستان کی مداخلت سے کشمیر کا کچھ حصہ آزاد نہیں بلکہ جموں کشمیر تقسیم ہوا تھا۔ گلگت بلتستان کو ایک کشمیری کرنل حسن مرزا نے مہاراجہ کے گورنر گنسارا سنگھ کو قید کرکے آزاد کرا لیا تھا جہاں آزاد کشمیر حکومت کے قیام کے سات ماہ بعد پاکستانی اور آزاد کشمیر حکومت کے درمیان معاہدہ کراچی کے تحت پاکستانی فوج کو وقتی مدد کے لیے بلایا گیا تھا۔ مگر بعد میں پاکستان نے گلگت پر اپنا دعوی جتانا شروع کر دیا۔
دوسری طرف بھارت نے بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس اپنے زیر قبضہ کشمیر اسمبلی سے اپنے حق میں اعلانات کروانے شروع کر دئیے جنہیں کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق رائے شماری سے پہلے پاکستان کو اپنی پوری اور بھارت کو کچھ فوج نکالنے پر امادہ کر لیا گیا۔ یہی وہ قرارداد ہے جس پر پاکستانی سیاستدان عمل درآمد کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ جس کا زیادہ نقصان پاکستان کو ہوگا لیکن ان کو اس کی سمجھ ہی نہیں۔ اس کی نسبت جب ہم وحدت پسند کشمیر کہتے ہیں کہ ہندوستان بھی اپنی پوری فوج نکال لے تو پاکستانی حکمران ہماری بات کو سمجھے بنا ہم پر تنقید شروع کر دیتے ہیں ۔ لہذا محمود خان اچکزئی جب کہتے ہیں کہ پاکستان فوجوں کے انخلا ء کے اعلان میں پہل کرے تو یہ وہی بات ہے جو پاکستان نے اقوام متحدہ میں تسلیم کر رکھی ہے۔ لیکن حکمت عملی کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے اس اعلان پر بھارت بے بس ہو سکتا ہے اور اس کے پاس جموں کشمیر میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
یہ بھی واضح ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ پاکستان خاموشی سے کشمیر سے نکل آئے اور بھارت سے مطالبہ کرے بلکہ اس کے لئے دو مرحلوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اول قائد اعظم محمد علی جناح کے ذاتی معتمد اور آزاد کشمیر کے پہلے صدر کے ایچ خورشید کے ابتدائی مطالبہ کے مطابق آزاد کشمیر حکومت کو پورے جموں کشمیر کی نمائندہ حکومت تسلیم کیا جائے۔ پھر پاکستان اعلان کرے کہ وہ جموں کشمیر سے فوجوں کے انخلاء پر تیار ہے۔ جب ایسا ہوگا تو بھارت کی یہ رٹ کوئی نہیں سنے گا کہ جموں کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے۔ کیونکہ کشمیریوں نے پہلے ہی کئی دہائیوں سے اس کے خلاف سیاسی و عسکری جد وجہد شروع کر رکھی ہے۔