مسلم لیگ (ن) مین توڑ پھوڑ کے آثار
- تحریر سید تاثیر مصطفیٰ
- جمعہ 25 / اگست / 2017
- 4549
معزول وزیراعظم ، ان کا حکمران خاندان اور اسٹبلشمنٹ کی مدد اور اشیرباد سے تین عشروں تک ملکی سیاست پر چھائی ہوئی ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اب بڑی تیزی کے ساتھ اپنے منطقی ا نجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ تکلیف دہ انجام کچھ تو اسکرپٹ کے مطابق ہے کچھ تقدیر کا لکھا ہے۔ کچھ اپنی حماقتوں اور غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ کچھ مکافاتِ عمل ہے کہ جو کچھ تیس پنتیس سالوں میں بویا گیا اسے کاٹنے کا وقت آگیا ہے۔ کچھ اپنی ہوشیاریوں اور چالاکیوں کا کیا دھرا ہے اور کچھ بے عقل اور بے تدبیر خوشامدی مشیروں کی سیاسی سرمایہ کاری ہے۔
لیکن لگتا یہ ہے کہ حکمران خاندان اب بھی حالات کا درست ادراک نہیں کررہا۔ وہ اپنی طاقت کا بھی غلط اندازہ لگائے بیٹھا ہے اور اسٹبلشمنٹ کے حربوں اور ہتھکنڈوں کو بھی سمجھنے سے قاصر ہے۔ حکمرانوں نے اب اگر درست اندازے نہ لگائے، دیوار پر لکھے ہوئے کو نہ پڑھا اور دیوار کے پیچھے ہونے والی چالوں کو صحیح طو ر پر نہ سمجھا تو نقصان زیادہ ہوسکتاہے۔ حکمران خاندان کے ساتھ ساتھ سسٹم کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حکمران خود سسٹم کو لپیٹ دیئے جانے کے حق میں لگتے ہیں لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تب حکمرانوں کے لیے بچنے کا کیا راستہ ہے۔ اس پر انہیں ابھی غور کرلینا چاہیے۔ حکمران خوف کے باعث اور فرسٹریشن اور محاذ آرائی کے ذریعہ حالات کو بند گلی کی طرف لے جارہے ہیں۔ یہ تو معلوم نہیں کہ ایسا وہ سوچ سمجھ کر کررہے ہیں یا اشتعال اور دباؤ کی وجہ سے بغیر سوچے سمجھے اس طرح کے اقدماات اور فیصلے کررہے ہیں۔ انہیں سوچنا ہوگا کہ اس بند گلی سے باقی فریقوں کی واپسی تو شاید ہوجائے، حکمران خاندان کی نہیں ہوسکے گی۔ البتہ معاملات اگر بند گلی میں نہ جائیں تو شاید حکمرانوں کے لیے بھی ریلیف کی کوئی آپشن یا معافی تلافی کی کوئی صورت نکل آئے۔
اس وقت حکمران خاندان جس کے اتحاد و اتفاق کے سرکاری میڈیا کے ذریعے کئی عشروں تک چرچے کرائے گئے اب بری طرح انتشار و افتراق کا شکار ہے۔ مرکز‘ پنجاب‘ بلوچستان‘ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حکمران مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں توڑپھوڑکا شکار اور سازشوں کے نرغے میں ہیں۔ جبکہ فیملی لمیٹڈ کمیٹی کی طرز پر اب تک چلائی جانے والی مسلم لیگ(ن) بکھرنے کے قریب ہے۔ جیسے ہی حالات واضح ہوئے یا اشارہ ہوا کئی میاں اظہر سامنے آجائیں گے۔ انتظار صرف اس بات کا ہے کہ ایم کیو ایم کی طرح مسلم لیگ (ن) کے بھی تین ٹکڑے ہوں گے یا دو۔
خاندان کے اتحاد کا عالم یہ ہے کہ نواز شریف کو شہباز شریف کے بارے میں بار بار فیصلے بدلنا پڑے ہیں۔ پہلے انہیں وزیراعظم پھر پارٹی سربراہ بنانے کا اعلان ہوا مگر انہوں نے انکار کردیا۔ پھر انہیں حلقہ 120 سے امیدوار بنایا گیا مگر نواز شریف کو باپ کی طرح عزت دینے والے شہباز شریف نے انکار کردیا اور اب حمزہ شہباز کو کلثوم نواز کی انتخابی مہم کی سربراہی سے علیحدہ کردیا گیا۔ اب اس حلقے میں انتخابی مہم کے انچارج ملک پرویز ہوں گے۔ عملاً مہم کی انچارج مریم نواز ہوں گی۔ کلثوم نواز عین انتخابی عروج کے دنوں میں لندن جاچکی ہیں اور باقی خاندان کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کی تیاریاں ہیں۔ نجی محفلوں میں خاندان کے بہت سے لوگ موجودہ صورتحال کی ذمہ داری مریم نواز پر ڈال رہے ہیں۔ تہمینہ درانی کے ٹوئٹس ایک الگ کہانی سنارہے ہیں۔ اگلے چند ہفتوں میں تہمینہ زیادہ کھل کر میدان میں آسکتی ہیں۔ ان کی لائن نواز شریف کی لائن سے مختلف ہے۔ سیاست اور فوج کے بارے میں مریم کی غیر محتاط گفتگو خاندان ہی نہیں سیاسی حلقوں میں بھی زیربحث ہے۔ نواز عوامی قوت دکھانا چاہتے ہیں اور شہباز اسٹبلشمنٹ سے معاملات کررہے ہیں۔
مرکز کے علاوہ دیگر صوبوں میں حالت یہ ہے کہ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ سب اپنا اقتدار بچانا چاہ رہے ہیں جبکہ اندر سے کئی نئے امیدوار بھی سامنے آگئے ہیں۔ اس وقت مرکز (وزارت عظمیٰ) کے لیے تین افراد بظاہر متحرک ہیں اور اسٹبلشمنٹ سے معاملات کرنے کے خواہشمند بھی۔ اسٹسیبلشمنٹ بھی ان سے رابطوں میں ہے۔ شاہد خاقان عباسی اپنے اقتدار کا تسلسل چاہتے ہیں۔ شہباز شریف محفوظ انداز میں وفاق سنبھالنے کے خواہشمند ہیں اور چودھری نثار وزیراعظم یا پھر وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے لیے منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ اب وہ اس اعلان سے بھی مکر گئے ہیں کہ انہوں نے سیاست چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا۔ یہ تینوں افراد نواز شریف سے بالا بالا یہ کوششیں اور پلاننگ کررہے ہیں۔ اگلے چند دنوں میں کچھ نئے وزراء یا سابق وزراء بھی میدان میں اترسکتے ہیں۔ یہی حال بلوچستان، گلگت اور آزاد کشمیر کا ہے۔ وہاں کی حکومتوں کے سربراہ اسٹبلشمنٹ سے معاملات بہتررکھنے اور اپنا مستقبل محفوظ رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ جبکہ وہاں بھی نئے امیدوار موجود ہیں۔ یہ حکومتیں اب عملاً نواز شریف کے فیصلوں سے آزاد ہوچکی ہیں۔ وہ شاید خاقان عباسی یا شہباز شریف کی طرف دیکھ رہے ہیں اور شہباز شریف اسٹبلشمنٹ کی جانب۔
پارٹی کا حال یہ ہے کہ اسلام آباد سے لاہور آنے والی ریلی کے ساتھ پارٹی کی سینئر قیادت موجود ہی نہیں تھی۔ جس کا چودھری نثار نے طعنہ بھی دیا۔ راجہ ظفر الحق‘ اقبال ظفر جھگڑا‘‘ سرتاج عزیز اور پارٹی کے دوسرے عہدیدار اب بھی کہیں نظر نہیں آرہے۔ نہ ہی ان کے ساتھ کوئی مشاورت ہورہی ہے۔ فیصلے نواز شریف خود ہی کررہے ہیں۔ منصوبہ بندی بھی ان ہی کی ہے اور لائحہ عمل بھی ان کا۔ ویسے مسلم لیگ (ن) ہے کیا۔ موقع پرستوں کا ایک ہجوم ہے جو ہوا کا رخ دیکھ کر یہاں آگیا ہے اور اس ہجوم کو شریف خاندان بھی محض ایک کمپنی کے طور پر چلارہا ہے۔ سرمایہ کاری کرکے یا مفادات دے کر۔ پارٹی کا کوئی سیٹ اپ ہے نہ نظام، نہ وہاں کسی کی کوئی رائے ہے نہ اس کا کوئی احترام ہے۔ پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں اکثریت حالات کے مطابق پارٹیاں بدلنے والوں کی ہے۔ بزرگ افراد کنونشن مسلم لیگ سے ادھر آئے ہیں اور باقی پیپلزپارٹی ، جونیجو لیگ ، ق لیگ اور دوسری جماعتوں سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔
لیڈروں میں اخلاص کی انتہائی کمی ہے اور کارکنوں میں کوئی نظم نہیں ہے۔ ان کی بھی پارٹی میں کوئی عزت نہیں۔ جو چند لوگ مخلص ہیں اور اب تک ساتھ نباہ رہے ہیں خود ان کے ساتھ میں کوئی اچھا سلوک ماضی میں نہیں ہوا۔ خواجہ سعد رفیق کو پنجاب کی سیکریٹری جنرل شپ سے اچانک اس طرح الگ کردیا گیا تھا کہ خود وہ بھی حیران تھے۔ احسن اقبال کو ایک ابتدائی دور میں ٹکٹ تک نہیں دیا گیا جس کے بعد انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا تھا۔ چودھری نثار کو کبھی صوبائی ٹکٹ نہیں دیا جاتا اس بار بھی وہ صوبائی سیٹ پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے گائے کے نشان پر انتخاب لڑچکے ہیں، جہاں شاید انہیں منصوبہ بندی کے تحت ہرا دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر سعید الٰہی کو بھی اس بار بلاوجہ ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا۔ ایم حمزہ جیسے مخلص اور سینئر پارلیمنٹرین کی پارٹی میں کوئی آواز نہیں۔
خواتین ارکان اسمبلی ایک طرح کا فیشن شو ہے۔ یہ بیرون ملک مقیم تھیں۔ بیشتر کی اب بھی دوہری شہریت ہے۔ ان کا سیاسی تجربہ کوئی نہیں۔ یہ صرف دوہری شہریت ہی کے نام پر بلیک ہوجائیں گی۔ پارٹی کی کوئی نظریاتی اساس اور سیاسی اصول ہی نہیں ہے۔ بنیادی طور پر (ن) لیگ دائیں بازو کی جماعت ہے جو اسلام اور نظریہ پاکستان کی علمبردار اور جمہوریت کے لئے جدوجہد کی دعویدار ہے۔ خود اس کے قائد مذہبی رجحان رکھنے والے شخض ہیں۔ ان کے ایک ہی وقت میں تبلیغی جماعت کے حاجی عبدالوہاب، دیو بندی مکتبہ فکر کے نمائندہ مدرسہ جامعہ اشرفیہ کے ذمہ داران، بریلوی نقطہ نظر کے مدرسے جامعہ نعیمہ کے نعیمی حضرات، اہل حدیث حضرات میں پروفیسر ساجد میر اور حافظ عبدلاکریم اور اہل تشیع کے مولانا ریاض حسین نجفی کے ساتھ نیا زمندی کے تعلقات ہیں۔ لیکن نہ پارٹی میں دینی رجحان رکھنے والے لوگوں سے ان کی قربت ہے او رنہ دائیں بازو کی سیاست کرنے والوں کے ساتھ۔ وہ پوری طرح ترقی پسندی نظریات بلکہ باغیانہ رجحان رکھنے والے لوگوں کے نرغے میں ہیں۔ لیکن اپنی مرضی سے۔ پرویز رشید اور اس طرح کے لوگ ان کے اردگرد ہیں۔ جو ذہنی طو رپر ہی لبرل ہی نہیں مذہب دشمن سمجھے جاتے ہیں۔
ان جیسے مشیروں نے امتیاز عالم، نجم سیٹھی، راجہ انور، جگنو محسن، وجاہت مسعود ، افتخار فتنہ اور عاصمہ جہانگیر جیسے لوگوں کو ان کے قریب کردیا ہے جو نواز شریف کو ہر صورت میں اسٹبلشمنٹ سے بھڑوادینا چاہتے ہیں۔ (یہ شاید ان کا ایجنڈا ہے بعد میں وہ کہیں نظر نہیں آئیں گے) اسٹبلشمنٹ سے معاملات طے کرنے کے حامی اس وقت کارنر ہیں حالانکہ پہلے یہی بالادست تھے۔ پرویز رشید اور چودھری نثارکی لڑائی اب کھل کر سامنے آچکی ہے۔ خواجہ آصف اور چودھری نثار میں بول چال بھی نہیں۔ ریاض پیرزادہ کچھ عرصے پہلے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ مریم کسی پارٹی یا سرکاری عہدہ کے بغیر سب پر حکم چلاتی ہیں۔ ان کا ہر جملہ حتمی ہے۔ ڈان لیکس کا ماسٹر مائنڈ انہیں ہی کہا جارہا ہے لیکن قربانی پرویز رشید ، طارق فاطمی اور راؤ تحسین کی دے دی گئی۔
دوسری جانب اسٹبلشمٹ سے شہباز شریف ، خاقان عباسی اور چودھری نثار رابطے میں ہیں اور اپنے لیے نرم گوشہ بنانا چاہتے ہیں۔ ان میں سے کسی کے ساتھ بھی معاملہ ہوسکتا ہے یا پھر کسی دوسرے بے ضرر شخص کے نام قرعہ فال نکل سکتا ہے۔ شریف خاندان میں نواز شریف فیملی کے علاوہ کوئی اور شخص محاذ آرائی کا حامی نہیں ۔ پارٹی اور حکومتوں میں شامل واضح اکثریت اس نقطہ نظر کی مخالف ہے اور وقت آنے پر اس کا اظہار بھی کردے گی۔ نیب نے شریف خاندان پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ بعض نئے کیسز بھی کھل سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی کا شریف فیملی کا پتہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ سنا یہ ہے کہ نواز شریف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے خلاف اور آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے خاتمے کے لیے قرارداد اسمبلی میں لانا چاہتے تھے جس کے لیے اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی نے حمایت کا یقین دلایا تھا۔ لیکن یہ چال کامیاب نہ ہوسکی۔
اس کا دوسرا آپشن یہ تھا کہ اسپیکر جسٹس کھوسہ کے خلاف ریفرنس بھیج دیں۔ وہ بھی نہیں ہوسکا۔ اس دوران آصف زرداری اور بلاول نے واضح پیغام دے دیا کہ وہ نواز شریف سے بات کریں گے نہ ان کا فون سنیں گے۔ ان حالات میں لگتا ہے کہ خاقان عباسی مرکز میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ سیٹ رہیں گے۔ اور آئندہ بھی کام جاری رکھیں گے۔ شہباز شریف کے پاس پنجاب رہنے دیا جائے گا لیکن انتہائی نگرانی میں۔ ان کی ذرا سی غلطی ان کے لیے پریشان کن ہوگی۔ اور یہ خلا چودھری نثار یا چودھری اقبال (اسپیکر پنجاب اسمبلی) سے پُر کرلیا جائے گا۔ پارٹی میں بظاہر ناراض گروپ یا پارٹی کی موجودہ پالیسیوں سے اختلاف کرنے والا گروپ اسمبلیوں میں موثر ہوتا جائے گا۔ اور پارٹی میں اس سوچ کی بنیاد پر نئی گروپ بندی ہوجائے گی۔ موجودہ حالات میں شریف خاندان ان کی مسلم لیگ (ن) اور اس پلیٹ فارم سے بنی ہوئی حکومتیں سب ذہنی توڑ پھوڑ کا شکار ہیں۔ جو کسی وقت بھی عملی تقسیم کی شکل میں سامنے آسکتی ہے۔