ٹرمپ کی زبانی دہشت گردی
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعہ 25 / اگست / 2017
- 3787
دو بڑی قوموں کے درمیان تنازع ہو وہاں اقوام متحدہ نہیں ہوتی ، جہاں ایک طاقتور ملک ہو اور دوسرا کمزور تو وہاں کمزور ملک نہیں رہتا۔ اقوام متحدہ وہاں بھی دکھائی نہیں دیتی اور جہاں دونوں ہی کمزور قومیں ہوں وہاں اقوام متحدہ کچھ کردار نبھانے پہنچ جاتی ہے۔ اس ادارے کو بنانے کا بنیادی مقصد ملکوں کے درمیان تصادم کو روکنا تھا اور معاملات کو میزوں پر بیٹھ کر حل کروانا تھا۔ اقوام متحدہ نے کبھی بھی اپنا بنیادی مقصد پورا نہیں کیا۔
مسلۂ کشمیر اور فلسطینیوں کی جدوجہد دنیا کیلئے مثالیں ہیں۔ اقوام متحدہ کیوں افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتی کیونکہ دوسری طرف ایک بہت بڑاملک ہے۔ جب اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون کی تنظیمیں اپنا وجود صرف کاغذوں اورٹھنڈے کمروں تک محدود کرلیتی ہیں تو دنیا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ دنیا دہشت گردی کے آسیب میں مبتلا ہے مگر یہ تنظیمیں اپنے کردار کو منوانے سے قاصر دکھائی دے رہی ہیں۔ انسانیت کی خدمت کے علم بردار انسانیت کی تفریق کر بیٹھے ہیں ۔
گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان نے دنیا کے ہر ملک میں ہونے والی دہشت گرد ی کے واقعات کی بھرپور مذمت کی ہے اور ہر ممکن حمایت کاپیغام بھی پہنچایا ہے ۔ گزشتہ دنوں امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ ایسی گفتگو فرمائی جس سے یہ محسوس ہوا کہ وہ اپنی مقبولیت کاتیزی سے گرتے ہوئے گراف کو اوپر کی جانب لے جانا چاہتے ہوں۔ دوسری طرف یہ تاثر بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہ خود اپنی انتظامیہ اور فوج کی کارکردگی سے مطمن نہیں ہیں۔ امریکی فوجی دنیا پر امریکی برتری ثابت کرنے کی جدوجہد میں افغانستان میں اپنی زندگیاں گنوا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے فوجی ہی نہیں ان کے خاندان والے بھی ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں۔
دنیا میں جاری دہشت گردی سے جتنا نقصان پاکستان اٹھا چکا ہے شاید ہی کسی اور ملک نے اتنا نقصان اٹھایا ہو۔ امریکی صدر نے اپنی ناکامیوں کا بوجھ پاکستان کے سر ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں جہاں سے وہ افغانستان میں آکر دہشت گردی کرتے ہیں۔ امریکی صدر سے کوئی یہ پوچھ ہی نہیں سکتا کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کے محفوظ ٹھکانے کہاں کہاں ہیں ۔ امریکہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے آج تک پاکستان کو استعمال کرتا آیا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی چاہتا ہے۔ بلکہ اس تقریرسے تو یہ پیغام آیا ہے کہ پہلے سے کہیں زیادہ یعنی پاکستان اپنی سالمیت کی پریشانی چھوڑدے اپنی معیشت کو تباہ ہونے دے اور افغانستان میں جاکے امریکی مفاد کی جنگ لڑے۔
پرائی دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان خارجی اور داخلی مشکلات میں بری طرح سے گھرتا چلا گیا مگر کسی بیرونی عسکری امداد کے بغیر ان مشکلات سے لڑ رہا ہے۔ سوات میں کیا جانے والا آپریشن، آپریشن ضرب عضب، آپریشن خیبر4 اور آپریشن ردالفساد اس بات کی گواہی ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں سے کیسے نمٹ رہا ہے ۔ پاکستان کی قربانیوں کا جس طرح سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے استحصال کیا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ چین وہ واحد ملک ہے جس نے پاکستان کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے ایک بار پھر اپنی دوستی کی اعلی مثال قائم کرتے ہوئے امریکی صدر کی تقریر میں پاکستان سے کئے گئے مطالبات پرشدید تنقید کی ہے۔
اگر امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کو ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ دکھائی نہیں دے رہی اور ان کو بھارت کا کشمیریوں پر ڈھایا جانے والا ظلم و ستم نہیں دکھائی دے رہا تو پھر ہمیں اپنا واضح موقف دنیا کے سامنے رکھ دینا چاہئے کہ اب وہ فیصلہ کریں اور بتائیں کے پاکستان نے کب اور کہاں اس جنگ میں کوتاہی برتی ہے ۔ امریکہ کے صدر کی یہ زبانی دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے جو معصوم پاکستانیوں کو دھمکا رہے ہیں۔