مسلم لیگ (ن) کی داخلی کشمکش

سیاسی جماعتوں میں داخلی مسائل اور سیاسی حکمت عملیوں پر مختلف رائے کا ہونا فطری امر ہوتا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں داخلی محاذ پر  اختلاف رائے کو جمہوری عمل کہا جاتا ہے۔  مگر جب مسائل سیاسی جماعتوں میں انتشار کی کیفیت پیدا کرتے ہیں تو یہ بحران بھی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ اہم بات سیاسی جماعتوں کے داخلی مسائل سے نمٹنا ہوتا ہے اوراس میں سیاسی جماعتوں کی قیادت کا کردار یا طرز عمل اہم ہوتا ہے ۔ کیونکہ قیادت عمومی طور پر مسائل کو بنیاد بنا کر مسئلہ کا حل تلاش کرکے مثبت انداز میں آگے بڑھتی ہے۔ لیکن جب مسائل کے حل میں قیادت ناکام ہو تو اس کا نتیجہ پارٹی یا جماعت کی تقسیم اور مزید مسائل کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال میں حکمران جماعت کے داخلی بحران  ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس وقت حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی سنیئر قیادت اس داخلی بحران یا سیاسی تقسیم سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے ۔ نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی ایک بڑی طاقت ور سیاسی شخصیت ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قیادت کا تاج بھی ان کے سر ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کی بیشتر کامیابیوں میں نواز شریف کی قیادت  اہم رہی ہے ۔ لیکن اب وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے نتیجے میں نااہلی سے دوچار ہوئے ہیں، تو نئی قیادت کا انتخاب بھی کرنا پڑنا ہے ۔ اگرچہ نواز شریف کی کوشش ہے کہ وہ اصل قیادت  اپنے پاس ہی رکھیں اور انتظامی ضرورت کے تحت کسی ایسے فرد کو قائد کے طور پر سامنے لائیں جو کمزور بھی ہو اوراس کا ریموٹ کنٹرول بھی ان ہی کے ہاتھ میں ہو، تاکہ وہ پارٹی پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکیں ۔

جو کچھ نواز شریف سوچ رہے ہیں وہ غیر فطری نہیں ۔ کیونکہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں سیاسی جماعتیں بطور ادارہ کمزور ہوں وہاں افراد کی حکمرانی موجود رہتی ہے ۔ یہ مسئلہ محض نواز شریف کے ساتھ نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اسی تضادات کے ساتھ اپنی اپنی سیاسی دوکان سجائے ہوئے ہیں ۔ ایسا نہیں کہ مسلم لیگ (ن) میں پہلے بحران نہیں تھا ۔ بحران تو موجود تھا لیکن نواز شریف کے بطور وزیر اعظم موجودگی کی وجہ سے ان معاملات پر بہت زیادہ مسائل سامنے نہیں آتے تھے ۔ لیکن ان کی نااہلی اوراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال نے داخلی محاذ پر موجود اس تقسیم کو گہرا کیا ہے ۔ اگرچہ ابھی بھی نواز شریف کا کنٹرول اپنی جماعت پر موجود ہے لیکن جو صورتحال بنتی جارہی ہے اس میں پہلے سے موجود گروپس مختلف حوالوں سے مختلف بولیاں بولتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔

مسلم لیگ میں موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ داخلی سیاسی حکمت عملی بھی ہے ۔ اس وقت پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہے ۔  ایک گروپ سمجھتا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے پیچھے اصل کھیل اسٹیبلیشمنٹ کا ہے اور اس کے خلاف بھرپور مزاحمت ہونی چاہیے ۔  دوسرا گروپ اسٹیبلیشمنٹ سے مزاحمت کی بجائے مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے ۔ یہ تقسیم نواز شریف اور شہباز شریف میں بھی ہے اور دونوں مخالف سمت میں کھڑے ہیں ۔ چوہدری نثار اس وقت حکمران جماعت کے مزاحمتی گروپ کا اہم ٹارگٹ ہیں اورسمجھا جارہا ہے کہ وہ نواز شریف سے زیادہ اسٹیبلیشمنٹ کے لیے کام کررہے ہیں ۔ ان پر براہ راست الزامات بھی لگائے گئے ہیں ۔ ان کا یہ اعتراف بھی کھل کر سامنے آگیا ہے کہ وہ نئی کابینہ میں پارٹی کی حکمت عملیوں سے اختلافات کی وجہ سے حصہ نہیں بنے ۔ اس سے قبل پرویز رشید نے ان کی وزارت، فیصلوں اور جنرل مشرف کے حوالے سے ان پر شدید تنقید کی تھی ۔

مسلم لیگ کی  سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ان میں ہر مشکل وقت میں سیاسی تقسیم پیدا ہوئی ہے ۔ خود نواز شریف بھی جنرل ضیا الحق کے دور میں محمد خان جونیجو کے مقابلے میں اپنا نیا گروپ سامنے لے کر آئے تھے ۔ یہ کام جنرل  (ر) مشرف کے دورمیں نواز شریف کی جلاوطنی کی صورت میں چوہدری برادران نے کیا۔  مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کی مجموعی تعداد کو دیکھیں تو ان میں سے بیشتر لوگوں کا اصل مقصد اپنے حلقے کی سیاست کو بنیاد بنا کر اپنے لیے محفوظ راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے ۔ اس وقت بھی بیشتر ارکان وہی ہیں جو جنرل مشرف اور چوہدری برادران کے ساتھ بھی کھڑے تھے  لیکن مشکل وقت میں ان کو چھوڑ کر اقتدار میں آنے والے نواز شریف کی سیاست کا حصہ بن گئے تھے۔ اس لیے اب بھی وہ مزاحمت سے زیادہ مفاہمت اور محفوظ راستہ ہی تلاش کریں گے ۔

نواز شریف اور ان کے بعض ساتھی اسٹیبلیشمنٹ اور اداروں کو بنیاد بنا کر جو مزاحمت کرنے کی کوشش کررہے ہیں اس میں ان کو اپنی داخلی سیاست کا ضرور تجزیہ کرنا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑی ہے ۔ بالخصوص نواز شریف کی جماعت کے محض دو افراد ہی نہیں بلکہ طاقت ور افراد اور اسٹیبلیشمنٹ تک بہتر رسائی کرنے والے چوہدری نثار اور شہباز شریف نواز شریف کی پالیسی سے ہٹ کر مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔  وہ اس محاذ پر اکیلے نہیں بلکہ کئی افراد اسی سوچ کے حامی ہیں ۔ ایک اور طبقہ مسلم لیگ میں ایسا بھی ہے جو جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتا ہے وہ بھی اپنی وفاداری میں کسی بڑی لڑائی کو ترجیح نہیں دیں گے ۔ یہ فرق ہم نے جی ٹی روڈ کی ریلی میں دیکھا ہے جہاں جنوبی پنجاب سمیت دیگر علاقوں کے ارکان اسمبلی کی شرکت پر جوش نہیں تھی ۔

مسئلہ چوہدری نثار اور شہباز شریف کا ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی نام ایسے ہیں جو  موجودہ بحران میں بہت زیادہ فعال نہیں یا نواز شریف ان کو اپنی مشاورت کا حصہ نہیں بنارہے ۔ ان میں راجہ ظفر الحق، راجہ اشفاق سرور ، رانا تنویر، ظفر علی شاہ ، جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، جنرل (ر) عبدالقیوم ، جیسے لوگ بھی شامل ہیں ۔ مجھے یاد ہے جنرل مشرف کے دور میں جب نواز شریف جدہ میں تھے تو ان کے پیچھے جن دو لوگوں نے سب سے زیادہ جنرل (ر)  مشرف کے خلاف مزاحمت کی ان میں سردار زوالفقار کھوسہ اور راجہ اشفاق سرور تھے جو بالترتیب پنجاب کے صدر اور جنرل سیکرٹری تھے ۔  یہ ہی دونوں لوگ ہر جگہ فعال نظر آتے تھے اور نواز شریف کی سیاست کو اس مشکل دور میں زندہ رکھے رکھا ، حالانکہ ان کے پاس بھی یہ آپشن موجود تھا کہ وہ جنرل (ر) مشرف اور چوہدری برادران کے ساتھ مفاہمت کرکے اقتدارکی سیاست کرسکتے تھے۔ مگر اپنی جماعت اور قیادت کے ساتھ وفاداری نبھائی ۔ لیکن اب یہ اہم ، سنجید ہ اور پارٹی کے وفادار لوگ پیچھے اور سامنے ایک مفاد پرست لوگوں کا جم غفیر ہے ۔ جس سے پارٹی کو باہر نکلنا ہوگا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ نواز شریف کے گرد وہ لوگ جمع ہیں جو جنرل (ر) مشر ف کے ساتھ تھے ، جی ٹی روڈ کے مارچ میں سب نے دیکھا کہ امیر مقام ، ماروی میمن ، طلال چوہدری ، دانیال عزیز، نواز شریف کے ساتھ پیش پیش تھے۔ جو لوگ  مشرف کے خلاف مزاحمت کرتے رہے وہ جی ٹی روڈ میں بہت کم دیکھنے کو ملے ۔ اس وقت بھی نواز شریف رائے ونڈ کی سطح پر جو اجلاس کررہے ہیں ان میں یہ جنرل (ر) مشرف کے دور کے لوگوں سمیت پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال ، مصدق ملک ، مائزہ حمید نظر آرہے ہیں ۔ اب اگر اس اہم اور نازک مرحلہ میں جہاں پارٹی واقعی بحران کا شکار ہے پارٹی کے اصل چہرے پس پردہ چلے گئے ہیں ۔ اس میں ایک اہم کردار خود نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کا ہے۔ جو پارٹی میں گروپ بندی اور تقسیم  کی وجہ نی ہیں۔

جو لوگ نواز شریف کو مشورہ دے رہے ہیں کہ پارٹی کا کنٹرول صرف  اپنی ذات اور بچوں تک محدود رکھیں وہ خود بحران  پیدا کررہے ہیں ۔ ابتدا میں شہباز شریف کو پارٹی کے صدر بنانے کا اعلان کرکے سردار یعقوب ناصر کو صدر بنانا، حمزہ شہباز کو این اے 120کی انتخابی مہم کی ذمہ داری سے علیحدہ کرنا ، پارٹی میں بھانت بھانت کی بولیاں، ایک دوسرے پر شک و شبہ کرنا ، کسی کو اسٹیبلیشمنٹ کا ہونے کا طعنہ دینا ، اپنے اپنے مخصوص اجلاس طلب کرنا ، پارٹی راہنماوں کو شہباز شریف کی طرف سے اداروں کے خلاف بیان بازی سے روکنا، اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی ، کٹھ پتلی بنیادوں پر جماعتی نظام چلانا جیسے دیگر مسائل پارٹی کو مضبوط کم اور کمزور زیادہ کریں گے ۔  ان امور پر نواز شریف اور مسلم لیگ کی دیگر قیادت کو غورکرنا ہوگا۔