دریائے نیکر کے کنارے محفلِ مشاعرہ

اگست کی ایک شام قدیم ہائیڈل برگ میں بہنے والے دریائے نیکر کے کنارے چند گھنٹوں کی ایک سادہ مگر یادگار محفل مشاعرہ منعقد ہوئی۔ اس کا اہتمام جرمنی کے ایک معروف شاعر و ادبی شخصیت اور سیکرٹری حلقہ ادب و چئیرمین ہیومن ویلفئیر ایسوسی ایشن جرمنی سید اقبال حیدرنے کیا تھا۔ کنیڈا سے تشریف لانے والے اردو ادب کی نامور شخصیت اور شاعر مہمان خصوصی تھے مغرب اور مشرق کے درشہوار گوئٹے اور اقبال کے عنوان سے ہونے والی محفل مذاکرہ کی یہ پہلی نششت تھی جو دریائے نیکر کے سرسبز و شاداب کنارے منعقد کی گئی تھی۔

مفکر پاکستان نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری جرمنی کے مشہور شہر میونخ سے حاصل کی تھی جب کہ جرمن زبان سیکھنے کی غرض سے کئی ماہ تک اس تاریخی شہر ہائیڈل برگ میں قیام کیا تھا۔ دوران قیام اقبال اسی دریا کے کنارے بکثرت آیا کرتے تھے اور انہوں نے اپنی مشہور نظم ایک شام اسی دریا کے کنارے بیٹھ کر لکھی تھی۔ اس نظم کا جرمنی زبان میں ترجمعہ دریا کے کنارے سرسبز جھاڑی نما درختوں میں ڈھکی ایک پتھر کی سل پر کنندہ ہے۔ دریائے نیکر کے کنارے ایک سڑک کو ’’اقبال اُوفر‘‘ کا نام دے کر جرمن حکومت نے عظیم فلاسفر علامہ اقبال کو شہر ہائیڈل برگ کا ہمیشہ کے لئے حصہ بنا دیا ہے۔ پاکستان سمیت یورپ سے آنے والے پاکستانی اس یاد گار کو دیکھ کر دلی مسرت محسوس کرتے ہیں ۔

ہیومن ویلفیر ایسوسی ایشن جرمنی پچھلے 12سال  سے اقبال کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد کر رہی ہے۔ اب 2017کی یہ تقریب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔ ہیومن ویلفیر ایسوسی ایشن جرمنی نے ماضی کی  طرح اس سال بھی دریا کے کنارے ہری بھری گھاس کے مخملیں لان کو سفید چاندنی اور گاؤ تکیوں سے سجا کر 13 ویں فرشی نشست کا اہتمام کیا۔ جس کی صدارت ڈاکٹر تقی عابدی نے کی تھی۔ یہ نشت شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کی یاد میں منائی گئی جس میں ’’شاعر مشرق‘‘ کے حوالے سے گفتگو ہو ئی اور شاعری کی محفل سجی ۔ مہمان خصوصی اور اردو ادب کی قابل احترام شخصیت ڈاکٹر سید تقی عابدی نے دریا کے اس کنارے کو ’’مقامِ اقبال‘‘ کا نام دیا تو اب یہ کنارا ’’مقامِ اقبال‘‘ کے نام ہی سے جانا جاتا ہے۔ اس یادگار محفل مشاعرہ کے شرکاء میں انتصار مہدی ، شعیر مہدی ، مدبر آسان،پ رویز زیدی، مظفر زیدی، ڈاکٹر وسیم، صلاح الدین ، ڈاکٹر ارشد رضوی اور معروف صحافی و کالم نگارمنور علی شاہد اور دیگر محبان اقبال نے شرکت کی۔ سید اقبال حیدر، ڈاکٹر وسیم احمد اور مدبر آسان نے اپنے اپنے کلام سے شرکاء کو محفوظ کیا۔ صدر مجلس نے اقبال کی شاعری اور زندگی کے مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی اور واقعات سنائے۔

اختتام پر ہیومن ویلفیر ایسوسی ایشن جرمنی کے روحِ رواں سید اقبال حیدر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرمنی میں اسی طرح اردوادب کے لئے خدمات سرانجام دیتے رہیں گے تاکہ ہماری آئیندہ نسلوں کو یہ ادبی سرمایہ منتقل ہو سکے۔ ’ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ’ہائیڈل برگ‘ جرمنی کا وہ خوبصورت شہر ہے جسے علامہ محمد اقبال نے جرمنی میں اپنے قیام کے لئے چنا۔ انتہائی دلکش، خوبصورت ہرے بھرے پہاڑوں کے درمیان آباد شہر ہائڈل برگ میں علامہ صاحب کا گھرآج بھی ان کے اُس دور کے زیرِ استعمال فرنیچر کے ساتھ موجود ہے۔  جرمن آثارِ قدیمہ کی وزارت نے اس کے مرکزی دروازے پر علامہ محمد اقبال کے نام کی تختی آویزاں کر رکھی ہے جس پر یہ الفاظ کنندہ ہیں ’’ پاکستان کے قومی فلسفی، شاعر اور روحانی باپ ڈاکٹر محمد اقبال1907 میں یہاں قیام پزیر رہے۔‘‘