اکیس کروڑ نہیں ہو سکے ۔۔۔۔ کئے جاؤ کوشش مرے دوستو

آفرین ہے اس غیرت مند صحافی پر جس نے مردم شماری کے عبوری اعداد و شمار کی خبر آنے کے بعد اپنے اخبار کی ویب سائٹ پر سرخی جمائی کہ پاکستان کی آبادی اکیس کروڑ سے کم ہے۔۔۔ میر صاحب نے کہا تھا، کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے۔۔۔ میر تقی آدھی بات کہہ کر دونا لطف پیدا کرتے تھے۔ ہمارے صحافی نے 21 کروڑ سے کم ہونے کی نوید دے کر محنت کشوں کو حوصلہ دیا ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ پانی ابھی خطرے کے نشاں تک نہیں آیا۔۔۔

جہاں 21 کروڑ کا مژدہ سنایا تھا، یہ بھی بتا دیتے کہ 1951 میں مغربی پاکستان کی آبادی تین کروڑ 37 لاکھ اسی ہزار تھی۔ ہم نے ایک کو سات کر دیا ہے۔ تین کو اکیس کر دیا ہے۔ ہمارے ملک کا رقبہ کرہ ارضی کا 0.7 فیصد ہے۔ کل ملا کے اس ایک فیصد سے کم رقبے پر قریب قریب اکیس کروڑ نفوس کی ذمہ داری ڈال دی ہے۔ اللہ کے خاص فضل و کرم سے زمیں کے اس خدا داد ٹکڑے پر دنیا بھر کی آبادی کے تین فیصد کا بوجھ ڈال دیا ہے۔ رقبے اور آبادی میں ایک اور چار کی یہ نسبت کسی ایٹمی خطرے یا سیاسی سازش سے زیادہ مہلک ہے۔ مگر ہم نہیں مانتے۔

ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ جسے آج جنوبی کوریا کہتے ہیں، جہاں کی آمریت کی مثالیں ہمیں دن رات دی جاتی ہیں، وہاں کے زمینی حالات میں ناقابل یقین تبدیلی آئی ہے۔ 1951 میں جنوبی کوریا کی فی کس سالانہ آمدنی 79 ڈالر تھی۔ تب پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی 97 ڈالر تھی۔ آج جنوبی کوریا میں فی کس سالانہ آمدنی 25000 ڈالر سے بڑھ گئی ہے۔ ہم پاکستان میں کہیں 1560 ڈالر فی کس سالانہ آمدنی کے آس پاس ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کی کل آبادی پانچ کروڑ ہے اور سالانہ اضافے کی شرح 4۔0 فیصد ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جنوبی کوریا میں آمریت نے ترقی کا راستہ دکھایا۔ ہم نے خود چار آمریتوں کے سائے تلے 33 برس گزارے۔ ان لبوں نے نہ کی مسیحائی۔۔۔۔ جیسی سقیم اور عقیم ہماری آمریت تھی، ویسی بنجر قدیم ناممکن ہماری قوم رہی۔

ہماری آبادی میں اضافے کی شرح 4۔2 فیصد سالانہ بتائی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد 200 سے زیادہ ہے۔ آبادی میں 4۔2 فیصد سالانہ جیسی شرح رکھنے والے ملکوں میں افغانستان، انگولا، چاڈ، بنین، برکینا فاسو، کانگو، ایتھوپیا، گنی بساؤ، عراق، مالی، موزمبیق، لائبیریا اور نائجیریا جیسے ملکوں کے نام آتے ہیں۔ ہم نے مقابلہ کرنے کے لئے کیسے ناقابل رشک گروہ کا انتخاب کیا ہے، جہاں غربت کا بھوت منڈلاتا ہے، جہاں موت دستک دیتی ہے، وہاں آبادی کا لحاف پھولنے لگتا ہے۔ ایک نکتہ اور دیکھئے۔ آبادی میں زیادہ شرح اضافہ دکھانے والے ان ممالک کا کل رقبہ معلوم کیجئے۔ ان کی کل آبادی کا تخمینہ لگائیے۔ اور پھر بتائیے کہ آبادی میں اس تیز رفتار اضافے سے ہمیں زیادہ خطرہ ہے یا ان ملکوں کو؟

دنیا بھر میں پاکستان سے زیادہ آبادی والے ممالک صرف پانچ ہیں۔ چین، بھارت، امریکا، انڈونیشیا اور برازیل۔ ان پانچ میں سے کسی ایک ملک پر انگلی رکھ دیں جس کا رقبہ پاکستان سے کم از کم دوگنا زیادہ نہ ہو۔ 4۔2 فیصد کی شرح سے ہم ہر برس تقریباً پچاس لاکھ افراد پیدا کر رہے ہیں۔ گویا ایک برس میں پورا سوئٹزرلینڈ جنم دیتے ہیں۔ پورا بیلجئم جن دیتے ہیں۔ اور پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک جیسا معیار زندگی دیا جائے۔ پاکستان کو فلاحی مملکت بنایا جائے۔ جن عقل مندوں سے مشورہ کرکے ہم نے یہ بچے پیدا کئے ہیں، اعلیٰ معیار زندگی کا مطالبہ بھی انہی سے کرنا چاہیے۔ انہی سیانوں سے بجلی، پینے کا صاف پانی اور روزگار بھی مانگنا چاہیئے۔

جنوبی کوریا نے  چالیس برس تک تعلیم میں سرمایہ کاری کی۔ ہم بندوقیں خریدتے رہے۔ پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے اڑھائی کروڑ بچے کتاب اور قلم سے محروم ہیں۔ اپنے شہر یا قصبے میں نظر دوڑا کر بتائیں کہ کتنے نئے پرائمری اسکول پچھلے پچاس برس میں حکومت نے وہاں قائم کئے۔ پانچ سے سولہ برس تک کی عمر اسکول جانے کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس عمر کے ہر دس نونہالوں میں سے چار بچے بچیاں گلی کوچوں میں دھکے کھا رہے ہیں۔ اسکول کا منہ نہیں دیکھا۔ آنے والے برسوں میں چھابڑی لگانے کے لئے بھی تعلیم کی ضرورت ہوگی۔

ہم نے آج جو نسل پیدا کی ہے، وہ اگلے سٍاٹھ برس تک غریب رہے گی۔ امریکا سے پنجہ لڑانے کا ہمیں خاص شوق ہے۔ 25 برس پہلے امریکا کی آبادی 23 کروڑ تھی۔ اس ربع صدی میں لاکھوں لوگ دنیا کے کونے کونے سے اپنا ملک چھوڑ کر گرتے پڑتے امریکا چلے آئے۔ اسے نیٹ اینٹری ریٹ کہتے ہیں۔ اس کے باوجود 2016 میں امریکا کی آبادی 32 کروڑ ہے۔ 25 برس میں اضافہ؟ کل نو کروڑ۔ ہم نے اس عرصے میں دس کروڑ بڑھا لئے۔ اس میں افغان مہاجر نہیں گنے۔ آزاد جموں کشمیر کی آبادی شمار نہیں کی۔ گلگت بلتستان کے ہم وطن نہیں گنے۔ مردم شماری کرنے والوں نے اس کے باوجود آبادی کی تعداد میں 57 فیصد اضافہ بیان کر دیا۔

بتیا گیا ہے کہ پاکستان کی آبادی میں مبہم جنسی شناخت رکھنے والے یعنی خواجہ سرا افراد کی تعداد “صرف دس ہزار” ہے۔ یہ اردو زبان کا بہت عمدہ استعمال ہے۔ آپ “محض دس ہزار” کہہ دیتے تو آپ کا ہم کیا بگاڑ لیتے۔ محض دس ہزار انسان جو عزت کا لقمہ مانگتے ہیں۔ محض بیس ہزار آنکھیں جو بنیادی انسانی احترام کا راستہ دیکھ رہی ہیں۔ ایک نسل کے عرصہ حیات میں ہم نے اپنی آبادی 57٪ بڑھا لی۔ ہماری مشرقی سرحد کے پار ایک بچہ بھارت میں پیدا ہوتا ہے تو  اس کی متوقع عمر 70 برس ہوتی ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والے بچے کی متوقع عمر صرف 65 برس ہوتی ہے۔ یہ انسانی ترقی میں 50 برس کا فاصلہ ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان میں 10 کروڑ چونسٹھ لاکھ مرد بستے ہیں۔ عورتیں 8۔48 فیصد ہیں۔ سوشیالوجی کا کوئی طالب علم کبھی تحقیق کرکے  بتائے گا کہ الٹرا ساؤنڈ ٹیکنالوجی کی مدد سے آمدہ بچے کی جنس معلوم کرنے کی سہولت نے عورت اور مرد کے شماریاتی توازن کو کہاں تک تلپٹ کیا۔ ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ دس کروڑ چونسٹھ لاکھ مرد اس ملک میں رہتے ہیں۔ مردانگی کا امتحان یہی ہے کہ اگلے بیس برس میں کم از کم پچاس کروڑ انسان پیدا کئے جائیں۔ بھلے ان انسانوں کا رہن سہن انسانی معیار سے کم ہوگا مگر ہمارے ہاتھ بازو بنیں گے۔ ہم تو شاید اس دنیا میں نہیں ہوں گے لیکن تعلیم، خوراک، علاج معالجے اور روز گار سے محروم یہ افراد ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوں گے۔

اچھا تماشا ہو گا۔۔۔ کیا بیس برس کے طویل عرصے میں پچاس کروڑ مزید لوگ پیدا کرنا مشکل ہوگا۔ ہرگز نہیں۔ آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح (4۔2٪) کے ہوتے ہوئے یہ کچھ مشکل نہیں۔۔۔۔ ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا۔۔۔ ہے جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار۔

(بشکریہ: ہم سب ۔ لاہور)