سول بالادستی کی جنگ

پاکستان میں جو لوگ بھی جمہوریت سے اپنا مضبوط تعلق رکھتے ہیں وہ یقینی طور پر ملک میں سول بالادستی کے حامی ہیں ۔ بہت کم لوگ ہوں گے جو براہ راست جمہوریت اور سول بالادستی کے مقابلے میں ڈکٹیٹر شپ یا فوجی حکمرانی کی حمایت کرتے ہیں ۔اس وقت بھی ملک کے سیاسی اور اہل دانش کی سطح پر سول بالادستی کی نئی بحث شروع ہوگئی ہے ۔ اس بحث کا پس منظر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نااہلی کا مقدمہ ہے ۔ نواز شریف اقتدار سے باہر آنے کے بعد جس نکتہ پر زیادہ زور دے رہے ہیں وہ سول بالادستی کی ہے ۔

بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بھی ان کی گفتگو کا محور سول بالادستی سے جڑا ہوا تھا ۔ وہ بنیادی طور پر اسٹیبلیشمنٹ کو اس ملک میں سول بالادستی کے خلاف ایک مضبوط فریق قرار دیتے ہیں ۔ پاکستان کی جمہوری سیاست کے تجزیہ میں اسٹیبلیشمنٹ کا کردار کافی متنازعہ رہا ہے اور اس پر کئی حوالوں سے تنقید بھی ہوسکتی ہے ۔ لیکن نواز شریف کی سول بالادستی کی جنگ کی ٹائیمنگ اہم ہے ۔ وہ یہ ساری گفتگو اقتدار سے باہر نکلنے پر کررہے ہیں ۔  ان میں اس وقت اسٹیبلیشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف ایک غصہ بھی ہے ۔  اگرچہ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ وہ زخمی ہیں اور ماضی و حال کے تجربات کی بنیا دپر وہ سول بالادستی کی جنگ کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔ نواز شریف کے بقول ان کے سینے میں کافی راز ہیں جو وہ مناسب وقت پر فاش کریں گے ۔ اگرچہ اسی طرح کی گفتگو وہ ماضی میں بھی کرتے رہے ہیں اور ان کے بقول بہت سے راز ہیں جو وہ ضرور بتائیں گے۔ مگر ایسا ممکن نہیں ہوسکا ۔ حالانکہ اب جب کہ وہ سول بالادستی کی جنگ کی بات کررہے ہیں تو پھر ان کو کھل کر سینے میں موجود راز فاش کرنے چاہئیں تاکہ لوگ  حقایق بھی جان سکیں ۔

نواز شریف اقتدار کی سیاست کے اہم فریق رہے ہیں اور بہت سے اقتدار کے کھیل میں جاری پس پردہ حقائق جس کے وہ خود بھی فریق رہے ہیں ، آگاہ ہیں ۔ لیکن کیا وہ یہ تمام حقائق سامنے لاسکیں گے ، بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ اگرچہ نواز شریف کے بقول وہ اس نئی سول بالادستی کی جنگ کو دیگر جماعتوں کی حمایت سے لڑیں گے اوراس کا مقصد اقتدار کی سیاست نہیں بلکہ سیاسی اور سول نظام کی بالادستی کو قبول کرنے سے ہے۔ تاکہ عوامی مینڈیٹ اور منتخب وزیر اعظم کی بالادستی برقرار رہے ۔ لیکن اس موقع پر ان کو کوئی بڑی سیاسی حمایت دیگر سیاسی جماعتوں سمیت اپنی ہم خیال اور اقتدار میں شامل جماعتوں سے بھی نہیں مل سکی ہے ۔ کیونکہ ایک عمومی رائے یہ ہے کہ نواز شریف سول بالادستی سے زیادہ اپنی سیاسی بقا اور سیاسی بحالی کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سول بالادستی کی جنگ سے کیا مراد ہے ۔ کیا  سیاسی اور فوجی قیادت میں ٹکراؤ یا اقتدار کے نتیجے میں بننے والے کھیل کی صورت میں دیکھیں یا واقعی سول بالادستی کے اصل مفہوم کو سمجھا جائے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس ملک میں سول بالادستی کے مقابلے میں فوجی حکمرانی کی طویل تاریخ ہے ۔ اس سول اور فوجی کشمکش کے نتیجے میں ہم ایک مضبوط سیاسی اور جمہوری نظام کو قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ اگرچہ ہم اس ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غلطیاں دونوں اطراف سے ہوئیں ہیں اور دونوں ہی جمہوری ناکامی کے ذمہ دار ہیں ۔ جب ہم سول بالادستی کی جنگ کی بات کرتے ہیں تو اس کے دو پہلو ہیں ۔ اول داخلی اور دوئم خارجی معاملات ۔ یعنی داخلی سطح پر  جمہوری نظام ، سیاسی قیادت، جماعتیں ، ووٹرز، سول سوسائٹی اور رائے عامہ بنانے والے انفرادی یا ادارہ جاتی لوگ خود کہاں کھڑے ہیں ۔ جبکہ خارجی محاذ پر وہ قوتیں جو جمہوریت کے مقابلے میں غیر جمہوریت کی حامی ہیں۔ ان کا مقابلہ کیسے کیا جائے ۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم ملک میں سول بالادستی کی جنگ کو مضبوط بنانے کی بات کرتے ہیں تو اس کا واحد حل مضبوط سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں سے جڑا ہے ۔ ہماری سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت عمومی طور پر سول بالادستی کی جنگ کو خارجی معاملات یعنی اسٹیبلیشمنٹ کے تناظر میں دیکھتی ہیں ۔ جبکہ اس کے برعکس داخلی جمہوری معاملات اور طرز عمل پر ان کی سیاست میں جمہوری ، سیاسی اور جماعتی مفادات کے مقابلے میں ذاتی اور خاندانی سیاست کو بالادستی حاصل ہوتی ہے ۔ کیا یہ سوال اپنی جگہ اہمیت نہیں رکھتا کہ ہماری سیاسی قیادتیں کیا وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں موجود داخلی جمہوریت کو مضبوط نہیں کرنا چاہتیں ۔ کیا افراد اورخاندان کو بنیاد بنا کر کوئی سیاسی نظام مضبوط اور غیر جمہوری قوتوں کے خلاف جنگ لڑی جاسکتی ہے۔ یقینی طور پر ممکن نہیں ۔

دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس ملک میں سیاسی جماعتیں کے مضبوط نہ ہونے کی وجہ بھی اسٹیبلیشمنٹ ہے ، جو مکمل سچ نہیں ۔ کیونکہ کیا ہمارے سامنے ایسی پالیسیاں اور مثالیں یا جماعتی اصلاحات موجود ہیں جن کی مدد سے سیاسی جماعتوں کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ اگر نہیں تو پھر سیاسی قیادت کو بھی یہ ذمہ داری لینی چاہیے کہ وہ خود بھی جماعتوں کو مضبوط کرنے یا ان میں اصلاحات لانے میں بڑی رکاوٹ رہے ہیں ۔ کیونکہ وہ بہتر طور پر سمجھتی ہیں کہ اگر جماعتیں مضبوط اور داخلی محاذ پر جوابدہ ہوں گی تو ان کی ذاتی حیثیت کمزور ہوگی ۔ جبکہ ذاتی حیثیت کو طاقت ور رکھنا ان کی سیاسی مجبوری بن گئی ہے جو جماعت کی مضبوطی میں رکاوٹ ہے ۔

جب ہم کسی بڑی سیاسی جنگ کی بات کرتے ہیں اور بالخصوص جو قوتیں یہ سوال اٹھاتی ہیں تو سب سے پہلے ان کے ماضی کے تجربات کو بنیاد بنا کر رائے عامہ اپنا کردار ادا کرتی ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ نواز شریف سمیت جو لوگ بھی حکمرانی کے نظام سے جڑے رہے یا جڑے ہوئے ہیں ان کے سامنے ادارہ جاتی سطح پر سیاسی ، قانونی نظام کو مضبوط بنانا نہیں ۔ سول بالادستی کی جنگ مضبوط اور خود مختاراداروں کی بنیاد پر لڑی جاتی ہے  جبکہ یہاں ہم اداروں کے بگاڑ کے کھیل میں زیادہ شریک رہے ہیں ۔  اداروں کو ساتھ ملا کر کام کرنے کی بجائے محض اپنا تسلط اور ذاتی مفادات کو بنیاد بنا کر نظام چلانا  ہی ٹکراؤ کا سبب بنتا ہے ۔ اس وقت بھی سابق وزیر اعظم نواز شریف سول بالادستی کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں  لیکن سیاسی معاملات کو اپنی ذات اور خاندان تک محدود کئے ہوئے ہیں۔

اس وقت ملک میں اداروں کی بدحالی  اور  جس انداز سے حکمران طبقہ نے اپنے من پسند افراد کو بھرتی اور تبادلے کرکے اپنے مفادات کو تقویت دی ، اس کا نتیجہ سول بالادستی کی مضبوطی کبھی نہیں ہوسکتا۔ سول ملٹری تعلقات میں جو نیا فہم ہمیں درکار ہے اس کا فقدان ہماری سیاسی قیادت اورجماعتوں میں واضح طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ جب معاملات کو مقابلے اور ٹکراؤ کی فضا یا دشمن کے طور پر دیکھیں گے تو اصلاح کے امکانات  نہیں رہتے۔   پاکستان کو سول بالادستی کی جنگ لڑنی ہے  لیکن یہ جنگ قانون کی حکمرانی سے بھی جڑی ہوئی ہے ۔ قانون کی حکمرانی جس میں اوپر سے لے کر نیچے تک سب ہی تابع ہوں وہی سول بالادستی کی جنگ کو آگے بڑھاسکتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ادارے آپ کے ساتھ کھڑے ہوں تو ادارے بالادست اور خود مختار ہیں ، جبکہ اگر فیصلے اداروں سے آپ کی مخالفت میں آئیں تو یہ ادارے آپ کے خلاف سازشوں کے کھیل میں مصروف ہوتے ہیں ۔ نواز شریف سمیت دیگر سیاسی طبقات کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی ہوگی کہ یہ سول بالادستی کی جنگ محض سیاسی نعروں ، دعوؤں اور جلسے جلوسوں میں غصہ  نکال کر جیتنا ممکن نہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے خود کو جمہوری ماڈل میں بہتر طو رپر پیش کرنا ہوگا ۔

پاکستان کے  نظام  میں ہے سیاسی اور قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ لیکن اس میں بڑی رکاوٹ موجودہ سیاسی اور سٹیٹس کو پر مبنی رویے اور افراد ہیں جو نظام کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ سول بالادستی کے بھی مخالف ہیں ۔ یہ بات طے ہے کہ جب تک ہم اپنے داخلی مسائل سے نجات حاصل نہیں کریں گے ، ہم غیر جمہوری قوتوں یا طاقت ور اداروں کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ کیا ہماری سیاسی قیادت  اس بڑی لڑائی کے لیے تیار ہے۔ اس کا جواب نفی میں ملتا ہے اور یہی بڑا المیہ بھی ہے ۔