گھاس چرتی خارجہ پالیسی
- تحریر سید شاہد عباس
- سوموار 28 / اگست / 2017
- 4666
امریکی مفادات کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ عاقل شخص میری نظر میں تو کوئی اور ہے نہیں۔ میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر ہو یا شورش زدہ علاقوں سے فوج کی تعداد میں کمی۔ اخراجات کے حوالے سے نیٹو ممالک کی کان کھچائی ہو یا پھر ہم خیال ممالک سے تعلقات، وہ ہر معاملے میں امریکی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ اور میرے جیسے دیوانے جو توقع لگائے بیٹھے تھے کہ شاید اس کی روش اقتدار میں آنے کے بعد تبدیل ہو جائے، حقیقت کا روپ نہیں دھار سکی۔
وہ ہمارا نہیں امریکہ کا صدر ہے۔ وہی کرے گا جس سے اس کے ملک کا مفاد وابستہ ہو گا۔ وہ اپنے لے پالک اسرائیل کے ساتھ بھی تعلقات کم نہیں کرے گا۔ بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں بھی بڑھیں گی۔ وہ چین کی مخالفت میں اندرون خانہ اقدامات بھی کرتا رہے گا ۔ ساتھ ہی بیرونی دنیا پہ اپنی دھاک بٹھانے کے لیے پاگل پن دکھاتا رہے گا۔ مگر ہم نے اس سارے معاملے میں کیا ایسا انہونا کیا جس سے یہ تاثر ملتا کہ ہم نے حال ہی میں اپنا 70 واں یوم آزادی منایا ہے اور ہم ڈکٹیشن لینے سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ مودی اتنا مضبوط ہو گیا کہ اپنے دامن پہ گجرات فسادات کے داغ لیے ہوئے بھی وہ دنیا کی سپر پاور کے کندھے پہ اپنی بندوق رکھ کے چلا رہا ہے۔ اور سپر پاور بھی اُس کی باندی بنے کندھا بخوشی پیس کر رہی ہے۔ تو ہم نے اس کے متبادل سی پیک کی بھبھکی کے علاوہ دنیا کو کیا پیغام دیا ،جس سے ثابت ہوتا کہ ہم بے شک امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن ہم میں ایران و وینزویلا جتنی طاقت تو ضرور ہے اور ہم ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہیں۔ ہم ایسا کچھ نہیں کر پائے۔
بھارت سپر پاور کے کندھوں تک پہنچ چکا ہے جب کہ ہم ابھی تک اُس کے پاؤں سے ہی نہیں اٹھ پائے۔ ہمارے حق میں چین بول پڑا اور واضح انداز میں بیان دیا مگر ہم شاید ابھی تک وہ کی بورڈ ایجاد نہیں کر پائے جس سے ہم ایک واضح جواب ٹائپ کر پائیں۔ روس اور چین اپنے مفادات کے لئے ہمارے حق میں بول پڑے۔ لیکن اپنے مفاد کے لئے ہم نہ بول پائے۔ اور حیرت کی بات ہے جو سویلین حکمران فوج کے کردار پہ تنقید کرتے ہیں وہ اس لمحے کیوں خاموش ہو جاتے ہیں جب فوج آگے بڑھتی ہے اور اس طرح کے پاگل پن پہ دنیا کو جواب دیتی ہے۔ اس وقت نہ جانے کیوں سویلین حکومت نہیں کہتی کہ جناب آپ کا کام سرحدوں کا دفاع ہے دنیا کو منہ توڑ جواب ہم دیں گے ۔ دفتر خارجہ دے گا۔ وزیر خارجہ دے گا۔ لولے لنگڑے سے بیانات اصل معاملے کے دو سے تین دن بعد آنا شروع ہو تے ہیں۔ وہ بھی شاید دیکھنے کے بعد کہ کس کے بیان سے کون سا لفظ ادھا لیں اور کسی کی مذمت سے کون سا فقرہ۔ خدا کرے کہ ہم اُسی تیزی سے دنیا کو بھی جواب دینے کی صلاحیت پیدا کر لیں جس طرح ہم اپنے کسی سیاسی مخالف کے بیانات کے جواب میں تیزی دکھاتے ہیں۔ ابھی کسی فریق کی پریس کانفرنس، جلسہ، ریلی جاری ہوتی ہے کہ اس کے دوران ہی اس پریس کانفرنس یا جلسے میں کہی گئی باتوں کے جواب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن عالمی سطح پر ہمارا ردعمل سستروی کا شکاررہتا ہے۔
یاد رکھیے۔ چین نے کھل کر امریکہ جواب دیا کیوں کہ چین کے اپنے مفادات ہیں۔ چین ون بیلٹ ون روڈ میں کسی بھی جگہ رکاوٹ نہیں چاہتا۔ وہ جانتا ہے کہ سی پیک جیسا اہم منصوبہ اسی ون بیلٹ ون روڈ عالمی منصوبے کا حصہ ہے ۔ روس اگر امریکہ کی مخالفت کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہماری یاری میں کررہا ہے بلکہ وہ خود پہ کئے گئے وار کو بھولا نہیں ہے اور اب اس قدر سنبھل چکا ہے کہ امریکہ کی آنکھ کا کانٹا بن چکا ہے۔ ہمیں اپنے دوستوں پہ انحصار کرنا ہوگا مگر اس سے پہلے ہمیں دوستوں کو دکھانا ہوگا کہ ہم خود کیا ہیں۔ ہم اپنی سالمیت کے دفاع کے حوالے سے کس قدر سنجیدہ ہیں۔ آپ خود اپنے آپ کو درست سمت میں گامزن کریں گے تب ہی ہمارے دوست بھی ہمارے شانہ بشانہ چلیں گے۔ نظر آنا چاہئے کہ ہمارا وزیر خارجہ ایک ایٹمی قوت کا وزیر خارجہ ہے نہ کہ ایک عہدے سے سبکدوش ہو جانے والے سیاسی راہنما کا کارندہ۔ ہمیں واضھ کرنا ہوگا کہ ہم دنیا کے ساتھ مل کر چلیں گے مگر ایک ایٹمی ملک کی طرح ، نہ کہ کسی دور افتادہ شورش زدہ کسی پسماندہ ملک کی طرح ۔۔۔