بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے والے.....
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 29 / اگست / 2017
- 5943
یہاں مجھے علماء سے پھر شکایت ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قرآن کریم اور اسلام کی تعلیمات کو دیانت دارانہ طریقے سے ہم تک پہنچائیں کیا وہ اپنے اس فرض کو ادا کرنے میں دیانت دار ہیں۔ یا انہوں نے خود کو ”دینی و مذہبی حکمران“ سمجھ کر مسلمانوں کو چرب زبانی کی لاٹھی سے پیٹ پیٹ کر ”سیدھا“ کرنے کی قسم کھا لی ہے۔ وہ صرف اسلام اسلام کے ورق کوٹنے پر لگے ہوئے ہیں اور صحیح جواب دینے سے گریز کرتے ہیں۔
جب سے تبلیغ اسلام کی ذمہ داری اناڑی، کم علم اور جاہل لوگوں کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے تب سے تعلیم یافتہ اور دانشور افراد کے ذہنوں میں سوالات کی ایک قطار لگ گئی ہے اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ان اناڑی، انڑ پڑھ، کم علم اور ابو جہل حضرات نے ایسے ایسے من گھڑت قصے اور واقعات ایجاد و اختراع کرکے دہرانے شروع کر دیئے ہیں جو حلق سے نیچے نہیں اترتے۔ دارافتاء کی مسندوں پر ایسے ایسے افراد قابض ہو گئے ہیں جو یہ صلاحیت ہی نہیں رکھتے کہ وہ مذہب یا دین سے متعلق کسی سوال کا تشفی و تسلی بخش جواب دے سکیں۔ میں نے ایمسٹرڈیم میں ایک جید عالم جو ڈاکٹر، پروفیسر اور شیخ الاسلام بھی ہیں کو ایک اجتماع میں ایک تحریری سوال نامہ پیش کیا جو ان کے نائبین نے وصول کرکے مولانا کی خدمت میں پیش کیا۔ میرا پہلا سوال تھا کہ حج بدل کا حکم قرآن کریم کی کس آیت میں ہے۔ دوسرا سوال تھا کہ عید الاضحی کے موقع پر جو قربانی مسلمان کرتے ہیں کیا مقام حج کے علاوہ یہ مسلمانوں پر فرض ہے۔ اگر یہ فرض ہے تو اس کا حکم غیر مقام حج کیلئے قرآن کریم کی کس ”آیت“ سے ثابت ہے مگر کوئی جواب نہ ملا۔
اللہ کے آخری نبی حضرت محمد نے اپنے آخری خطبہ تک میں واضح طور پر یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ”میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑتا ہوں۔ ایک اللہ کی کتاب (قرآن کریم) جس کے اندر ہدایت اور روشنی ہے، اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑو۔ اور دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں خدا کو یاد دلاتا ہوں۔“ آخری جملہ کو آپ نے تین دفعہ مکرر فرمایا۔ یہ صحیح مسلم (مناقب حضرت علیؑ) کی روایت ہے۔ نسائی، مسند امام احمد ترمذی، طبرانی وغیرہ میں کچھ اور فقرے بھی ہیں جن میں حضرت علی ؑ کی بھرپورمنقبت ظاہر کی گئی ہے۔ احادیث کے کئی قدیم ایڈیشنوں میں جو 1932 سے قبل طبع شدہ ہیں یہ الفاظ موجود ہیں ان میں کہیں منت کا ذکر نہیں ہے، احادیث کے جدید ایڈیشنوں میں اہل بیت کی جگہ کسی خاص ضرورت یا سازش کے تحت لفظ سنت کر دیا گیا ہے۔
حج بدل کا کوئی حکم قرآن پاک میں میری نظر سے نہیں گزرا۔ یہ سلسلہ کیسے قائم ہوا اور کس نے ”ایجاد“ کیا اس پر میں یہاں بحث نہیں کروں گا صرف اتنا عرض کروں گا کہ مرنے کے بعد انسان کا عمل سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی کتاب عمل بند کر دی جاتی ہے۔ قرآن کریم کا صاف اعلان ہے کہ کسی کا بوجھ کوئی دوسرا نہیں اٹھائے گا اور ہر شخص خود اپنے اعمال کا ذمہ دار ہوگا۔ فاتحہ صرف دعا ہے جس کو قبول کرنا یا نہ کرنا اللہ کا کام ہے۔ حج اور قربانی عمل ہے جس کا سلسلہ مرنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ کیا کوئی مفتیان دین و متین تاریخ سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ کسی صحابہ نے حج بدل کیا ہو۔ یا حضور اور خلفائے راشدین کے زمانے میں مسلمانوں میں حج بدل کا رجحان قائم ہو۔
کچھ حضرات ”ہبہ“ کی نظیر پیش کریں گے تو میں یہ عرض کروں گا کہ ہبہ زندگی اور ہوش و حواس قائم رکھنے والا ہی کر سکتا ہے مردہ نہیں۔ اور اگر ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے نیک اعمال کا ثواب پہنچا سکتا ہے تو پھر عمل بد کا کیوں نہیں۔ پھر تو لوگ گناہ کریں اور مردہ افراد کے سر ڈال دیں اور خود پاک و صاف ہو جائیں اور روزِ محشر اسی شخص کو سزا ملے گی جس کو گناہ کا ٹرانسفر ہو اور گناہ کرنے والا جنت میں مزے کرے گا اور حوض کوثر کے کنارے شراب طہورہ کے جام انڈیلے گا۔ یا پھر مفتی حضرات قرآن کریم کی اس آیت کا حوالہ دیں جس کی رُو سے ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے نیک اعمال کا ثواب پہنچا سکتا ہے۔
اسی طرح غیر مقام حج پر جانوروں کی قربانی کیسے واجب ہے۔ میں نے خاص اس سلسلہ میں قرآن مجید کا مطالعہ کیا ہے مجھے اللہ کی کتاب میں کوئی حوالہ نہ ملا۔ پھر میں نے رسول خدا کی مقدس سوانح حیات کا مطالعہ کیا۔ میں نے کہیں یہ نہیں پایا کہ آپ نے ان ایام میں جب آپ نے حج ادا نہیں کیا مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں قربانی کا فریضہ ادا کیا ہو، یہی حال صحابہ کرام کا رہا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ دین کے معاملہ میں ایک طالب علم ہوں یا دین کے معاملے میں ”نابینا“ رہاہوں ، ہو سکتا ہے قرآن کریم میں وہ نکات مجھ کو نظر نہ آئے ہوں جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ قربانی دنیا کے اہل زر ہر مسلمان پر واجب ہے۔ قربانی سے متعلق قرآن کریم میں سورة بقر کی آیت 196، سورة الحج کی آیت 36، 37، 34، 28 ہے جو حج سے ہی وابستہ ہیں لیکن ان میں کہیں بھی کوئی ایسی بات درج نہیں ہے جس سے میری تشفی ہو سکے ۔اور جو مروج ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کوئی دانشور علماء و مشائخ جو حقیقت شناس ہو اور میری اس تشنگی کو قرآنی آیات کے حوالے سے بجھائے کہ ہر بار جب میں حقیقت کیلئے دروازہ بند کرتا ہوں تو وہ کھڑکی کے راستے سے میرے گھر کے اندر داخل ہو جاتی ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمان حقائق پسند نہیں ہیں جبکہ حقائق کا ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس نے مسلمانوں کے علمی وجود کو ہر طرف سے چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے مگر مسلمانوں نے اپنے ”دروازوں اور کھڑکیوں“ کو بند کرکے سمجھا کہ وہ طوفان کی زد سے محفوظ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے غیر جانبدارانہ طور پر مسائل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو گئے کہ ہم نے تو بحر ظلمات میں اپنے گھوڑے دوڑا دیئے ہیں، اب ہم بے تیغ بھی لڑ سکتے ہیں۔ ہم نے آندھیوں سے کہہ دیا ہے بلکہ حکم دیا ہے کہ تم اپنا راستہ دوسری طرف تلاش کر لو، پھر یہ طوفان ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔
میری مانئے تو اپنے پچھڑے پن کا اعتراف کر لیجئے کہ مسلمانوں کیلئے تعمیر نو کا آغاز یہی ہے اور جب تک وہ اس کا اعتراف نہ کریں وہ اپنی منزل کی طرف کوئی حقیقی سفر شروع نہیں کر سکتے۔
نہ تسلی نہ تشفی نہ عنایت نہ کرم
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا