اسلام کا پیغام مساوات اور عملی صورت حال
- تحریر یاسر عرفات
- منگل 29 / اگست / 2017
- 6725
" کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئ فوقیت نہیں، نہ ہی کسی کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر"، یہ تھے وہ الفاظ جو اسلام کی 23 سالہ تبلیغ، ترویج اور تربیت کا نچوڑ تھے۔ آفاقی مساوات کا یہ کلیہ اپنے پس منظر میں نہ صرف عرب و عجم کے درمیان صدیوں سے موجود تفاوت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ انسانوں کے درمیان ہمیشہ سے موجود نسلی اختلافات کو بھی عیاں کرتے ہوئے ان کو ختم کرنے کی سعی کرتا ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ اس اصول کا مخاطب تو مسلمان تھے لیکن یہ اصول اپنے اندر تمام انسانیت کو سموئے ہوئے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی ایک فرد، قوم یا نسل کو دوسروں سے اس لئے کمتر یا برتر قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ایک مخصوص علاقے یا نسل میں جلوہ افروز ہوئے ہیں، اس کلیے کی رو سے تو انسانیت کو اساس ٹھہرنا چاہئیے تھا اور ہر طرح کے نسلی، گروہی، لسانی، قومی اور مذہبی اختلافات کو معدوم ہو جانا چاہئیے تھا لیکن عملی طور پر کوئی ایک بھی مسلمان ملک دور دور تک بھی اس اصول کو نہ اپنا سکا۔ کیا پچھلے دنوں انصاف کے اعلیٰ ترین ایوانوں سے عقل و دانش کے یہ موتی نہیں بکھیرے گئے تھے کہ جن سے پاکستان آزاد کروایا گیا تھا میں ان کا نام بھی نہیں لینا چاہتا۔ تو اب حصولِ انصاف کے لئے اقلیتیں ہندوستان کی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائیں گی۔ کیا حضرت علی اور ایک یہودی کا قاضی کے سامنے انصاف کے لئیےپیش ہونا بذاتِ خود ایک عملی مثال نہیں ہے۔
ذرا خود تصور کریں کہ پراڈو پہ بیٹھے مولانا فلاں اینڈ فلاں اس پراڈو کی گرد میں اٹے اور اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے اپنےغلامان کے ہم نوالہ کیسے ہوں گے۔ جن پیروں کی سواری مریدین کی پیٹھوں پہ چلتی ہو وہ آپس میں ہم پیالہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ کیا اسلام آباد کہ جس کا نام ہی اسلام سے متاثر ہو کر رکھا گیا تھا اس کے مرکز میں واقع اشرافیہ کلب کے مرکزی گیٹ پر سالِ گزشتہ میں لگایا گیا انتباہی نوٹس بھول گیا ہے جس میں خادماؤں اور کتوں کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اگر برابری کا زعم ہے تو کسی کینٹ بورڈ میں داخلے کی کوشش کیجئے لیکن اپنی ذمہ داری پر۔ چلئے چھوڑیئے، اس فارمولے کا سہارا لے کر اپنے گرد و نواح کی کسی مخالف فرقے کی مسجد میں ہی داخل ہونے کی کوشش کرکے دیکھیں اور وہاں کے پرہیز گاروں کو بارآور کرائیں کہ معیار صرف تقویٰ ہے اور کمتری اور برتری کا احساس بھی گناہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کے بعد آپ سے اگلی ملاقات کسی ہسپتال میں ہی ہوگی۔
مقامی سیاست میں تو خیر سے یہ بات ہی ناممکن ہے کہ علاقائی ، لسانی، مذہبی یا ذات برادری کی وابستگی کے بغیر ایوانِ اقتدار میں پہنچا جائے۔ کیا پاکستان میں مختلف زات برادریوں کے نام ایک گالی کے طور پر استعمال نہیں ہوتے۔ اپنے ہاں تو چلن یہ ہے کہ ایک مخصوص خطے کی بالادستی اور اقتدار قائم رکھنے کے لئے دوسرے کو نسلی و لسانی بنیادوں پر نہ صرف دولخت کر دیا گیا بلکہ باقی ماندہ پاکستان میں بھی وہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ یقین نہیں آتا تو حالیہ مردم شماری کے نتائج پر ایک طائرانہ نظر ہی ڈال لیں۔ جس میں کراچی کی آبادی تو کچھوے کی رفتار سے بڑھتی دکھائی گئی لیکن لاہور میں جیسے محکمہ بہبودِ آبادی الٹا آبادی بڑھانے کے لئے کوشاں ہے۔
یہ نہ صرف علاقائی عصبیت کا عملی مظاہرہ ہے بلکہ اسی بنیاد پر اپنی سیاسی برتری کو قائم رکھنے کا نسخۂ کیمیا بھی۔ تو جس مساوات اور میرٹ کا ذکر نبی کریم نے خطبۂ حجتہ الوداع میں کیا تھا اس کی عملی تصویر 1500 سال بعد بھی نظر نہیں آئی تو پھر کب اور کہاں نظر آئے گی۔