ندیم افضل چن کے سیاسی اصول

ایک مدت بعد پیپلز پارٹی کا روائتی جوش و خروش والا جلسہ دیکھنے کو ملا۔ ایسے میں  معظم بھٹی اکرام اور ڈاکٹر بشیر شاہ کی ہمراہی میسر ہو تو لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا روائتی سپورٹر اپنے کپڑوں اور جوتوں سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ لوئر مڈل کلاس  اور  دیہاتی اور شہری پس منظر رکھتے ہیں۔ ملازمت پیشہ نچلے طبقے کے سرکاری ملازمین، مزدور اور کسان جبکہ اس کی قیادت نوے کی دہائی میں مختلف سماجی اور معاشی پس منظر رکھتی تھی۔

جلسے میں خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی لیکن کوئی ناخوشگوار واقعہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ اس کے علاوہ کسی میڈیا گروپ سے تعلق رکھنے والے صحافی اور اس کی گاڑی کو نقصان نہیں پہنچا۔ گو جلسے سے خورشید شاہ یوسف، یوسف رضا گیلانی، قمر زمان کائرہ، منظور وٹو اور دیگر راہنماوں نے بھی خطاب کیا لیکن بلاول بھٹو کے پر اثر خطاب کے بعد سب سے زیادہ داد  ندیم افضل چن کے خطاب کو ملی۔ ندیم افضل چن اور قمر زمان کائرہ پنجاب کی سیاست کا نیا اور روشن چہرہ ہیں۔ ان دونوں کا تعلق درمیانے طبقے سے ہے۔ ان کی سیاست کا خمیر اسٹیبلشمنٹ کی نرسری سے نہیں اٹھا۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز طلبہ سیاست،  بلدیاتی سیاست اور پھر قومی سیاست  سے کیا- اور  اپنی سیاسی جدوجہد اور ذاتی صلاحیت کے ذریعے اپنی جگہ بنائی۔  دونوں راہنماؤں پر کرپشن کا داغ نہ لگ سکا۔

ندیم افضل چن نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں مختصر وقت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی میں موثر فیصلے کئے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ججوں اور جرنیلوں کو ملنے والی مراعات اور پلاٹ کی تفصیلات طلب کیں۔ لیکن پاکستان میں جمہوریت ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوئی کہ ان سوالات کا جواب مل سکے۔ ندیم افضل چن کی تقریر پاکستان کی  اشرافیائی جمہوریت سے عوام کی مایوسی دور کرنے کا نسخہ ہے۔ ندیم افضل چن نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے عہد لیا کہ اگر پارٹی اقتدار میں آئی تو ہماری حکومت پر اور الزامات بھلے لگ جائیں لیکن کرپشن کا داغ نہیں لگنا چاہیے۔

دوسرا مطالبہ یہ کیا کہ پیپلز پارٹی میں کارپوریٹ مافیا سے خبردار رہنا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کو غریب عوام کی نمائندگی کرنی چاہئے۔ سرمایہ داروں جاگیرداروں نے سرمایہ کے زور پر آج ہر سیاسی جماعت کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ندیم افضل چن کا تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ اگر ہماری حکومت قائم ہوئی تو اس میں مزدور اور کسان کی نہ صرف نمائندگی ہونی چاہئے بلکہ ان کا ہماری حکومت میں حصہ ہونا چاہیے۔

ندیم افضل چن کے یہ  مطالبات پر نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ ہر سیاسی جماعت کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ وہ جمہوریت جس میں مزدور اور کسان کی نمائندگی نہ ہو ہمیشہ خطرہ میں  رہتی ہے۔