نواز شریف کی سیاسی فہم
- تحریر سردار فواد
- بدھ 30 / اگست / 2017
- 4281
نہیں کرنے کا میں تقریر ادب سے باہر
میں بھی واقف اسرار ہوں کہوں یا نہ کہوں
وقت بدل چکا ہے نہ تو اب وہ وقت رہا کہ جب محبوبہ کو اپنی محبت کی یقین دہانی کے لئے کچھ موسمی عاشق کسی پرندے یا جانور کا خون نکال کر خط لکھ بھیجتے تھے ۔ اور یہ پیغام دینے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ میں نے اپنے جسم کے خون سے لکھا بلکہ یوں کہیے کہ خون جگر سے لکھا ہے۔ اور یہ میری سچائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اتفاق دیکھئے نہ تو اس دور میں فرانزک ٹیسٹ کی سہولت موجود تھی اور اگر ہوتی تو ہزاروں عشاق بے نقاب ہوئے پھرتے۔
آج عالمی سیاست کا منظر نامہ بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ سعودی عرب دیگر، اسلامی ملکوں کے سامنے مذہب کا ٹھیکیدار ثابت ہونے کےلئے اور ایران کو عالمی تنہائی کا شکار کرنے اور دنیا کے امن کے لئے خطرہ ثابت کرنے کی خاطرفرسودہ دلیلیں پیش کررہا ہے۔ لیکن وقت بدل چکا ہے اب سیاست میں فرا نزک ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے۔ سچ اور جھوٹ کا موازنہ بہتر انداز میں کیا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب کے زیر سایہ بننے والے فوجی اتحاد اور پھر اس اتحاد کو دنیا میں مثبت ثابت کرنے کی غرض سے او دنیا کی ہمدرد یاں حاصل کرنے کے لئے بلائی جانے والی کانفرنس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ جس میں بلا تفریق سعودی مفادات اور ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کی سوچ کار فرما نظر آئی ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد اور ٹرمپ کو اسلامی بلاک کے غیر اعلانیہ سربراہ کے طور پر منظر عام لایا گیا۔ اسی کانفرنس میں مصر کے ڈکیٹیر جنرل سیسی جیسے عوام دشمن کو ایک مسیحا کے روپ میں شرکت کروائی گئی۔ یہ وہی جنرل سیسی تھے جنہوں نے مصر کی جمہوری حکومت پر قبضہ کرنے کے لئے نہتے عوام پر ٹینک چڑھادئیے تھے۔ جمہوری حکومت پر قبضہ کرنے کے لئے اور اپنی آمریت کو قائم کرنے کےلئے سیسی ظلم کی ہر حد پار کرتے دکھائی دیئے۔
کانفرنس میں جہاں سیسی کو مسیحا کے طور پر پیش کیا گیا وہاں ہندوستان کو بھی خطے میں دہشتگردی کے خلاف موثر کردار اداکرنے کےلئے سراہا گیا۔ جبکہ پاکستان کے دہشتگردی کے خاتمے کےلئے کئے جانے والے سفر کو نظر انداز کرنا یارمار ڈاکٹرائین کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر عالمی سیاست اور حالات سے کڑیاں جوڑی جائیں تو امریکہ کی ناراضگی کا رشتہ مشرف دور میں اختیار کی جانے والی ڈبل گیم کے ساتھ جڑتا ہے۔ جس میں مشرف بظاہر دائیں ہاتھ سے طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اتحاد ی بنے رہے اور بائیں ہاتھ سے وہ گڈ طالبان نامی ایک ناسور کو دلاسہ بھی دیتے رہے ۔ اور طالبان کے خلاف جنگ کے عوض امریکہ سے اربوں ڈالر کا قرضہ بھی وصول کرتے رہے ۔ جبکہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت نے دوغلی پالیسی کا پردہ چاک کر دیا۔ آمریت کے ان سیاہ ادوار میں اٹھائے جانے والے غلط اقدامات اور پالیسیوں کے وجہ سے پاکستان کی سیاسی حکومتوں کو عالمی دوستوں کے ساتھ مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ جس کی ایک جھلک امریکہ سے تعلقات کی کی دوری کی صورت میں نظر آرہی ہے ۔ جبکہ سعودی عرب کے پاکستانی سیاسی قیادت سے فاصلے سعودی عرب کی اسلام کے نام پر ضرورت سے زیادہ توقعات کے حصول میں ناکامی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔
عین اس وقت میں جب سعودی عرب نےپاکستان سے فوجی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی اور ان کی توقعات تھیں کہ پاکستان آنکھ بند کرکے اس فوجی تعاون کے دستاویزات پر دستخط کرے گا۔ لیکن وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے سیاسی دانش کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مسئلے کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھ دیا اور پارلیمنٹ کی رہنمائی اور سوچ سے فائدہ اٹھایا۔ پارلیمنٹ نے اجتماعی دانش کا مظاہرہ کرتے ہوئے یمن کے فسادات سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ جسے عالمی دنیا نے سراہا کہ پاکستان کی جمہوری حکومت نے بالغ فیصلے کرنے شروع کردیئے ہیں۔ جبکہ گزشتہ آمریت میں ایک کال پر امریکہ کے سامنے مشرف نے پاکستان کو ایک کرائے کی ریاست کے طور پر پیش کردیا تھا۔ اس جنگ میں شمولیت کے غلط فیصلے کی وجہ سے پاکستان کو ایک سو ارب سے زیادہ کا نقصان اٹھا نا پڑا اور امریکہ کی شاباش بھی پاکستان وصول بھی نہ کرسکا۔ جبکہ یمن جنگ میں نواز شریف اور پارلیمنٹ نے دور اندیشی اختیار کرنے کے بعد دوسری مرتبہ پھر سعودی عرب اور باقی عرب ملکوں کو اس وقت حیرت میں ڈال دیا جب عرب فوجی اتحاد میں شمولیت اور ایران کے خلاف بننے والے بلاک میں شامل ہونے سے معزرت کر لی گئی۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے خطے میں ہونے والی ممکنہ ہولناک جنگ میں پاکستان کے نہ صرف ہاتھ اور منہ کوکالا ہونے سے بچایا بلکہ سعودی عرب اتحاد ، ایران اور قطر کے درمیان دشمنی کے خاتمے کے لئے خود کو ثالث کے طور پر پیش کردیا ۔ ان ملکوں سے مثبت سفارتی عمل کے ذریعہ ثالثی کروانے کی کوشش کی اور یہ کریڈٹ منتخب وزیر اعظم نواز شریف کو ہی جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ریٹارڈ آرمی چیف راحیل شریف کا عرب فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کا فیصلہ ان کی ذاتی ملازمت تک محدودہے۔ جس پر پاکستان کے سیاسی حلقوں نے شدید تنقید کی ۔ حکومت نے جمہوری عمل کی تقویت کے لئے اس مسئلے میں الجھنے سے خود کو بچائے رکھا۔ لیکن ایک مثبت پیش رفت یہ ہوئی کہ پاکستان کی سیاسی قیادت نے مذہبی جماعتوں اور طالبانی سوچ کی انتہا پسند سبھی قوتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو ہر صورت اہمیت دی اورانہیں قائم رکھا۔ جس میں ایران، افغانستان اور ہندوستان کے ساتھ ماضی کی سبھی رنجشوں کے باوجود سفارتی عمل کو کمزور نہ پڑنے دیا۔ کسی بھی پراکسی سفارت کو قبول نہ کیا۔ چاہے وہ پراکسی امریکہ کی ہو، سعودی عرب کی یا دیگر اندرونی اور بیرونی رجعت پسند طاقتوں کی ہو۔
نواز شریف سب مشکلات کو نظر انداز کرتے ہوئے خطے میں پاکستان کوایک پرامن اور دور اندیش ریاست کے طور پر سامنے لائے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نوازشریف اور پاکستان کی جمہوری جماعتیں پاکستان کو مشرف دور میں بنائی گئی سیکیورٹی سٹیٹ سے ایک فلاحی ریاست کی طرف لے کر جارہے ہی۔ اس لئے کہ نواز شریف اور پارلیمنٹ کی سیاسی آنکھ دیکھ چکی ہے کہ وقت بدل چکا ہے۔ غالب نے کہا تھا:
وہ نشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
نگاہ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے