پاکستان دشمن کی آنکھ میں کھٹکتا ہے
- تحریر شیخ خالد زاہد
- بدھ 30 / اگست / 2017
- 4003
ایسے شواہد مشاہدے میں آئے ہیں کہ پاکستان کا وجود میں آنا کسی معجزے سے کم نہیں تھا ۔ تحریکِ پاکستان کا قیام پاکستان پر ہی دم لینا، اس معجزے کی ایک دلیل ہے۔ دنیا جہان میں کسی خاص مقصد کہ حصول کیلئے چلنے والی تحریکوں میں تحریک پاکستان منفرد اور یکتا ہے۔ تحریک پاکستان سے قبل مسلمان اپنے حقوق کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ انہیں مذہبی آزادی ، گائے کو ذبح کرنے کی آزادی ، اخلاقی اور معاشرتی آزادیوں کی ضرورت تھی۔ انہیں یہ ساری آزادیاں انفرادی طور پر درکار تھیں۔
مسلمان انفرادی جدوجہد میں اپنی جانیں بھی قربان کر رہے تھے، شہادتیں بھی ہو رہی تھیں مگر اجتماعیت کا فقدان تھا۔ پھر بنگال میں مسلمانوں کے اجتماعی حقوق کے حصول کیلئے ایک جماعت تشکیل پائی جس کا نام مسلم لیگ رکھا گیا۔ اس جماعت کے وجود میں آنے کی ایک اہم وجہ ہندوستان میں کانگریس کا رویہ تھا۔ کانگریس اپنے آپ کو ہندوستان میں رہنے والوں کی نمائندہ جماعت کہتی تھی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس جماعت کا جھکاؤ ہندوستان سے ہٹ کر ہندوؤں تک ہوتا چلا گیا اور یہ جماعت مسلمانوں کو نظر انداز کرنے لگی۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں نے ایک ایسی جماعت کی کمی کو پورا کرنے کیلئے جو مسلمانوں کے اجتماعی حقوق کی علم بردار ہو مسلم لیگ قائم کی۔
دوقومی نظریہ نے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی اس دوقومی نظرئیے نے سارے ابہام ختم کردئیے اور یہ واضح کردیا کہ مسلمانوں کیلئے ایک الگ ریاست ناگزیر ہے ۔ مسلمانوں کی جدوجہد کو ایک راستہ مل گیا جس پر چل کر پاکستان حاصل کیا گیا۔ قدرت کی خاص مہربانی پاکستان وجود میں آگیا۔ مسلمانوں نے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ تحریک کی اعلی قیادت پاکستان کا نظم نسق سنبھالتے سنبھالتے دار فانی سے کوچ کر گئی اور جولوگ بچ گئے تھے انہوں نے یہ سمجھا کہ ان کا کام ختم ہوگیا اور وہ اپنی مذہبی اور معاشرتی آزادی میں مطمئن ہوگئے۔ وہ اعلی قیادت خلا پر نہیں کرسکے۔ اس وجہ سے پاکستان نامعلوم افراد کے ہاتھوں یرغمال بنتا چلا گیا۔ وطن عزیز آہستہ آہستہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا جو آزادی کیلئے دی جانے والی قربانیوں سے بھی نا بلد تھے ۔ انہوں نے پاکستان کو پہلے دن سے ہی نوچ نوچ کر کھانا شروع کر دیا۔ مسلم لیگ کے رہنماؤں کی قابلیت و اہلیت اور جذبہ ایمانی پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا مگر ان کی بصیرت کی کمزوری تھی کہ پاکستان ان کے جانشینوں کے ہاتھوں میں اپنی نشونما نہیں پا سکا۔
پاکستان اپنی حقیقی منزل سے بے خبر مفاد پرستوں کے ہاتھوں کھلونا بن گیا۔ پچھلے ستر سالوں میں اس ملک کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا مگر یہ ملک اپنے خاص محلِ وقوع کی وجہ سے ، قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کی وجہ سے ، زرخیز زمین کی وجہ سے اور سب سے بڑھ کر پیشہ ور افواج کی وجہ سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کی اہمیت اغیار کو سمجھ آگئی۔ انہوں نے اس ملک میں انتشار پھیلانا شروع کردیا۔ ہمارے پاکستانی بھائی ان سازشوں میں ان کا ساتھ دیتے رہے۔ دشمن ہمیشہ کسی نا کسی کا کاندھا استعمال کرکے پاکستان کو نقصان پہنچاتا رہا ہے ۔ ہمارا دشمن پاکستان کی اہمیت اور دور رس افادیت کو پہچان چکا ہے جس کی وجہ سے وہ پاکستان کو ہر صورت اپنے تابع کرنے کیلئے کوششیں کرتا رہتا ہے ۔
پاکستانیوں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ ساری دنیا چھوڑ کر امریکہ کو پاکستان ہی کیوں کھٹک رہا ہے۔ در اصل امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان کے وسائل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں پاکستان کے سیاستدان اپنے ہی ملک کو لوٹنے اور ہر طرح سے نقصان پہنچانے میں مصروف رہتے ہیں، اس کے باوجود ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ دشمن پاکستان کی اہمیت کو سمجھ چکاہے مگر پاکستانی اس بات کو نہیں سمجھ رہے۔ پاکستان کو محفوظ رکھنے اور کامیاب کروانے کے لئے ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ آخر پاکستان ہی کیوں نشانے پر رہتا ہے۔