ڈاکٹر روتھ فاؤکی یاد میں

دنیا میں کچھ  شخصیات ایسی ہوتی ہیں  لوگ جن کو زندگی میں بھی اور ان کے مرنے کے بعد بھی اچھے لفظوں میں یاد رکھتے ہیں ۔ ایسی ہی کمال کی شخصیت جرمنی سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈاکٹر روتھ پاؤ بھی ہیں ۔ چند دن قبل جب ان کے انتقال کی خبر سننے کو ملی ، تو دل بہت اداس ہوا  لیکن خوشی اس بات کی تھی کہ وہ ایک بھرپور زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوئیں۔ ان کی زندگی محض ایک روائتی زندگی نہیں تھی بلکہ ایک خاص مقصد جس میں انسانیت کی خدمت پیش پیش تھی۔

دنیا میں دو ہی طرح کے لوگ آتے ہیں۔ ایک وہ جو روائتی انداز میں زندگی گزارتے ہیں اور دوسرے وہ جو ایک مقصدیت کے تحت زندگی کو اپنا مشن بناتے ہیں ۔ ڈاکٹر روتھ پاؤ ایک ایسا ہی کردار تھا جس نے ایسے لوگوں یا مریضوں کے ساتھ زندگی گزاری جو عمومی طورپر لوگ ایسا نہیں کرتے۔ یہ واقعی بڑے انسان کی نشانی ہے ۔ وہ نو ستمبر 1929کو جرمنی میں پیدا ہوئیں  لیکن ان کا دل واقعی پاکستان میں دھڑکتا تھا ۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 57 برس پاکستان میں ہی گزاردیے اور مرتے دم تک اسی زمین کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑے رکھا۔ یہ ڈاکٹر روتھ کی خدمات کا ہی نتیجہ ہے کہ آج پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں کوڑھ کے مرض کا تقریبا خاتمہ ہوچکا ہے اور ان ہی کی بدولت اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم ’’ عالمی ادارہ صحت نے 1996میں پاکستان کو ایشیا میں سب سے پہلے اس مرض پر قابو پانے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ ڈاکٹر روتھ نے اپنی آنکھوں سے جنگ کی تباہ کاریاں دیکھیں اور آسمان سے گرتے گولوں میں اپنے اکلوتے بھائی کو مرتے دیکھا ۔ تمام تر جنگ مشکلات برداشت کرتے ہوئے وہ مشرقی جرمنی سے مغربی جرمنی اپنے خاندان کے افراد کے ہمراہ منتقل ہوگئیں ۔ یہاں انہوں نے شعبہ طب میں تعلیم حاصل کی اور اسی دوران’’ ڈاکٹر آف ہارٹ آف میری‘‘ نامی تنظیم سے وابستہ ہوگئیں ۔

ڈاکٹر روتھ پاؤ اکتیس برس کی عمر میں پاکستان تشریف لائیں اورجب انہوں نے یہاں کوڑھ کے مریضوں کی حالت دیکھی تو یہیں کام کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا ۔ ان کی عمر ستاسی برس تھی جس میں سے ستاون برس پاکستان میں گزارے ۔ بلآخر 10اگست2017 کو ستاسی برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئیں ۔  ان کی وصیت تھی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کو پاکستان میں ہی دفن کیا جائے جو یقینی طور پر ہم پاکستانیوں کے لیے اعزاز سے کم نہیں ۔  ڈاکٹر روتھ ہی تھیں جو کوڑھ کے مریضو ں کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتیں جو ان کو اپنے سگے گھر والوں سے بھی نہیں ملتا تھا ۔ ڈاکٹر روتھ نے ثابت کیا کہ مرض اور مریض چاہے کتنا ہی بڑا اور خطرناک کیوں نہ ہو، ہمیں ان سے محبت ، ایثار اور شفقت سے پیش آنا چاہیے ۔ یہ احساس کسی بھی طور پر مریض میں نہیں دینا چاہیے کہ وہ بوجھ ہے یا اس کی موجودگی انسانوں کے لیے بڑا خطرہ ہے ۔

بنیادی طور پر ڈاکٹر روتھ فاؤ کام کے حوالے سے بھارت جانا چاہتی تھیں لیکن ویزا نہ ملنے کی وجہ سے ان کو پہلی بار پاکستان کا رخ کرنا پڑا۔ اگر اس وقت ان کو بھارت کا ویزا مل جاتاتو شائد وہ پاکستان نہ آتیں ۔ لیکن پاکستان عملی طور پر ان کا راستہ دیکھ رہا تھا اور ان کی آمد یقینی طور پر ہمارے لیے ایک بڑا اثاثہ ثابت ہوئی۔ پاکستان میں مریضوں کی حالت دیکھ کر ڈاکٹر صاحبہ نے جرمن خط لکھا کہ اصل کام پاکستان میں ہی کرنے کا ہے اور میں یہیں رہ کر ہی کام کروں گی ۔ 1963 میں ڈاکٹر روٹھ فاؤ نے پاکستان میں پہلی مرتبہ جزام سینٹر کی بنیاد رکھی ۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ یہ وہ دور تھا جب کوڑھ کے مریضوں کو رات کے اندھیرے میں ہسپتال منتقل کیا جاتا تھا کیونکہ ان مریضوں کو خطرناک مریض سمجھا جاتا تھا ۔ لیکن جب علاقوں کے مکینوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے باقاعدہ طور پر اس ہسپتال کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ۔ اس زمانے میں ایک بااثر شخصیت ڈاکٹر زرینہ فضل بائی نے ان کی مقدمہ میں مدد کی ، تب یہ ہسپتال آگے بڑھ سکا ۔

ڈاکٹر روتھ نے اپنے کام کو محض کراچی تک محدود نہیں رکھا بلکہ ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص شمالی علاقوں میں جزام کے سینٹرز کی بنیاد رکھی۔ لوگوں میں شعور دینے کے لیے کئی بار مہم چلائی ، فنڈز اکھٹے کیے ، لوگوں کو ان مریضوں سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ تربیت دی جن میں پیرا میڈکس بھی شامل تھے ۔ انہوں نے 1975-76 اور 1984میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں لیپریسی سنٹر کھولے۔ پہلی بار جب وہ کراچی کی ایک ایسی بستی سے گزریں جہاں کوڑھ کے مریض رہتے تھے اور اس آبادی کا نام ’’ کوڑی احاطہ ‘‘ تھا ۔ ان کے بقول اس علاقے سے عام لوگ بالکل نہیں گزرتے تھے اور ان مریضوں سے کے ساتھ عملا غیر انسانی سلوک ہوتا تھا ۔ یہ  حالات تھے کہ ڈاکٹر روتھ بس پاکستان کی ہی ہوکر رہ گئیں ۔ ڈاکٹر روتھ پاؤ کے بقول جب وہ ابتد ا میں ان کوڑھ کے مریضوں کی طرف جاتی تھیں تو عام آدمی تو کجا خود کوڑھ کے مریض بھی ان کو اپنے قریب آنے سے منع کرتے تھے ۔

حکومت پاکستان نے ان کو اپنا خصوصی ایڈوائزر بھی مقرر کیا اور کئی اہم قومی اعزازت سے ان کو مختلف ادوار میں نوازا جو ان کے بڑے کام کا ایک مختصر انعام بھی تھا۔ وہ پاکستان میں رہ کر پاکستانیوں میں ایسی رچ بس گئیں کہ بس اپنا وطن  بھول گئیں اور یہاں کے کلچر میں ہی خود کو ڈھال لیا تھا ۔ یہ اچھی بات ہے کہ ڈاکٹر روتھ پاؤ کو حکومت پاکستان یا ریاست نے سرکاری اعزاز کے ساتھ دنیا سے رخصت کیا  جس کی وہ  مستحق تھیں ۔ اس وقت ملک بھر میں ڈاکٹر روتھ پاؤ کے  157جزام سنٹر کام کررہے ہیں جس میں کوڑھ کے امراض کے علاوہ دیگر مرض کا بھی علاج کیا جاتا ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض کردار مر کر اپنی پہچان زیادہ منواتے ہیں ۔ ڈاکٹر روتھ پاؤ  ان میں سے ایک کردار تھیں ۔ بہت سے پاکستانیوں کو ان کے جانے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ کیا کمال کی شخصیت تھیں اور اس کس بڑے کام سے وابستہ تھیں ۔ لاہور کالج آف ویمن یونیورسٹی نے ان کی یاد میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا۔ راقم کو بھی اس خصوصی تقریب میں دعوت دی گئی ۔ تقریب وائس چانسلر ڈاکٹر عظمی قریشی کی صدارت میں ہوئی جبکہ تقریب کا اہمتام کرنے والوں میں ڈاکٹر انجم ضیا ، ڈاکٹر فلیحہ کاظمی اور ڈاکٹر سارہ شاہد پیش پیش تھیں ۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ ایک طرف نوجوان نسل کو ڈاکٹر روتھ فاؤ کی شخصیت اور کام کو سمجھنے کا موقع ملا ، اس میں اہم کام ڈاکٹر انجم ضیا کا تھا جنہوں نے ایک خوبصورت ڈاکومنٹری فلم ان کی زندگی پر بنائی تھی ۔ اسی طرح یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکڑعظمی قریشی بھی مبارکباد باد کی مستحق ہیں جنہوں نے میری کچھ تجاویز پر اہم اعلانات بھی کیے ۔ ان میں اول ویمن انسٹی ٹیوٹ آف لیڈر شپ اینڈ لرننگ will کو ڈاکٹر روتھ فاؤ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا۔ دوئم ہر برس سماجی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر روتھ فاؤ گولڈ میڈل ایوارڈ کا اعلان اور سوئم ان کی تجویز کہ ڈاکٹر روتھ فاؤ کی خدمات پر ’’ چیئر برائے امن ‘‘ قائم ہو اوران کو امید ہے کہ سنڈیکیٹ اس تجویز کو قبول کرلے گا ۔

پاکستان میں اگر ہم اپنے تعلیمی اداروں اور اس سے وابستہ نصاب میں ڈاکٹر روتھ پاؤ کے کام اور شخصیت پر ایک مضمون بھی سماجی علوم میں شامل کرلیں تو نئی نسل  آگاہ ہوگی کہ وہ کون  تھیں اور کس طرح انہوں نے لگن، شوق ، جذبہ اور دیانت داری  سے پوری زندگی جزام کے امراض سے نمٹنے میں صرف کردی ۔ ایسے لوگ  قوم کے ہیروز کا درجہ رکھتے ہیں اور ان ہیروز میں ڈاکٹر روتھ فاؤ بھی شامل ہیں ۔ ہر پاکستانی کو ڈاکٹر روتھ پاؤ کی خدمات اور شخصیت پر فخر ہے۔