حسن بن طلال کی کہانی۔ اور ن لیگ

انسانی فطرت ہے کہ ہم مثالوں سے بات آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔ مشکل سے مشکل بات کو بھی اگر کسی مثال سے سمجھایا جائے تو بچوں کو بھی سمجھ آجاتی ہے۔ اسی طرح زندگی میں پیش آنے والے مختلف واقعات اور صورتحال سے نمٹنے کے لئے بھی ہم اسی قسم کے واقعات کی مثالیں  اور ان کے نتائج ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ مثالوں سے سمجھنے کی یہ انسانی حس دنیا بھر میں یکساں مضبوط ہے۔

اسی تناظر میں میرا ایک دانشور دوست جس سے میں سیاسی دانش کی باتیں سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں مجھ سے ضد کررہا ہے کہ پاکستان میں نون لیگ کی سیاست کو سمجھنا ہے تو اردن کے حسن بن طلال کی کہانی کو پڑھو اور سمجھو۔ میں اسے کہتا ہوں کہ کہاں اردن کہاں پاکستان۔ وہاں بادشاہت یہاں جمہوریت یا آمریت۔ وہ ایک عرب ملک ہم ایک جنوبی ایشیا کا پسماندہ ملک۔ لیکن وہ بضد ہے کہ حسن بن طلال کی کہانی پڑھی اور سمجھی جائے۔

حسن بن طلال کی کہانی بہت سادہ ہے۔ وہ اردن کے بادشاہ شاہ حسین کے چھوٹے بھائی ہیں۔ ان کے بھائی نے انہیں اٹھارہ سال کی ہی عمر میں اپنا ولی عہد بنا دیا۔ انہیں ولی عہد بنانے کے لئے اس وقت کے اردن کے نام نہاد آئین میں بھی بادشاہ وقت کو ترمیم کرنی پڑی۔ کیونکہ وہ بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ وہ 34  سال شاہ حسین کے ولی عہد رہے۔ وہ ایک مضبوط ولی عہد تھے۔ جن کی ہر بات مانی جاتی تھی۔ یہ کہا جاتا تھا کہ وہ شاہ حسین کی آنکھیں اور کان تھے۔ بڑے بھائی نے تقریبا تمام امور سلطنت اپنے چھوٹے بھائی کے حوالہ کئے ہوئے تھے۔ یہ حسن بن طلال ہی تھے جنہوں نے اردن اور اسرائیل کے درمیان تعلقات قائم کئے۔ بادشاہت میں شراکت اقتدار میں اس کہانی کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ لیکن 34 سال حسن بن طلال ولی عہد رہے اور یہی سوال گردش کرتا رہا کہ شاہ حسین اپنے بعد انہیں بادشاہ بننے کا بھی راستہ دیں گے۔ کیا وہ بادشاہ بن سکیں گے۔ اس کے جواب میں یہ دلیل دی جاتی تھی کہ وہ بادشاہ ہیں۔ شاہ حسین نے انہیں تمام اختیارات د یئے ہوئے ہیں۔ لیکن پھر بھی یہ سوال رہتا کہ کیا حسن بن طلال ولی عہد کے بعد بادشاہ بن سکیں گے۔

پھر 1998 میں شاہ حسین کو کینسر ہو گیا۔ وہ علاج کے لئے امریکہ چلے گئے۔ وہ چھ ماہ اپنے علاج کے لئے امریکہ رہے ۔ ان کی غیر موجودگی میں بھی اس دوران حسن بن طلال نے ہی اردن کی باگ ڈور سنبھالے رکھی۔ لیکن یہ پہلی بار نہیں تھا پہلے بھی جب شاہ حسین باہر جاتے تھے تو امور سلطنت چھوٹے بھائی حسن بن طلال کے حوالے ہی کر جاتے تھے۔ اس لئے اس بار بھی ایسا ہی تھا۔  کہا جاتا ہے کہ 1999 کی جنوری میں امریکہ میں ڈاکٹرز نے شاہ حسین کو بتا دیا کہ ان کا مزید علاج ممکن نہیں۔ وہ اب چند دنوں کے مہمان ہیں۔ کینسر میں ایسا ممکن ہے۔ مریض کو بتا دیا جاتا ہے۔ شاہ حسین نے واپس اپنے ملک جانے کی خواہش ظاہر کی۔ لیکن  اردن واپسی سے پہلے انہوں نے اردن کے انٹیلی جنس چیف کو امریکہ بلا لیا۔ اور حسن بن طلال کو نہیں بلایا۔ ایسا پہلی بار ہو اتھا۔ لیکن حسن بن طلال کو کوئی شک نہیں ہوا۔ شاہ حسین شدید بیماری میں وطن واپسی سے پہلے امریکی صدر بل کلنٹن کو ملے۔ یہ ملاقات چند گھنٹے جاری رہی۔ پھر واپسی پر وہ ایک دن کے لئے لندن رکے اور برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو ملے۔

وطن واپس پہنچ کر شاہ حسین نے دوبارہ اقتدار سنبھال لیا۔ انہیں ڈاکٹر بتا چکے تھے کہ وہ اب چند دنوں کے مہمان تھے۔ لیکن کسی کو انداذہ بھی نہیں تھا کہ شاہ حسین صرف اور صرف اپنے بھائی کو ولی عہد کے عہدہ سے ہٹانے کے لئے اس بیماری میں واپس آئے ہیں۔ ورنہ اس بیماری میں اتنا سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ 34 سال تک ولی عہد  رہنے والے حسن بن طلال پر نہایت گندے الزمات لگا کر ولی عہد کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا۔ ان پر بادشاہ سے بے وفائی کا بھی الزام تھا۔ اپنی بھابھی ملکہ نورسے بد تمیزی کا بھی الزا م تھا۔ مرتے ہوئے بادشاہ نے اپنے بیٹے جواں سال عبد اللہ کو ولی عہد بنا دیا۔ اور آج عبد اللہ ہی اردن کے بادشاہ ہیں۔ کہتے ہیں کہ ملکہ نور نے بیماری کے دوران بادشاہ کو قائل کر لیا کہ وہ باشاہت اپنے بھائی کی بجائے اپنے بیٹے کو دیں ۔ اور مرتے ہوئے بادشاہ نے اپنی ملکہ کی یہ بات مان لی۔ امریکہ اور برطانیہ کو اعتماد میں لیا ۔ اس طرح حسن بن طلال چھٹی کی ہوگئی۔

حسن بن طلال کو ہٹانے کی کہانی آپ کو گوگل کرنے سے ہر جگہ مل جاتی ہے لیکن اس ساری کہانی کو پڑھنے کے بعد بھی ایک تشنگی رہ جاتی ہے کہ حسن بن طلال کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔ حسن بن طلال پر لگنے والے الزمات بھی مل جاتے ہیں ۔ لیکن حسن بن طلال کی طرف سے ان کا جواب نہیں ملتا۔ صرف گارڈین کو ایک انٹرویو میں ان کی طرف سے یہ شکوہ موجود ہے کہ جب ان کو ہٹائے جانے والا خط جاری کیا گیا تو ان کا جواب نہیں جاری کیا گیا۔ اس طرح ان کا موقف سامنے نہیں آیا۔ لیکن انہوں نے خود بھی اپنا جواب بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ یہ کہا کہ وقت اور مورخ خود ہی سچائی تک پہنچ جائے گا۔ آج کل حسن بن طلال اقوام متحدہ کے مختلف فلاحی اداروں کی سربراہی کر رہے ہیں۔ اور لا تعداد تنظیموں کے سربراہ ہیں۔ لیکن اردن کے اقتدار سے اب ان کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن ولی عہد  کے عہدہ سے ہٹنے کے بعد بھی انہوں نے  بغاوت نہیں کی۔ کوئی تحریک نہیں چلائی۔ بس گھر بیٹھ گئے۔

میں حیران ہوں کہ بات سمجھنے کے لئے اتنی پرانی کہانی کا سہارا کیوں لیا جائے۔ اسی سال کو دیکھیں سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن نائف کو اس سے بھی برے طریقے سے ہٹا کر بادشاہ نے اپنے جوان بیٹے محمد بن سلیمان کو ولی عہد بنا دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ محمد بن نائف پر بھی الزامات لگائے گئے ہیں لیکن ان الزمات کی نوعیت ذاتی  ہے۔  میں نے اپنے دوست سے کہا کہ سادہ بات سمجھنے کے لئے اتنی دور کی مثالیں کیوں دے رہے ہو۔ یہ تو گھر گھر کی کہانی ہے۔ جب اپنی اولاد جوان ہو جائے تو بھائیوں کے مشترکہ کاروبار میں وراثت پر لڑائی ہو ہی جاتی ہے۔ کوئی بھی بھائی کو نہیں دیتا سب اپنی اولاد کو دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر نواز شریف ایسا کر رہے ہیں تو کوئی انہونی بات نہیں۔

لیکن پاکستان میں بادشاہت نہیں۔ لیکن نون لیگ میں تو ہے۔ پاکستان میں جمہوریت ہے لیکن پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں عرب بادشاہتوں کی طرح ہی چلائی جاتی ہیں۔ آپ دیکھیں اسی لئے تو بے نظیر بھٹو اور مرتضی بھٹو میں لڑائی تھی۔ کیونکہ بے نظیر بھٹو اپنے بھائی کو شراکت اقتدار دینے کو تیار نہیں تھیں۔ ان کے دور وزارت عظمیٰ میں ان کا بھائی اقتدار سے محروم تھا۔ اور قتل ہو گیا۔ وہ اپنے بھائی کو اپنے اقتدار کا ایک انچ بھی دینے کو تیار نہیں تھیں۔ آپ اسفند یار ولی خان اور بیگم نسیم ولی خان کی لڑائی کو دیکھ لیں۔ یہ بھی تو وراثت کی ہی لڑائی تھی۔ صرف جماعت اسلامی ایک ممتازحیثیت رکھتی ہے کہ اس میں وراثت کا کوئی تصور نہیں۔ لیکن یہ ووٹ حا صل کرنے کے لئے کافی نہیں۔

میں نے پہلے بھی ایک کالم میں لکھا ہے کہ شریف خاندان میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ جیسے جیسے میاں نواز شریف کا خاندان  متحرک ہو رہا ہیں۔ اپنے انکل سے مریم کا فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن مریم نواز کو یہ وراثت ایک مشکل دور میں مل رہی ہے۔ یہ کوئی اچھا وقت نہیں ہے۔ انہیں اپنے انکل کی ضرورت ہے۔ انکل بھی پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ ایک مضبوط وزیر اعلیٰ ، شاید ان کو حسن بن طلال کی طرح ایک خط سے گھر بھیجنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں عوام کی رائے کی بھی اہمیت ہے۔ مرتضی بھٹو تو پاکستان رہے ہی نہیں تھے۔ لیکن یہ انکل تو پاکستان میں میدان میں موجود ہیں۔ اس لئے کھیل مشکل ہے۔