احمد فراز کا نعتیہ کلام
- تحریر پروفیسر فتح محمد ملک
- اتوار 03 / ستمبر / 2017
- 49634
نعتیہ مشاعرہ ختم ہوا تو ریٹائرڈ جنرل شاہد حامد کرسئِ صدارت سے اُتر کر سیدھے احمدؔ فراز کے پاس آئے اور ڈپٹ کر بولے:
’’فرازؔ ! تم باز نہیں آتے۔ یہ تم نے کیا پڑھا ہے؟‘‘
’’میں نے وہی پڑھا ہے جو مَیں لکھتا ہوں‘‘ فرازؔ اس غیر متوقع وار سے سنبھل کر بولے۔
’’مَیں پوچھتا ہوں، یہاں تم نے ایسی چیز کیوں پڑھی؟‘‘ شاہد حامد صاحب جوشِ غضب میں بھنّا اٹھے۔
’’مَیں تمہیں سمجھوں گا‘‘ شاہد حامد صاحب کہ وزیرِ اطلاعات تھے ہَوا کے گھوڑے پر سوار ہوئے اور یہ جا وہ جا مگر سارا ہال سنّاٹے میں آ گیا اور میرے ذہن میں فرازؔ کی نعت کے شعر گونجنے لگے:
مرے رسُول کہ نسبت تجھے اجالوں سے
مَیں تیرا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے
تو روشنی کا پیمبر ہے اور مری تاریخ
بھری پڑی ہے شبِ ظلم کی مثالوں سے
احمدفرازؔ کو وسیلۂ روزگار سے اور شاہد حامد کو مسندِ وزارت سے محروم ہوئے ایک مدت ہو چکی ہے مگر یہ واقعہ آج بھی میرے ذہن میں ایک ڈراؤنے خواب کی طرح محفوظ ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ اُس مشاعرے میں فرازؔ نے ویسا ہی نعتیہ کلام پیش کیا تھا جس کی اُس سے توقع تھی۔ اپنے شعری مزاج اور اپنے ادبی نظریہ کی بدولت فرازؔ روائتی حمد و ثنا اور رسمی توصیف کی بجائے رسول کریم صلعم کے انقلابی کردار سے کسبِ نور کا خوگرہے۔ اُس کی اسلام بیزاری پر قومی پریس میں ایک سے زیادہ مرتبہ واویلا مچایا گیا کہ سنسنی خیزی کی گرد چھٹنے کے بعد ہر مرتبہ وہ دائمی حکمتوں کے پیغامبر کی بارگاہ میں کھڑا نظرآیا:
’’اے روشنی کے پیمبر
یہ شوریدہ سر
حرف زن ہے
کہ محراب و منبر سے
فتویٰ گروفتنہ پردازِ دیں
حرفِ حق بیچتے ہیں
فقیہانِ مسند نشیں
حرصِ دینار و درہم میں
تیرے صحیفے کا اک اک ورق بیچتے ہیں
یہ خلقت کا خوں
اور اپنی جبیں کا عرق بیچتے ہیں
پیمبر!
مجھے حوصلہ دے
کہ مَیں ظلم کی قوّتوں سے
اکیلا لڑا ہوں
کہ مَیں اس جہاں کے جہنم کدے میں
اکیلا کھڑا ہوں۔‘‘
جھوٹی مذہبیت کے ریاکار تاجروں کے دستِ ہوس اور سلاطین و ملوک کے دستِ ستم پر بیعت نہ کرنے کی خُو اپنا کر احمد فرازؔ نے ہماری روحانی تاریخ کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے۔ وہ شبِ ظلم کے اندھیروں سے لڑنے کے لیے محمدؐ اور حسینؑ کی سیرت سے روشنی اور استقامت کا جویا ہے:
مَیں آج اُسی کربلا میں
بے آبرو۔۔۔ نگون سر
شکست خوردہ خجل کھڑا ہوں
حسینؑ کل سُرخرو گیا ہے
مَیں جا ں بچا کر
فنا کے دلدل میں جاں بہ لب ہوں
زمین اور آسمان کے عزوفخر
سارے حرام مجھ پر
وہ جان لُٹا کر
منارۂِ عرش چُھو گیا
سلام اُس پر!
سلام اُس پر
اسلام کا ظہوراس کے نزدیک
اک داستان کا حصہ نہیں ہے
اک واقعہ نہیں ہے
یہیں سے تاریخ
اپنے تازہ سفر کا آغاز کر رہی ہے
یہاں سے انسانیت
نئی رفعتوں کو پرواز کر رہی ہے
اسلام کے تاریخی کردار کے اس شعور اور محمدؐ اور حسینؑ کے پیغام و عمل کی انقلابی معنویت سے شناسائی کی بدولت احمد فرازؔ نے ہمیشہ جھوٹی روحانیت اور نمائشی وطن دوستی کا پردہ چاک کرکے حقیقی روحانیت اور سچی وطن پرستی کا بول بالا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وطن کی شان میں جھوٹے قصیدے اور بلند بانگ مگر کھوکھلے ترانے بیچنے کی بجائے فرازؔ وطن کی آزادی اور خود مختاری کی بقا اور وطن کے اندر حقیقی عدل و مساوات پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کی جدوجہد میں ایک بیدار دل و دماغ کے شاعر کا کردار ادا کرنے میں مصروف رہے۔
معرکۂ ستمبر کے دوران اگر احمد فرازؔ پرچمِ جاں لے کر دادِ شجاعت دیتے نظر آتے ہیں تو سقوطِ ڈھاکہ کے گرد و پیش اپنے پندار کے ریزوں کو سمیٹتے اور اپنے شیشۂِ جاں کی کِرچیوں کو چُنتے دکھائی دیتے ہیں۔ ’’سحر کے سورج‘‘ اور ’’مَیں ترا قاتل ہوں‘‘ کی سی نظموں میں فرازؔ نے سقوط کے المیے کے پس پردہ عوامل اور محرکات کو سمجھنے کے لیے خود احتسابی کی جو روش اپنائی ہے وہ فرازؔ کی کھری، گہری اور رچی ہوئی وطن پرستی کی دلیل ہے۔ وہ قومی المیہ ہو یا ذاتی سانحہ ہم اپنی خامیاں گننے کی بجائے غیروں کی سازشوں کو ضرورت سے زیادہ اُچھالنے کے عادی ہیں۔ اس عادت نے ہمیں ہماری اپنی ذمہ داری کے احساس سے بڑی حد تک محروم کر رکھا ہے۔ فرازؔ کا روّیہ اس کے برعکس ہے:
برونِ در نہ کوئی روشنی نہ سایہ تھا
سبھی فساد مجھے اندرونِ خانہ تھا
اندرونِ خانہ برپا فساد کی عکاسی اور تنقید جان جوکھوں کا کام ہے۔ یہ گویا حکمران طبقوں کے عتاب کو دعوت دینا ہے اور پاکستان میں حکمران طبقے جب عتاب میں آتے ہیں تو پہلے کفر کا فتویٰ صادر کرتے ہیں، پھر وطن دشمنی کی گالی دیتے ہیں اور اس کے بعد چل سوچل۔ مگر فرازؔ بھی کہتا ہے چل سو چل اور فکری جرأت اور نظریاتی استقامت کے ساتھ درونِ خانہ، فساد کی مصوری اس شان سے کرتا ہے کہ اُس کا یہ شعر شاعرانہ تعلّی کی بجائے ایک سادہ سی بات نظر آتی ہے:
وہ قحطِ حرفِ حق ہے کہ اس عہد میں فرازؔ
خود سا گنہگار پیمبر لگے مجھے
احمد فرازؔ نے اپنا فنّی سفر طلوعِ آزادی کے ساتھ اور ترقی پسند ادبی تحریک کے جلو میں شروع کیا تھا۔ شخص اور شاعر، ہر دو حیثیتوں میں فرازؔ کی نمایاں ترین پہچان ترقی پسند نظریۂ ادب سے اٹوٹ وابستگی میں پنہاں ہے۔ گزشتہ ربع صدی کے دوران، احتساب و تعزیر کے خوف سے بے نیاز ہو کر اور ترمیمِ نظر کا شکار ہوئے بغیر، احمد فرازؔ نے ترقی پسندی سے تخلیقی وابستگی کا جو معیار قائم کیا ہے وہ لطفِ سخن اور قبولِ عام ہر دو اعتبار سے اس کے ہمسفروں کے لیے قابلِ رشک ہے۔ اپنے پہلے مجموعۂ کلام ’’تنہا تنہا‘‘ کی پہلی نظم ’’شاعر‘‘ میں فرازؔ نے عہد کیا تھا کہ:
اب میرا ہُنر ہے مرے جمہور کی دولت
اب میرا جنوں خائفِ تعزیر نہیں ہے
اب دل پہ جو گزرے گی وہ بے ٹوک کہوں گا
اب میرے قلم میں کوئی زنجیر نہیں ہے
مژدہ ہو کہ فرازؔ آخر تک اس عہد پرقائم رہے۔ گردوپیش کی زندگی کی ناہمواریوں اور سفاکیوں سے متعلق تلخ نوائی کے ساتھ ساتھ فرازؔ نے ہمارے زمانے کی غنائی شاعری کو تہ دار اور پُرثروت بنایا ہے۔ بعض عناصر ان دو کارناموں کوباہم متضاد قراردیتے ہیں۔ دل اور دُنیا ، غنائیت اور انقلاب، سیاسی شعور اور جمالیاتی تجربہ کو متضاد اور متصادم سمجھنے کی غلطی نے مارکسی تنقید کے زیرِ اثر رواج پایا ہے ورنہ ہمارے ہاں تو رئیس المتغزلین ہونے کے لیے سیدالاحرار بننا پڑتا ہے۔ مولانا حسرتؔ موہانی کی زندگی اور فراق گورکھپوری کی تنقید شاہد ہے کہ ہماری تہذیبی روایت میں حریّت اور غنائیت ہمیشہ ہم قدم اور ہم تمنّا رہی ہیں۔ فراقؔ نے کیا خوب کہا ہے کہ:
’’عشق اُس وقت عشق بنتا ہے جب عاشق محض عاشق نہ ہو بلکہ کافی حد تک ایک مکمل انسان ہو۔۔۔۔۔۔ بغیر ملّی، اخلاقی اور سیاسی محرکات کے یہ عشقیہ شاعری ممکن بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔ بڑے عاشق کا عشق اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا بڑے ’’انسان‘‘ کا عشق ہوتا ہے۔۔۔ عشق صرف دل کا معاملہ نہیں ہے بلکہ دل سے زیادہ دماغ کا معاملہ ہے۔ چھوٹے دماغ کا آدمی بڑے سے بڑا عاشق ہو کر کورا یا نرا عاشق ہوتا ہے، بڑا عاشق نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔ بڑی عشقیہ شاعری کی نگاہ میں جہاں ایک طرف معشوق ہوتا ہے وہاں دوسری طرف قومی زندگی اور اس کے امکانات ہوتے ہیں(۱)۔‘‘
ابتدا ہی سے فرازؔ کی شاعری کی نگاہیں بھی بہ یک وقت اپنے محبوب اور قومی زندگی کے امکانات پر مرکوز ہیں۔ فرازؔ شروع میں شررؔ برقی بن کر ترقی پسند ادب کی دُنیا میں وارد ہوا تھا۔ ہر چند وہ ایک دوست کی چھیڑ چھاڑ سے متاثر ہو کر شررؔ برقی کی بجائے احمد فرازؔ بن گیا مگر اس کی شاعری کا رشتہ ہنوز برق و شرر کے ساتھ اٹوٹ ہے۔ محسن احسانؔ نے اس کے اوّلین عشق کا ذکر یوں کیا ہے:
’’فرازؔ کو زندگی میں فراز بنانے اور اُس کی فطرت میں سیمابی کیفیّت بھرنے میں اُس کے اُس پہلے عشق کو بڑا دخل ہے جو اُس نے بڑی کم عمری میں کیا اور جس کی کسک وہ ہمیشہ اپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کرتا رہا اور جس کا ذکرکرتے ہوئے اس کے چہرے پر گہری یا سیت کی لکیریں اُبھر آتی ہیں۔ اس کے بعد فراز بے شمار رومانوں میں مبتلا رہا۔۔۔۔۔۔ وہ اب ایک مستقل عاشق ہے۔۔۔ وہ اپنی محبوباؤں کو اس کثرت سے بدلتا ہے جس طرح لوگ اپنی ٹائیاں یا قمیضیں بدلتے ہیں (۲)۔‘‘
یہ بیان پڑھتے ہوئے مجھے فرازؔ کے آغازِ شباب کا یہ شعر بے ساختہ یاد آیا:
پھر آج دانۂِ گندم کے سلسلے میں فرازؔ
کسی خُدا نے مری خلد بیچ ڈالی ہے
اور میں سوچنے لگا کہ فرازؔ کی ساری عشقیہ شاعری اِسی خلد کی تلاش کا سفر ہے، راستے میں فرازؔ کو کئی چاہنے والے ملے مگر محبت کا اوّلیں تجربہ ہی اُس کے حجلۂ ذات میں نُور کی قندیل بن کر روشن ہے۔ بعد کے تجربوں کا حال کچھ یوں ہے:
راستے بھر کی رفاقت بھی بہت ہے، جانِ من
ورنہ منزل پر پہنچ کر کون کس کا آشنا
۔۔۔۔۔۔
اس قدر مسلسل تھیں، شدتیں جُدائی کی
آج میں نے پہلی بار اُس سے بے وفائی کی
ورنہ اب تلک یُوں تھا، خواہشوں کی بارش میں
یا تو ٹُوٹ کر رویا، یا غزل سرائی کی
۔۔۔۔۔۔
اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یک جا کیا
ورنہ مَیں تیرا نہیں تھا اور تُو میرا نہ تھا
اس طرح کی زمانہ شناس محبتوں میں وصل بھی فراق نما ہوتا ہے۔ چنانچہ فرازؔ نفسیاتِ عاشقی اور وارداتِ قلبی کی نِت نئی کیفیات کے تخلیقی اظہار سے ہماری عشقیہ شاعری کو گہرائی اور تنوع بخشتا ہے اور ہر نئے تجربۂِ محبت سے اپنے اوّلیں محبوب کی تازہ تر پہچان حاصل کرتا ہے:
ذکر اُس غیرتِ مریم کا جب آتا ہے فرازؔ
گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں
۔۔۔۔۔۔
وہ خار خار ہے شاخِ گلاب کی مانند
میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اُسے
۔۔۔۔۔۔
ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے
تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے
اور پھراپنے رفیقِ سفر کو اس مقامِ نظر تک لے آتا ہے:
آ فصیل شہر سے دیکھیں غنیمِ شہر کو
شہر جلتا ہو تو تجھ کو بام پر دیکھے گا کون؟
اب فراز سرِبام جلوؤں کی بجائے سرِدار منظروں کا تماشائی ہے۔ اس کے ہاں شہر اور شہر یار کے استعارے ایک تیکھی سیاسی رمزیت سے لبریز ہونے لگتے ہیں اور وہ ان استعاروں اور اُن سے متعلقہ تلازمات میں ہمارے زمانے کا شہر اشوب لکھنے لگتا ہے، یہ شہر ظلم کی گرفت میں ہے اور شاعر کو اپنی خاموشی تائیدِ ستم کے مترادف نظر آتی ہے:
اس عہدِ ظلم میں مَیں بھی شریک ہوں جیسے
مرا سکوت مجھے سخت مُجرمانہ لگا
۔۔۔۔۔۔
ستم کے عہد میں چُپ چاپ جی رہا ہوں فرازؔ
سو دوسروں کی طرح باضمیر مَیں بھی نہ تھا
۔۔۔۔۔۔
مَیں چُپ رہا کہ اِسی میں تھی عافیت جاں کی
کوئی تو میری طرح تھا جو دار پر بھی گیا
سو وہ اس شہر کے مکینوں سے یوں مخاطب ہوتا ہے:
مجھ سے کیا پوچھتے ہو شہرِ وفا کیا ہے
ایسے لگتا ہے صلیبوں سے اُتر کر آیا
۔۔۔۔۔۔
اب جو اس شہر کی تقدیر ہو میں تو لوگو!
در و دیوار پہ حسرت کی نظر کر آیا
۔۔۔۔۔۔
وہ موجِ خُوں اٹھی ہے کہ دیوار و دَر کہاں
اب کے فصیلِ شہر کو غرقاب دیکھنا
۔۔۔۔۔۔
صلیبوں پر کھنچے جاتے ہیں لیکن
کسی کے ہاتھ میں پرچم نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔
زندہ دلانِ شہر کو کیا ہو گیا فرازؔ
آنکھیں بجھی بجھی ہیں تو چہرے مرے مرے
۔۔۔۔۔۔
ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں
۔۔۔۔۔۔
جس کو دیکھو وہی زنجیر بپا لگتا ہے
شہر کا شہر ہُوا داخلِ زنداں جاناں
۔۔۔۔۔۔
یہ رعونت تابکے اے دلفگاراں دیکھنا
اب گرے گا طرۂ سلطاں سرِ سلطاں سمیت
۔۔۔۔۔۔
وہ مطمئن کہ سب کی زباں کاٹ دی گئی
ایسی خموشیوں سے مگر ڈر لگے مجھے
۔۔۔۔۔۔
یہ راز نعرۂ منصور ہی سے ہم پہ کُھلا
کہ چوبِ منبرِ مسجد، صلیبِ شہر بھی ہے
۔۔۔۔۔۔
جو سَر بھی کشیدہ ہو اُسے دار کرے ہے
اغیار تو کرتے تھے سو اب یار کرے ہے
۔۔۔۔۔۔
وہ کون ستمگر تھے کہ یاد آنے لگے ہیں
تُو کیسا مسیحا ہے کہ بیمار کرے ہے
۔۔۔۔۔۔
اب روشنی ہوتی ہے کہ گھر جلتا ہے دیکھیں
شعلہ سا طوافِ دَر و دیوار کرے ہے
غزل کے ان اشعار کے ساتھ ساتھ ’’جلّاد‘‘۔ ’’چلو اس شہر کا ماتم کریں‘‘۔ ’’ہم اپنے خواب کیوں بیچیں‘‘ اور ’’محاصرہ‘‘ کی سی نظموں کو یکجا دیکھ کر یہ اندازہ لگانا غلط ہوگا کہ فرازؔ قنوطیت کی زد میں آتا چلا جا رہا ہے۔ یہ قنوطیت پسندی نہیں حقیقت شناسی ہے۔ ہم غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور احمد فرازؔ ہمیں ہمارے آشوب کا احساس دلانے اور اُس عذابِ الیم سے ڈرانے میں مصروف ہے جو ہمارے دروازوں اور ہماری سرحدوں پر دستک دے رہا ہے اور موجودہ حالات میں سچے شاعر کا ایک بڑا فریضہ یہی ہے۔ فرازؔ نے یہ فریضہ ایک ایسے ماحول میں ادا کرنے کی ٹھانی ہے جہاں جنبشِ لب تو درکنار جنبشِ مژگاں بھی گنہگار کرے ہے۔ اس لیے فرازؔ کے اس کارنامے کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے اور زبان پر بیساختہ اٹھارہویں صدی کے ایک صوفی شاعر کا یہ شعر رواں ہو جاتا ہے:
خُدا کے واسطے اِس کو نہ ٹوکو
یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے
حواشی
(۱) من آنم، لاہور، صفحات ۲۸،۵۶
(۲) محسن احسانؔ ، فنون، لاہور، اکتوبر، نموبر ۱۹۷۷ء، مضمون ’’میرا قاتل میرا دلدار‘‘، صفحہ ۴۹