قربانی تو ہے پر روحِ ابرہیمی نہ رہی

عازمین حج اپنی زندگی کے ایک اہم ترین عبادت کی ادائیگی سے فارغ ہوچکے ہیں۔ اللہ ہمیں اپنے گھر کی مھمان نوازی نصیب فرمائے اور جو لوگ اس سعادت کو حاصل کر چکے ہیں ان کی عبادات اور دعاؤں کو قبول و مقبول فرمائے۔ اللہ رب العزت نے حج ان لوگوں پر فرض قرار دیا ہے جو صاحبِ حیثیت ہوتے ہیں۔ حج کے دیگر فرائض میں سے ایک قربانی بھی ہے ۔ قربانی صرف حاجی ہی نہیں کرتے بلکہ دنیا جہان میں رہنے والے مسلمان اس فریضے کی ادائیگی بہت جوش و خروش سے کرتے ہیں۔

حج کو ایک اہم عبادت کا حصہ بنا دینا اللہ کی جانب سے اپنے بندوں کی محبت اور سرشاری کو تسلیم کرنا  ہے۔   اللہ اپنے بندے سے ماں سے  ستر گنا زیادہ محبت کرتا ہے ۔  لیکن ہم سب اپنے اپنے منتقوں میں زندگی گزارنے پر بضد ہیں۔ اور اس  ضابطہ حیات کو نظر انداز کرتے ہیں جو ہمیں فراہم کیا گیا ہے ۔  اللہ کی راہ میں قربانی کرنا  اللہ کیلئے مقبول عمل ہے۔ اگر یہ مقبول نہ ہوتا اور تو رہتی دنیا تک سنتِ ابراہیمی کو زندہ نہ رکھا جاتا۔ دنیا جب تک قائم و دائم ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ زندہ و جاوداں رہے گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اولاد بڑی عمر میں نصیب ہوئی اور اس کو قربان کرنے کا اللہ کی جانب سے حکم کا آنا اور اس حکم پر سر خم تسلیم کرنا اللہ  اور اس کے قانون سے محبت کا ثبوت تھا۔ یہ کیسے ممکن ہوسکتا تھا کہ ماں سے ستر گنا  محبت کرنے والا  اپنے بندے کی قربانی کروا دیتا۔ یہ صرف آزمائش نہیں تھی بلکہ رہتی دنیا تک کیلئے یہ بات واضع کرنا تھی کے ایمان والوں کی محبت صرف اللہ کیلئے ہوتی ہے۔

علامہ اقبال نے یہ تو بتا دیا تھا آذان توہے پر روح بلالی نہ رہی مگر اب یہ بھہ ہے کہ  قربانی تو ہے پر روح ابرہیمی نہ رہی ۔ اللہ کے امتِ محمدﷺ پر خصوصی احسانات ہیں۔ ان  میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہماری نیتیں کسی بھی طرح سے دکھائی نہیں دیتیں۔ معاشرے میں دیگر امور میں ایک انجانی دوڑ کی طرح قربانی میں بھی ایسی ہی دوڑ دکھائی دے رہی ہے۔ مہنگے سے مہنگا جانور خریدا جاتا ہے۔ کہیں ایک دوسرے کے جانور پر کسی نا کسی قسم کا نقص نکالا جاتا ہے تو کہیں یہ بھی سنا جاتا ہے کہ ہلکا جانور لے آئے، اسی طرح کی اور بھی بہت ساری باتیں سماعت سے ٹکراتی ہیں ۔

کیا ہم تصور کرسکتے ہیں کہ کس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لختِ جگر اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے لٹایا ، خواب سے ذبحہ ہونے تک کے معاملات بھی تصور کر لیجئے۔ ہر عید الاضحی پر سنت ابراہیمی کا بھرپور مظاہرہ کیا جاتا ہے ایک سے بڑھ کر ایک جانور اللہ کی راہ میں ذبح کیا جاتا ہے مگر ہم نے کبھی اس نفس کو ذبح کرنے کی کوشش نہیں کی جس کی سرکشی ہمیں ہر غلط کام پر اکساتی ہے۔ وہ نفس جو ہمیں تکبر کی سیڑھی پر لا کر کھڑا کردیتا ہے، وہ نفس جو ہمیں قربانی کے جانور کی خرید میں دوسرے سے سبقت لے جانے کیلئے اکساتا ہے۔

ہمیں خود کویقین دلانا چاہئے کہ یہ قربانی یا  رمضان کی عبادات، یہ فقط  ایک ماہ یا  ایک دن کیلئے مسلمان ہونے کا تقاضہ نہیں کرتے بلکہ یہ ہماری تربیت کرتے ہیں۔ ہمیں ہماری ساری زندگی احکام الہی پر گزارنے کا درس دیتے ہیں ۔ کیونکہ ہم سب کو لوٹ کر واپس اسی رب ذولجلال کے حضور پیش ہونا ہے ۔ اس لئے  ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ اپنی اپنی قربانیوں کو روح ابراہیمی جیسا بنائیں گے۔