ایرانی سپریم لیڈر کا حجاج کو پیغام اور کشمیر

ایران کے سپریم لیڈر آیتﷲ خامنائی کا شمار دنیا کی چند ایک ایسی اہم مضبوط سیاسی شخصیات میں شمار ہوتا ہے جن کی بات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ وہ اسلامی انقلاب کے بانی آیت ﷲ خمینی کی 1989 میں وفات سے لے کر مسلسل ایران کے لیڈر چلے آ رہے ہیں۔ ملک  میں ان کے پاس آئینی قوت کے ساتھ ساتھ اخلاقی قوت بھی ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف اب تک کوئی بیرونی سازش کا میاب نہ ہو سکی ۔

عوام مسلسل ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور ان کے پاس ایرانی صدر سے زیادہ آئینی اختیارات ہیں جن کی بنا پر قومی اداروں کے اکثرسربراہوں کی تعیناتی اور خارجہ پالیسی کے تعین کے اختیارات ان کے پاس ہیں۔ اسی لیے وہ اہم اسلامی تہواروں پر اسلامی دنیا سے  برا ہ راست مخاطب ہوتے رہتے ہیں اور ان کے خطاب کو عالمی سطع پر توجہ سے سنا اور دیکھا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کے عالمی اور علاقائی سطع پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایرانی لیڈر کے خطابات اور بیانات عرب لیڈروں کے جذباتی خطابات سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے حج کے موقع پر حجاج کے نام پیغام میں ان کو حج کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ قبلہ اول کو مت بھولیں۔ مسلمانوں نے متحد ہو کر ایک دن اسے آزاد کرانا ہے ۔ ایرنی لیڈر نے مادہ پرستی اور سامراجی قوتوں کی اجاراداری کی ہوس کو دنیا میں بد امنی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے فلسطین، عراق، یمن،  لیبیا، افغانستان اور برمی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر سخت دکھ و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی دنیا کو ان مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی پر زور دیا۔

میرے پاس ان کی تقریر کا جو متن پہنچا ہے اس میں جموں کشمیر جسے علامہ اقبال نے ایران صغیر قرار دیا تھا، اس کا کوئی زکر نہیں۔ البتہ بعض بھارتی صحافیوں نے واویلا کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت کی اسرائیل کے ساتھ قربت کے باعث ایرانی صدر نے ایک بار پھر بھارت کی کشمیر پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بھارت کا شاید یہی خیال ہے کہ وہ ہر ایک سے فائدہ حاصل کرے، اس کے جذبات، خیالات اور مفادات کا سارے خیال رکھیں مگر اسے کسی کا خیال رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ گو جموں کشمیر میں کئی دہائیوں سے جاری آزادی کی تحریک کے دوران بے شمار ظلم و ستم ہوا لیکن اس سال بھارت نے نوجوانوں کو اندھا کرنے کی منظم مہم جاری رکھی۔ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا گیا ۔ چار ماہ تک کرفیو رہا ۔ آزادی پسند لیڈروں خاص کر یاسین ملک کو مجموعی طور پر ماہ میں تین ہفتے جیل میں اور ایک ہفتہ باہر رکھا جاتا ہے۔ اس سال کنٹرول لائن پر سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ اس لیے جارحیت کا شکار دوسرے ملکوں کی طرح جموں کشمیربھی خصوصی توجہ کا مستحق کے ہے ۔

کشمیری قیادت کو سوچنا چائیے کہ کیا اس نے خود بھی اپنی سیاسی و سفارتی ذمہ داریاں پوری کی ہیں یا کرنی ہیں یا وہ صرف آئے روز احتجاج کی کالیں دے کر نہتے عوام کو درندہ صفت بھارتی فوجوں کی گولیوں کا نشانہ بنواتے رہیں گے ۔  کشمیری قیادت کو ہر وقت بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی سیاسی حالات پر نظر رکھنی چائیے ورنہ صرف مظلومیت کا رونا رونے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔  1981 میں ایرانی لیڈر نے جموں کشمیر کا خصوصی دورہ کیا تھا۔ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرتے رہے البتہ پاکستان کے ماہرین کی غلطی کی وجہ سے 1994 میں ایران کی کشمیر پالیسی پر کچھ منفی اثرات مرتب ہوئے جس کا بھارت نے فائدہ اٹھایا ۔ پاکستان سے زیادہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والی کشمیری قیادت خود اس کی ذمہ دار جو وحدت کشمیر کی بحالی کے حوالے سے یک نکاتی ایجنڈا پر متفق نہ ہو سکی۔

کشمیریوں کو کسی سے گلہ شکوہ نہیں کرنا چائیے بلکہ اپنی صفوں کو درست کرتے ہوئے بیرونی دنیا سے خود کو انگیج کرنے کی ضرورت ہے اور ایران جیسے عظیم پختہ سوچ فکر و پالیسی والے ملک کے ساتھ شاعر مشرق علامہ اقبال کے تصورات کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔