قربانی کی قربانی

تب قربانی کا مطلب سنت ابراہیمی کا ادا کرنا ہوتا تھا اور اسے اس کے شایان شان ادا کیا جاتا تھا، اسے حکم الہی کا بجا لانا جان کر۔ شکر گذاری کے ساتھ۔ یہ نہیں تھا کہ محلے میں سب سے صحت مند اور قیمتی جانور روز قربانی تک ہمارے گیٹ کے سامنے بندھا ہو۔ اور قربانی کے روز اور کئی دن تک خون  اور چھیچھڑے محلے کے سب سے بڑے جانور کے ذبح ہونے کی کہانی تو سنارہے ہوں۔  اور گوشت ہنٹر بیف کی تیاری کے مرکز کو بھجوا دیا گیا ہو۔

نہ ہی قربانی کا ایسا جدید سسٹم ایجاد ہوا تھا کہ آپ پیسہ دے دیں اور آپ کو معلوم ہی نہ ہو کہ جانور کب اور کہاں قربان ہوا۔ ہوا تو کس کے کام آیا اور اگر نہیں ہوا تو رقم کس کے کھاتے میں گئی۔ کہیں اسی رقم سے ایک کلاشنکوف یا خودکش دھماکے کی جیکٹ تو نہیں خریدی گئی اور آپ ہی کے محلے میں بعد میں کام میں لائے جانے کے لیے تو نہیں رکھی ہے۔ تب قربانی لوگ اپنی حیثیت کے مطابق اور قربانی کے گوشت کے استعمال کی گنجائش کے مطابق کرتے تھے۔ ڈیپ فریزر ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا۔ لوگوں میں قربانی کے نام پر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے ایک دوسرے کو کمتر ثابت کرنے کا رجحان نہیں تھا۔ نہ قربانی کی کھالیں اس طرح منافع بخش کاروبار کا ذریعہ تھیں۔ کہ قربانی کی اہمیت کھال کے جمع کرنے، اسے مخصوص پارٹی یا گروپ کو دینے سے کہیں کم ہوکر رہ گئی ہو۔

گھر کے پلے اور بچوں کے محبوب جانور کو قربان کر دینا بچوں کو سکھایا جاتا تھا کہ یہ سب کچھ اللہ میاں کی رضامندی اور خوشنودی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بچے بالک گھروں کے اندر کمروں میں بند ہوجاتے تھے کہ جانور کو تڑپتا دیکھنا ان کے لیے مناسب نہیں تھا۔ اور چھری نکالنے سے پہلے مولوی صاحب بچوں کو پرے ہٹ جانے کا حکم صادر فرماتے تھے۔ نہاہت عاجزی سے چھری پھیرتے کہ احکام خداوندی کی بجا آوری بہر حال پیش نظر تھی۔ اور پھر فورا ہی قصائی باقی کام سنبھال لیتا تھا۔

خون کا قطرہ جس جگہ گرے اسے وہیں پر مٹی میں اسی وقت دفن کر دیاجائے کہ قربانی کے جانور کے گرے خون کی بے حرمتی نہ ہو۔ جانور کے اعضاء جن کو تصرف میں نہ لیا جانا مقصود ہو اسے بھی احتیاط کے ساتھ ہٹا دیا جاتا تھا کہ ہر چیز کی حرمت و تکریم تھی۔ نیز صفائی کا نصف ایمان ہونا بھی یہاں پیش نظر رکھا جاتا تھا۔ قربانی جذبہ و ایثار اور حب اللہ اور حب الانسان کے لیے کی جاتی تھی۔ کسی جانور کے سامنے کسی دوسرے جانور کو ذبح کرنا تک ممنوع جانا جاتا تھا۔ لوگ سری اور کھر، معدہ یا بٹ یوں سرعام محلے اور گلی میں نہ پھینکتے تھے جیسا کہ آج کل عام ہے۔ خون کی بہتی لمبی لکیر محلے کی پوری گلی میں دوڑے بغیر تب کیونکر نظروں سے اوجھل رہتی تھی اور قربانی کی رسم احکام خداوندی بھی ادا ہو جاتی تھی۔ آخر کیسے۔

لیکن پھر لوگ باگ گاؤں چھوڑ شہروں میں منتقل ہوگئے۔ شہروں میں نہ قربانی کرنے کا ویسا انتظام ہوتا ہے نہ ویسا جذبہ۔ جب گلیاں کچی تھیں تو پھر بھی جانوروں کو قبلہ رو کرکے خدا کے حضور پیش کیا جاتا تھا۔ مگر اب  پختہ تنگ گلیاں اس بات کی اجازت ہی کہاں دیتی ہیں۔ بس لاؤ جانور اور پٹخو۔  شہروں میں قربانی اب مسلمان اور غیر مسلمان ملکوں کی طرح صرف مذبحہ خانوں تک محدود کیا جانا ازحد ضروری ہے۔ شہروں میں ٹرکوں پر لاد کر منڈیوں میں جانوروں کو پیش کرنے کے بجائے مویشیوں تک قربانی کرنے کے خواہشمند جائیں اور وہیں قریبی مذبحہ خانے قربانی کے فرائضانجام دیں۔ 

قربانی جانوروں کو اذیت دیئے بغیر ہونی چاہیئے۔ قربانی کے جانور بھی خدا کی مخلوق ہیں اور قربانی کا فریضہ ایک باوقار مناسک ہے۔ اسے اس کے مذہبی وقار کے ساتھ ہی ادا کیا جانا چاہئے۔ جانوروں کے ساتھ انسانوں جیسا رویہ  روا رکھنے اور قربانی کی اصلی روح سے رو گردانی کرکے اسے منافعت بخش تجارت بنانے سے گریز کو عام کرنے  کے لیے حکومت کو اپنی بے حسی کے رویے کو تبدیل کرنا ہوگا۔