معجزوں کا انتظار چھوڑ دیں

ہم آپس کی گفتگو میں وقت کی بے رحمی کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں اور  وقت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔  وقت کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اللہ کی دی ہوئی عقل کو استعمال  کرنا یا پھر غلط استعمال کرنا ہمارے برے وقت  کا سبب بنتا ہے۔ اگر کراچی کے حالات خراب ہیں، اگر بارشوں سے سڑکیں خراب ہو رہی ہیں یا پھر اس طرح کے مسائل سراٹھائے کھڑے ہیں تو ان سب کے پیچھے کوئی ہا کوئی وجہ موجود ہیں۔

اب ان مسائل پر نظر دوڑائیں تو ہمیں  سمجھ آجائے گا کہ مسائل کی افزائش کا سبب کوئی مافوق الفطرت چیز نہیں بلکہ ہم انسان ہی ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم وقتی فائدے کی خاطر بڑے بڑے نقصان کر بیٹھتے ہیں۔  جھوٹ ، فریب اور رشوت کا بازار گرم ہوگا تو معاشرے سے خیرو برکت خود بخود ہی غائب ہوجائے گی۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے لوگ اس طرح سوچتے ہیں۔ یعنی جھوٹ بولنے سے رزق سے برکت ختم ہوتی جاتی ہے، شاید اس بات سے سب ہی آگاہ ہوں گے۔ کیونکہ آج کل سماجی میڈیا کی ترقی نے اس طرح کی باتیں عام کردی ہیں اور بہت ساری اچھی باتیں وقت کے ساتھ ساتھ منظر عام پر آتی ہی چلی جا رہی ہیں۔

یہ بات بھی سب ہی جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنے سے مال تو بک جاتا ہے مگر برکت رزق میں سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔ مگر برکت کی فکر ہے کس کو، سب کو فکر ہے مال کو فروخت کرنے کی۔ برائی جب بدتر ہوجاتی ہے تو نیکی آہستہ آہستہ دور ہوتی چلی جاتی ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ صرف برائی ہی رہ جاتی ہے۔ اس وقت صرف وہی اگ رہا ہے جو بویا جا رہا ہے ۔ یعنی نفرت کا بازار گرم ہے۔ نفرت ہی بوئی جا رہی ہے، محبت کے لبادے سے بھی نفرت ہی  نکل رہی ہے۔ دراصل ہمارے اعمال وقت کو بے رحم بنا رہے ہیں۔

اس وقت دہشت گردی پوری  دنیا کا مشترکہ مسئلہ بن چکی ہے ۔ لیکن دنیا نے بغیر تشخیص کئے دہشت گردی کو مسلمانوں سے منسوب کر دیا ہے۔ اور اس کی سزا بھی دینا شروع کردی۔ یعنی اپنی ہی عدالت، خود ہی مدعی اور خود ہی منصف۔ آج دنیا میں مسلمانوں کی حیثیت یا پہچان ایک دہشت گرد کی  بن کر رہ گئی ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں تو میڈیا پر ایک بھونچال سا آجاتا ہے۔ لیکن جب وہاں کسی غیرمسلم کی کارروائی ثابت ہوجائے تو پھر میڈیا اس خبر پر کسی قسم کے تبصرے سے بھی گریز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ بلکہ وہ خبر ہی میڈیا سے غائب کردی جاتی ہے۔

مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل لگانے والوں میں مسلمان خود بھی شامل  ہیں۔  مسلمانوں میں انصاف نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم پاکستان کی بات کر لیتے ہیں۔ انصاف برائے  فروخت شے بن چکا ہے۔ جس کے پاس مال و دولت ہے وہ جس طرح کا چاہے جرم کرے، وہ قانون کی گرفت سے بچ جاتا ہے۔  وہ منصفوں کو خریدتا رہے گا اور آزادی سے گھومتا رہے گا۔ اب اس طرح کے ماحول میں اپنے حقوق کیلئے کوئی نہ کوئی تو آواز بلند کرے گا۔ کوئی نہ کوئی تو موسی فراعین کیلئے اللہ نے رکھا ہوگا۔ اب جب اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کیلئے نکلنے والے لوگ ایسے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں تو کیا برا کرتے ہیں۔  سماجی میڈیا کی وجہ سے چھوٹی سی خبر بھی اپنی نوعیت کے مطابق بہت بڑی خبر بن جاتی ہے اور بغیر وقت ضائع کئے دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جاتی ہے۔

کشمیر، فلسطین ، شام اور افغانستان  عرصہ دراز سے تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔ لیبیا، مصر اور اب قطر کے حالات بھی سب کے سامنے ہیں۔ پاکستان پچھلی دو دہائیوں سے حالتِ جنگ میں ہے۔ یہ تو ہماری افواج کے سرسہرا ہے کہ آج تک کوئی عسکری دراندازی کا سوچ بھی نہیں سکا۔ کیونکہ اگر ماضی میں ایسا کیا بھی گیا ہے تو دشمن کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔جنوبی ایشیا میں امن برقرار رکھنے کیلئے پاکستان نے اپنے ہمسایوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا۔ ہر برے وقت میں ساتھ دیا اور یہاں تک کہ ان کی گیدڑ بھبکیاں بھی برداشت کی ہیں۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے تقریباً سارے ہی ہمسائے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث پائے گئے۔ پاکستان ایمانی استحکام کے باعث کبھی بھی کمزو رنہیں رہا بلکہ پاکستان کو کشیدہ حالات نے اور مضبوط بنائے رکھا ہے۔ جب کبھی ہمارا دشمن کس قسم کی شر انگیزی کرتا ہے تو پاکستانی اپنے اندرونی حالات کو پس پشت ڈال کر کاندھے سے کاندھا ملائے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

میانمار کے مسلمانوں پر ظلم اور بربریت کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور دنیا  خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ مسلم دنیا بھی خاموش ہے۔ کسی طرف سے کوئی آواز نہیں۔  آج دنیا کے مسلمانوں کواتحاد کی ضرورت ہے۔ اپنے ہی دشمنوں سے ہاتھ ملانے والے اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اس طرح اپنے بھائیوں کی کمر میں چھرا گھونپ کر محفوظ ہیں تو یہ ان کی سراسر خام خیالی ہے۔ ایک دن ان کی باری بھی آجائے گی۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ اللہ نے بہت واضح  الفاظ میں آپ کو ایک بات سمجھادی ہے کہ آپ جن سے دوستی پر نازاں ہیں وہ آپ کے خیر خواہ اور دوست ہو ہی نہیں سکتے۔ پھر آپ کیوں اپنے بھائیوں کو چھوڑ کر اغیار کی طرف منہ کرکے بیٹھے ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ہمارے اعمال ایسے نہیں رہے کہ کوئی معجزہ ہوگا اور میانمار کے مسلمانوں کو اپنی پناہ میں لے لے گا۔ یہ وقت ہے ہمارے جذبہ ایمان کے امتحان کا۔ سماجی میڈیا پر بیٹھ کر فقط آمین آمین لکھتے رہنے سے بات آگے نہیں بڑھے گی۔

دنیا میں جہاں جہاں انسانیت کےلئے کام کرنے والے اور آواز بلند کرنے والے بیٹھے ہیں وہ ذرا اپنا اپنا محاسبہ کریں کہ کیا ان کی انسانیت کیا ہوئی۔   انہیں میانمار میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم دکھائی کیوں نہیں دیتے۔ پہلے افغان مہاجرین نے ہجرت کی اور پاکستان نے نا مساعد حالات اور مسائل کے باوجود انہیں پناہ دی بلکہ ہر ممکن آسائش فراہم کی۔ پھر شام سے مہاجرین ہجرت کرکے دربدر ہونے لگے اور اب ویسا ہی سلسلہ میانمار میں شروع ہوگیا ہے ۔ آج کوئی ملک لاکھ اپنے پڑوسیوں کا ہمدرد ہوجائے مگر مہاجرین کو پناہ دینا بہت مشکل کام ہے ۔ دنیا کے حکمرانوں کو چاہئے کہ جس طرح یہ لوگ قیدیوں کیلئے الگ سے قید خانے بنا سکتے ہیں بالکل اسی طرح سے مہاجرین سے نمٹنے کیلئے ہر خطے میں بین الاقوامی قوانین کے تحت زمین فراہم کریں اور وہاں ایسی مہاجرین کیلئے بستیاں بنائیں۔ اور ان کا انتظام بین الاقوامی ادارے کریں۔ 

ہمیں یہ بات سمجھ لینا چاہئے کہ اب معجزے نہیں ہوں گے۔ ۃمیں خود ہی  خلوص نیت سے محنت کرکے حالات بدلنے ہوں گے۔