روہنگیا مسلمانوں کا مقدمہ

برما میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے پرتشدد اور انسانیت سوز مظالم محض مظلوم مسلمانوں کا ہی مقدمہ نہیں بلکہ  یہ انسانیت کا بڑا مقدمہ ہے ۔ ان معاملات کو محض مذہبی نقطہ نگاہ سے ہی نہ دیکھا جائے بلکہ اس کی ایک دردناک تصویر انسانیت کی تذلیل کی بھی ہے۔ جو کسی بھی مذہب، معاشرہ ، کلچر یا روایات میں اپنی حمایت نہیں رکھتا۔ یہ معاملات کمزور انسانوں کا مسئلہ بھی ہے جو دردناک  ہے۔ اس لیے مسئلہ کو محض اسلامی دنیا ، ممالک، حکمران یا عوام کا ہی نہیں بلکہ عالمی ضمیر  کے لیے  سوالیہ نشان ہے ۔

برما  جسے اب میانمار کہا جاتا ہے ،  بنگلہ دیش، بھارت، تھائی لینڈ ، لاؤس اور چین کی سرحدوں کے ساتھ لگتا ہے ۔ برما کی تاریخ بھی جنوب مغرب ایشائی ممالک سے زیادہ فرق نہیں رکھتی ۔ کالوئنیل دور میں بننے والی فوج آج بھی اپنی سرحدوں پر بسنے والوں پر ریاست کے نام پر ظلم کرنے میں ماہر سمجھی جاتی ہے ۔ روہنگیا بنیادی طور پر سابق اراکان اور موجودہ رخائن میں موجود مسلمانوں کا گروہ ہے جو خود کو عرب جہاز رانوں کی نسل سے بتاتا ہے اور ان کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہے ۔1982کے برمی شہریت کے قانون کے مطابق وہ لوگ جو1823میں برٹش انڈیا کے کسی علاقے سے یہاں آئے ، برما کے شہری نہیں ہیں ۔ ان کو نہ تو سرکاری تعلیم اور صحت کی سہولت مل سکتی ہے ، نہ ہی سرکاری نوکری اور نہ ہی یہ عام شہری کی طرح آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں ۔

روہنگیا مسلمانوں کو عملی طور پر بنگلہ دیشی مہاجر کا درجہ حاصل ہے ، حالانکہ ان کے اپنے بیان کے مطابق اوربعض حوالوں سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ شاید 15ویں صدی سے یہاں آباد ہیں۔ حالیہ پرتشدد واقعات کو برما کی حکومت اپنا داخلی مسئلہ سمجھتی ہے ، یہ ہی وجہ ہے کہ اس پر عالمی اداروں سمیت جہاں سے بھی آواز اٹھتی ہے ، اس کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔ یہاں تک کہ عالمی میڈیا کو ان تمام تر معاملات کی کوریج کی بھی اجازت نہیں ۔ 2013 میں اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی ان قوموں میں شمار کیا تھا جن کی سب سے زیادہ نسل کشی کی جارہی ہے ۔1982 میں روہنگیا مسلمانوں کو برما کی شہریت سے بھی محروم کردیا گیا تھا۔

برما کی اہم خاتون راہنما آنگ سان سوچی نوبل انعام یافتہ ہیں ۔ یہ ایوارڈ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو عملی طور پر امن ، روداری ، محبت، بھائی چارہ ، جمہوریت ، انسانی حقوق ، جدوجہد اور سماجی، سیاسی و قانونی انصاف پر یقین رکھتے ہیں ۔ سوچی کو اپنے ملک میں جمہوریت کی جدوجہد ، کئی برسوں تک نظربندی کے صلہ میں 1991میں نوبل پرائز ملا تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت عالمی دنیا سمیت مسلم دنیا میں وہ بڑی تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں ۔ کیونکہ یہ سب کچھ ان کی ناک کے نیچے ہورہا ہے اور وہ عملی طور پر نہ صرف خاموش ہیں۔ بلکہ تشدد اور انسانیت سوز مظالم کی حمایت میں کھڑی ہیں ۔ سوشل میڈیا سمیت کئی عالمی انسانی حقوق سے وابستہ تنظیموں نے ان سے نوبل امن ایوارڈ واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ کیونکہ یہ بات اب کافی حد تک واضح ہوگئی ہے کہ آنگ سان سوچی جن کو اس مسئلہ پر ہنگامی بنیادوں پر خصوصی اقدامات اٹھانے تھے ، ناکام ہوئی ہیں ۔ اگرچہ برما میں فوج کو ہی بنیادی حیثیت حاصل ہے  لیکن اس کے باوجود سوچی کی خاموشی نے سب کو مایوس کیا ہے ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ میانمار میں 1962سے لے کر 2010 تک براہ راست مارشل لا اور فوجی حکمرانی رہی ہے ۔ نوے کی دہائی میں بھی ایک بڑا کریک ڈاون روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کیا گیا ، جس میں کئی ہزار لوگوں کو نقل مقانی کرنا پڑی ۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش، پاکستان ، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا اور سعودی عرب میں بطور پناہ گزین موجود ہیں ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مسلم دنیا میں بلاوجہ روہنگیا مسلمانوں کو سوشل میڈیا کی مدد کے ساتھ ایک بڑے مسئلہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ ایک دلیل یہ بھی دی جارہی ہے کہ مظالم کی بیشتر تصاویر جعلی ہیں ۔ ممکن ہے کہ سوشل میڈیا پر بعض تصاویر کی صحت مشکوک ہو اور کچھ معاملات میں جذباتی انداز بھی نمایاں ہو، تاکہ عالمی دنیا کی توجہ حاصل کی جاسکے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مسئلہ موجود ہے اورجو کچھ وہاں ہورہا ہے وہ محض مسلم دنیا کی سوچ تک محدود نہیں ، بلکہ عالمی دنیا بھی تسلیم کرتی ہے ۔

ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ ساری خرابی کی وجہ روہنگیا میں موجود ’’ حرکتہ الیقین‘‘ کی مزاحمتی اور مسلح جدوجہد ہے جو برمی فوج پر حملے کرتی ہے اور مسئلہ سے ظاقت کے ذریعے نمٹنا چاہتی ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری مظالم کے خلاف کسی بھی مزاحمتی یا مسلح تحریک کا ابھرنا فطری امر ہوتا ہے ۔ لیکن اس مسلح جدوجہد کو بنیاد بنا کر پوری روہنگیا کے نہتے مسلمانوں، عورتوں بچیوں اور بزرگوں پر حملہ کرنا ، تشدد کرنا ، قتل کرنا یا انسانیت سوز مظالم کی حمایت کیسے کی جاسکتی ہے ۔ سوال یہ بھی ہے کہ برما کی حکومت کے پاس ایسا کون سا سیاسی فارمولہ ہے جو روہنگیا کے مسلمانوں کو مسئلہ کے حل کی طرف لے جاتا ہے ۔ کبھی بھی برما کی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کے مسئلہ کے حل میں کوئی سیاسی پیش رفت نہیں کی ، جو تشدد کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے ۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق حالیہ واقعات کی وجہ سے تقریبا 87000 روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش نقل مکانی کرچکے ہیں اور یہ تعداد اکتوبر2016سے بہت زیادہ ہے ۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے میانمار یانگ ہی لی نے نہ صرف ان حالیہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے واقعات پر نہ صرف شدید مذمت کی ہے بلکہ آنگ سان سوچی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ ان کے بقول اگرچہ تشدد کا عمل دونوں اطراف سے ہوا ہے یا ہورہا ہے مگر روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی نوعیت زیادہ سنگین ہے ۔ اسی طرح اکتوبر 2016 میں لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے کچھ محققین نے بھی  ایک رپورٹ مرتب کی تھی ۔ ان کے بقول حکومتی سرپرستی میں روہنگیا کی عملا نسل کشی آخری مراحل میں ہے ۔

روہنگیا مسلمانوں کے مسئلہ کے حل میں ہمیں زیادہ جذباتیت کا عمل غالب نظر آتا ہے ۔ یہ عمل مسلم دنیا اور بالخصوص سوشل میڈیا پر زیادہ نظر آتا ہے ۔ جبکہ مسلم دنیا کے حکمران ان معاملات کو زیادہ سنجیدگی اور کمٹمنٹ سے سفارت کاری ، ڈپلومیسی کے محاذ پر مقدمہ لڑنے سے قاصر نظر آتے ہیں ۔ ساری حکمت عملی ردعمل کی صورت میں سامنے آرہی ہے ۔ جب حالات بگڑتے ہیں تو مسلم دنیا میں ابھرتے ہوئے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بیان بازی شروع کردی جاتی ہے ۔ لیکن عالمی فورمز، عالمی دنیا ، عالمی حکمران سمیت انسانی حقوق سے وابستہ بڑے اداروں میں ہماری سفارت کاری اس مسئلہ پر نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یقینی طور پر روہنگیا مسلمانوں کے معاملات پر بڑی طاقتوں سمیت عالمی دنیا میں کافی بے حسی پائی جاتی ہے ۔ لیکن جو بے حسی مسلم دنیا کے حکمرانوں اور ان کی غیر سنجیدہ پالیسیوں میں ہے، اس پر بھی مسلم دنیا میں ماتم ہونا چاہیے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت مسلم دنیا میں مسلم حکمران اور مسلم عوام میں  بداعتمادی موجود ہے ۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ مسلم حکمران خود بڑی طاقوں کے آلہ کار بن کر مسلم دنیا پر ظلم ڈھانے کا سب بن رہے ہیں۔

اس حوالے سے ہمیں چار مختلف پہلووں پر توجہ دینی ہوگی ۔ اول مسلم دنیا بڑی طاقتوں پر سفارت کاری کی مدد سے دباو ڈالے کہ وہ  برما حکومت اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان مصالحت کار کے طور پر سامنے آئے۔ دوئم مسلم دنیا بالخصوص او آئی سی سمیت دیگر اسلامی فورمز کچھ ایسا لائحہ عمل یا مطالبات روہنگیا مسلمانوں کی مدد اور مشاورت کے ساتھ سامنے لائے جو سب فریقین کے لیے قابل قبول ہوں۔  اور اس کا فائدہ ان روہنگیا مسلمانوں کو بھی ہو۔ سوئم مسلم دنیا اس مسئلہ میں جذباتیت سے باہر نکل کر شواہد یا حقائق کی بنیاد پر انسانی حقوق اور قانون سے وابستہ اداروں پر دباؤ ڈالے اور خود اس مسئلہ میں کردار ادا کرے۔ عالمی میڈیا تک معاملات کو سمجھنے کی رسائی دی جائے ۔ چہارم فوری طور پر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری پرتشدد عمل روکا جائے اور مسئلہ کے سیاسی حل کی طرف پیش رفت ہو۔ یہ ہی مسلم دنیا ، روہنگیا مسلمانوں اور عالمی دنیا کے مفاد میں ہے ۔