مذہبی انتہا پسندی لامحدود !

  • تحریر
  • جمعہ 08 / ستمبر / 2017
  • 4053

عالمی میڈیا شمالی کوریا کے ہا ئیڈروجن بم اور میزائل تجربے ، ٹیکساس امریکہ میں تباہ کن سمندری طوفان اور مشرقِ وسطیٰ میں جذب ہونے کا باوجود ایک ابھرتے ہوئے انسانی المیے سے صرفِ نطر نہ کر سکا۔ روہنگیا کے مسلمانوں کی حالیہ دنوں میں میانمار فوج اور مقامی مذہبی پْر تشدد گروہوں کے ہاتھوں ظلم و ستم کی داستانیں ہی کچھ ایسی دلخراش ہیں کہ عالمی میڈیا اسے کوریج دیئے بغیر نہ رہ سکا۔ ایک جانب میانمار کی فوج کی باقاعدہ کارروائیاں جس میں گاؤں کے گاؤں جلا دئے گئے، صرف دو ہفتے میں چار سو افراد ہلاک کر دیئے گئے لیکن اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ ان حالات میں فرار ہو کر آنے والوں کے لئے تمام پڑوسی ملکوں کی زمین تنگ، جائیں تو کہاں۔ فریاد کریں تو کس سے۔

سوشل میڈیا پر جذبات کا ایک طوفان امڈ آیا۔ حسبِ معمول مخالفین کو طعن و تشنیع بھی دی جاتی رہی کہ اگر جذبہ ء ایمانی ہے تو جاؤ روہنگیا کے مسلمان را ہ تک رہے ہیں۔ کئی ایک اداروں اور افراد نے ان کے لئے امدادی سامان اکٹھا کرنے کا بیڑہ بھی اٹھانے کا دعویٰ کیا۔ کچھ کا مشورہ کہ میانمار سے پاکستان تجارت معطل کر دے، میانمار سفارت خانے کو فون کرکے یا مظاہرے سے احتجاج ریکارڈ کروایا جائے۔ کچھ اس مہم کے لئے پر جوش تھے کہ آنگ ساں سو چی سے نوبل امن پرائز واپس لینے کی دستخطی مہم چلائی جائے ۔ اسی طرح کی ایک اور مہم کا بھی ذکر رہا جس کے ذریعے میانمار کی حکومتی پارٹی کی لیڈر سے کینیڈا کی اعزازی شہریت واپس لی جاسکے۔ اقوام متحدہ کے غیر موثر ہونے کا بھی گِلہ رہا ۔غرض اپنے سمارٹ موبائل فون پر جو جس سے بن پڑا ، اس نے کرنے کی کوشش کی۔

حقیقت کی دنیا مگر بڑی بے رحم اور مختلف ہوتی ہے۔ ترکی کے صدر نے آنگ ساں سو چی سے ٹیلیفون پر اسی موضوع پر بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ میانمار کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ مثال اس کی انہوں نے ان فوٹوز کی دی جنہیں روہنگیا مسلمانوں سے منسوب کی گئیں لیکن بعد ازاں وہ کسی اور واقعے یا علاقے کی نکلیں۔ ایک ترک وزیر نے ایسی ہی ایک تصویر کے ساتھ ٹویٹر پر کڑی تنقید کی لیکن وہ تصویر بعد ازاں کسی اور علاقے کی نکلی۔ خجالت میں وزیر موصوف کو تیسرے دن وہ تصویراور پیغام اپنے ٹویٹر کاؤنٹ سے تلف کر نا پڑا ۔(بی بی سی نے بھی ایک مضمون میں ایسے تین وائرل فوٹوز کی نشاندہی کی جن کا تعلق روہنگیا سے تھا ہی نہیں)۔ آنگ ساں سوچی نے ترکی صدر سمیت اقوام متحدہ کو بھی بڑی ڈھٹائی سے یہی کہا کہ ان کی فوج رخائن ریاست میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کر رہی ہے۔ سویلین یا فقط مسلمانوں کو ٹارگٹ کرنے کی باتیں جھوٹی خبریں ہیں یعنی Fake news ۔

جوشِ جذبات اور انٹرنیٹ کی آسانی کی وجہ سے کچھ غیر متعلقہ تصویریں بھی وائرل ہوئیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ رخائن ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کوئی پرتشدد اور لوٹ مار کے واقعات پیش نہیں آئے۔ 1948 میں برطانوی راج سے آزادی کے بعد شہریت کا جو قانون بنایا اس میں روہنگیا کی مسلم آبادی کو برما کا نسلی باشندے ماننے سے انکار کر دیا گیا۔ موقف یہ اپنایا گیا کہ ان لوگوں کو برطانوی راج کے دوران برطانوی راج کے دیگر علاقوں سے لا کر بسایا گیا ، لہذٰا یہ لوگ برما میں غیر قانونی ہیں۔ بعد ازاں ساٹھ اور اسّی کی دِہائی میں مزید قانون سازی کے ذریعے روہنگیا مسلمانوں کو برمی شہریت سے عملاٌ انکار کر دیا گیا۔

چند سال قبل طویل فوجی آمریت کے بعد آنگ ساں سوچی کی سیاسی حکومت قائم ہوئی لیکن فوج اب بھی مضبوط اور فیصلہ کن ہے۔ میانمار سری لنکا اور تھائی لینڈ کی طرح ایک بدھ اکثریت کا ملک ہے۔ کچھ عرصہ قبل چند جنونی مذہبی بدھ رہنماؤں نے میانمار پر مسلم پر تشدد قبضے کے خطرے کا راگ الاپ کر ایک نفرت انگیز تحریک شروع کر دی۔ اس تحریک کا ٹارگٹ مسلمان تھے۔ 2014 میں ہونے والے بدھ مسلم فسادات اسی تحریک کا شاخسانہ تھے۔ وہ تحریک اب سیاسی حکومت کے آجانے پر مزید مضبوط اور متحرک ہے۔ امکان یہی ہے کہ میانمار حکومت کے موقف میں لچک نہیں آئے گی اور بدھ مذہبی انتہاء پسند تحریک بھی مزید پَر پْرزے نکالے گی ۔

عالمی برادری کے لئے اب کیا آپشن موجود ہیں اور میانمار پر دباؤ ڈالنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے۔ جو مہاجرین حالیہ دنوں اور اس سے قبل بنگلہ دیش، تھائی لینڈ اور ملائیشیاء میں پناہ گزین ہو چکے ان کی بحالی یا کسی دوسرے ملک میں ان کو مستقل بسانے کی کیا سبیل ہو سکتی ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے مسلمانوں کا روہنگیا مسلمانوں کے لئے ہمدردی قدرتی امر ہے لیکن یہ ایک تکلیف دہ اور ہولناک انسانی المیہ بھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس المیے کو انسانی المیے کے طور پر ہی پیش کیا جائے اور اس کے ممکنہ حل کی کوششیں کی جائیں۔ اسے خالصتاٌ  مذہبی بنیاد پر اٹھانے سے اس المیے کے لئے موجود عالمی حمایت میں کمی آنے کا امکان ہے۔ نوے کی دِہائی میں سرائیوو کے مسلمانوں کی Ethnic cleansing پر بالآخر عالمی برادری بیدار ہوئی اور اس کی مداخلت سے ہی امن ممکن ہوا۔ روہنگیا کے مسلمانوں کو بھی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان کا نسلی صفایا کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی انجمنیں اس حقیقت سے آگاہ ہیں اور ان ہی بنیادوں پر میانمار پر تنقید بھی کر رہی ہیں اور اس علاقے میں رسائی اور امداد کے لئے میانمار حکومت پر دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔

بہتر یہ ہوگا کہ سفارتی میدان میں مسلم اور غیر مسلم ممالک سلامتی کونسل میں قرار داد لائیں جس میں میانمار پر زور دیا جائے کہ رخائن ریاست میں انتقامی اور فوجی کاروائیاں بند کی جائیں، اس علاقے تک عالمی میڈیا اور امدادی تنظیموں کو رسائی دی جائے، بے گھر کئے جانے والوں کو گھر واپسی کا محفوظ راستہ دیا جائے اور اس علاقے میں اقوام متحدہ کی امن فوج متعین کی جائے۔ میانمار کی طرف سے انکار کی صورت میں سلامتی کونسل میانمار پر معاشی اور فوجی پابندیاں لگا کر میانمار کو مجبور کرے کہ وہ حالات کی سنگینی پر عالمی برادری کو نظر انداز نہ کرے۔ مسلسل انکار کی صورت میں عالمی برادری براہِ راست مداخلت کے آپشن پر بھی غور کر سکتی ہے ۔

مذہبی انتہا پسندی کا خطرناک رجحان میانمار کے ساتھ ساتھ دیگر بدھ اکثریت والے ملکوں سری لنکا اور تھائی لینڈ میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے بڑھ رہا ہے۔ سری لنکا میں تین سال قبل بدھ مسلم فسادات کے بعد حالیہ مہینوں میں بھی مساجد اور مسلمانوں کے کاروبار پر منظم حملے کئے گئے۔ سری لنکا میں مسلمان اقلیت پر امن اورمحب الوطن شہری ہیں۔ اکثر مسلمان متمول کاروباری ہیں اور اسی بات کو کئی بدھ مذہبی رہنماؤں نے اپنے پیروکاروں کو مشتعل کرنے کے لئے جواز بنایا۔

بھارت میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد گاؤ کشی کی بنیاد پر درجنوں ہولناک واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کئی ایک واقعات میں اشتعال کے لئے پھیلائی گئی خبریں تحقیق کے بعد غلط ثابت ہوئیں لیکن نقصان وہ جو ہو چکا تھا۔ پر تشدد گروہوں کو سرکار کی آشیر باد نے مزید دلیر بنا دیا ہے۔ اس سے قبل کئی انتہا پسند ہندو گروہوں نے گھر واپسی کے نام سے مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کی جبری تبدیلی کی مہم چلا رکھی ہے۔ ہندوتوا کے فروغ کے لئے آر ایس ایس اور اس کے دیگر منسلک گروپس نے اب مسلمانوں کے بعد دیگر طبقات کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ ان کا تازہ ترین شکار کرناٹک کی پچپن سالہ گوری لنکیش خاتون صحافی بنی جسے اسی ہفتے بنگلور میں اس کے گھر کے سامنے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ جرم اس خاتون صحافی کا یہ تھا کہ وہ بائیں بازو کے اپنے خیالات پر ڈٹی رہی ، سیکولر اور نکسل باڑی تحریک کے حق میں بار بار لکھتی رہی اور ہندوتوا کی آڑ میں سیاسی مفاد پرستوں پر اپنے قلم سے حملہ آور رہی جس کا نتیجہ اس کی المناک موت کی صورت میں سامنے آیا۔

مذہبی انتہا پسندی نے مشرقِ وسطیٰ کے بعد شاید ایشیا کا راستہ دیکھ لیا ہے جہاں نسلی اور مذہبی تفریق پہلے ہی بہت گہری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی اور عوامی سطح پر ایسے بیانیے اور پالیسیوں کو اپنایا جائے جس میں پر تشدد گروہوں کی گنجائش پیدا نہ ہو سکے۔ معاشرتی انصاف کی جانب قابل قدر پیش رفت ہو ورنہ ایسے جنونی گروہ مذہبی بنیادوں پر تشدد کے لئے اکسا کر اپنے لئے سیاسی و مذہبی قوت حاصل کرنے میں سرگرم رہیں گے۔