معرکہ چونڈہ کا ہیرو
- تحریر ڈاکٹر جمال عباسی
- ہفتہ 09 / ستمبر / 2017
- 15950
چلے جو ہوگے شہادت کا جام پی کر تم
رسول پاک ﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہوگا
ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ نے پاکستانی بہادر قوم اور افواج نے بے مثال قربانیاں دے کر وطن عزیز کا دفاع کیا۔ شجاعت و شہادت کی ان گنت داستانیں تاریخ کے اوراق میں سنہری الفاظ میں رقم ہیں۔ شہیدوں کے مقدس خون کی خوشبو سے سوہنی دھرتی آج بھی معطر ہے۔ غازیوں کے کارنامے قوم کے لئے مشعل راہ ہیں۔ شجاعت کی ایک ایسی ہی انمول داستان 11 ستمبر 1965 کی رات مقدس خون سے تحریر ہوئی۔ یہ داستان افواج پاکستان کے بہادر مجاہدوں کی ہے۔ جن کی قیادت میجر ضیاء الدین احمد عباسی کررہے تھے۔
اس رات مکار دشمن اپنی عددی برتری کے گھمنڈ میں بدمست ہوکر سیالکوٹ پر حملہ آور ہوا۔ مقصد سیالکوٹ کو دیگر شہروں سے کاٹ کر قبضہ کرنا تھا۔ عسکری مورخین کا کہنا ہے کہ چونڈہ دوسری جنگ عظیم میں لڑی جانے والی آرمڈ جنگ سے بڑی تھی جو کہ کراسک کے مقام پر لڑی گئی۔ افواج پاکستان نے بڑی بہادری سے جنگ کراسک کو پیچھے چھوڑ دیا اور بھارت کے چھ سو سے زائد ٹینکوں کو تباہ کرکے سیالکوٹ کے محاذ پر ان کا قبرستان بنا دیا۔ یہاں ایک اہم بات تحریر کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ اس جنگ کے کمانڈر میجر ضیاء الدین احمد عباسی جب برطانیہ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ تربیتی کورس کرنے گئے تھے تو کورس کے دوران شرکاء کو خصوصی طور پر دنیا کی سب سے بڑی آرمڈ جنگ کراسک دکھائی گئی۔ فلم دیکھ کر میجر ضیاء الدین احمد عباسی اپنے کمرے میں آگئے اور انہوں نے اپنی ڈائری میں تحریر کیا کہ اگر کبھی قدرت نے مجھے اور افواج پاکستان کو آرمڈ جنگ میں حصہ لینے کا موقع دیا تو ہم تاریخ کو بدل دیں گے۔ اور دنیا افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا کرے گی۔ خدا کی قدرت انہیں یہ نادر موقع شب 11 ستمبر 1965 پاک بھارت جنگ میں چونڈہ کے محاذ پر عطا ہوا۔ اور افواج پاک نے اپنی شہادتوں کا نذرانہ دے کر وطن عزیز کا دفاع کیا اور قوم کو دنیا کی سب سے بڑی آرمڈ جنگ میں فتح کا تحفہ دیا۔
میجر ضیاء الدین احمد عباسی شہید اور ان کے بہادر ساتھی مجاہدوں نے تیس ٹینکوں کے ساتھ دشمن کے چھ سو ٹینک تباہ کئے اور اسے بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ برستے گولوں کی بارش میں میجر ضیاء الدین احمد عباسی اپنے ٹینک پر کھڑے اپنے سپاہیوں کو ہدایات دے رہے تھے کہ دشمن کا ایک گولہ ان کے جسم سے ٹکرایا اور وہ شہید ہوگئے۔ آگ کی تپش سے ان کا جسم اس قدر جھلس گیا کہ ان کی شناخت بھی مشکل ہوگئی اسی لئے ان کا مقبرہ بھی نہ بنایا جاسکا لیکن اللہ تعالی عظیم شہید کے لئے قبر کی جگہ جنت الفردوس میں مختص کررکھی تھی۔ یہ منصب و مرتبہ کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔
1965 کی جنگ ختم ہونے کے چند ماہ بعد مدینہ منورہ میں ایک عمر رسیدہ پاکستانی خاموش بیٹھا آنسو بہاتے ہوئے روضہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف دیکھے جارہا تھا۔ یہ پاکستانی 11 ستمبر 1965 کو سیالکوٹ چونڈہ محاذ پر شہید ہونے والے کوئٹہ انفنٹری سکول کے انسٹرکٹر میجر ضیاء الدین احمد عباسی (ستارہ جرأت) کے والد گرامی تھے۔ جب صدر پاکستان ایوب خان کی طرف سے میجر عباسی شہید کے والد اپنے شہید بیٹے کو بعد از شہادت ملنے والا ستارہ جرات وصول کررہے تھے تو ایوب خان نے ان سے ان کی کوئی خواہش پوچھی ٗ تو انہوں نے عمرہ کی خواہش کا اظہار کیا۔ جسے ایوب خان نے فوراً قبول کرلیا۔ شہید میجر ضیاء الدین عباسی ستارہ جرات کے والد جب روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھے آنسو بہا رہے تھے تو خادم مسجد نبوی ﷺ وہاں آئے اور وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ آپ میں سے کوئی پاکستان سے تعلق رکھتا ہے۔ میجر ضیاء الدین عباسی شہید کے والد نے خادم مسجد نبوی کے استفسار پر کہا کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں۔ خدام مسجد نبوی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ پاکستانی فوج کے میجر ضیاء الدین عباسی شہید کا نام آپ نے سنا ہے ، ان کو آپ جانتے ہیں۔ اس پر شہید کے والد نے حیرت سے کہا کہ وہ ہی اس شہید کے والد ہیں۔
یہ سنتے ہی خوشی اور مسرت سے لبریز خادم خاص نے آگے بڑھ کر زور سے انہیں گلے لگایا اور ان کے بوسے لیتے ہوئے کہا کہ آپ یہیں رکیں ، میں کچھ دیر بعد آتا ہوں۔ میجر ضیاء الدین احمد عباسی شہید کے والد کو اپنے گھر لے گئے جہاں انہیں بڑی عزت اور احترام کے ساتھ اپنے اہل و عیال کے ساتھ کھانا کھلایا۔ سب گھر والے ان کے ساتھ بڑی عزت اور احترام سے پیش آرہے تھے۔ میجر ضیاء الدین عباسی شہید کے والد بہت حیران تھے کہ یاالہی ماجرا کیاہے۔ میں تو انہیں جانتا تک نہیں بلکہ زندگی میں پہلی بار میرا سعودی عرب آنا ہوا ہے۔ اسی شش و پنج میں تھے کہ خادم خاص روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھوں کے ایک بار پھر بوسے لئے اور شہید عباسی کے والد کی حیرانی دور کرتے ہوئے کہنے لگے کہ جب پاکستان اور ہندوستان کی جنگ ہورہی تھی تو 11ستمبر کی رات میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی کہ وہ اپنے جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ تعالی اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ لمحوں بعد حضرت علی کرم اللہ وجہ اپنے ہاتھوں میں ایک لاشہ اٹھائے ہوئے وہاں تشریف لاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ شہید عباسی اسی طرح بہادری سے کفار کے خلاف جنگ لڑتے رہے ہیں جیسے آپ میرے ساتھ غزوات میں کفار کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ خادم مسجد نبوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت سب نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور حکم دیا کہ انہیں جنت البقیع میں دفن کیا جائے۔
عین اسی دن ریڈیو پاکستان پر ایک نیا جنگی ترانہ گونج رہا تھا:
اے راہ حق کے شہیدو تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں
چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم
رسول پاک ﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہوگا
علیؓ تمہاری شہادت پر جھومتے ہوں گے
حسینؓ پاک نے ارشاد یہ کیا ہوگا
اے راہ حق کے شہیدو تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں
آخر میں بھارت کے نریندر مودی اور اپنے ملککے نااہل حکمرانوں کو پیغام ہے:
یہود و ہنود کے یار سن لیں یہ اعلان
قائم و دائم رہے گا تا قیامت ہمارا پاکستان
افواج پاکستان گلیشیئر چیر کر شہیدوں کے مقدس جسد نکال سکتی ہیں
قاتل مودی کس باغ کی مولی ہے اسے گلیشیئر ہی میں دفنا سکتی ہیں
کبھی پورا نہ ہوگا سجن جندال تیرا مکروہ خواب
نہ لے جا پائے گا تو کابل اپنا لوہا براستہ خنجراب
تاپی منصوبے میں تیری حرام دولت غرق ہوجائے گی
بھول جا کے راجستھان سے تیری بجلی کبھی ہمارے سندھ میں آئے گی