امریکی صدر ٹرمپ اور افغان پالیسی
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 10 / ستمبر / 2017
- 4859
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں پاکستان سمیت مسلم دنیا میں پہلے ہی کوئی بڑی اچھی توقعات نہیں تھیں۔ ان کی انتخابی مہم خاص طور پر مسلم دشمنی اور پاکستان مخالفت پر مبنی تھی ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بھارت اور اس کے سفارت کار، میڈیا اور ان کی لابی فرمز کی حمایت کا عمل دخل بہت زیادہ تھا ۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد یہ احساس نمایاں تھا کہ وہ اس خطہ میں بھارت اور اس کے مفادات کے ساتھ کھڑا ہے اور پاکستان کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا کرنا ہوگا۔
بھارت کا خیال تھا کہ ٹرمپ کی جیت کے بعد وہ پاکستان کو بڑے دباؤ میں لاکر اپنے مفادات کو تقویت دے گا اورامریکہ میں ٹرمپ کی موجودگی اس کے لیے معاون ہوگی ۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ہمیں بھارت کی عملی خواہش کی ایک جھلک ریاض سعودی عرب میں مسلم ممالک کے ایک غیر معمولی کانفرنس میں دیکھنے کو ملی جہاں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو سعودی عرب اور امریکہ نے نظر انداز کیا ۔ مسئلہ محض نظر انداز کرنے کا ہی نہیں تھا بلکہ پاکستان کو خطہ کی بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار اور بھارت کو ان تمام معاملات یا جو پاکستان کے بھارت کے حوالے سے تحفظات تھے ان پر ایک لفظ بھی نہیں بولا گیا ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت اور افغانستان کو دہشت گردی کے شکار ملک کے طور پر پیش کیا ، جبکہ پاکستان جو دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑرہا ہے ، اس کی کامیابی کا اعتراف دیکھنے کو نہیں ملا۔ حالانکہ ہم خود بطور ریاست دہشت گردی کا شکار ہیں اور اس کی ایک وجہ بھارت اور افغانستان کی دخل اندازی بھی ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اگست کو جنوبی ایشیا اور بالخصوص افغانستان کے بارے میں جو پالیسی بیان دیا ہے وہ اس وقت ہمارے لیے کافی اہمیت رکھتا ہے۔ اس پالیسی بیان کو سمجھ کر ہی ہم مستقبل میں پاک امریکہ تعلقات اور اسی تناظر میں بھارت اور افغانستان کے مسئلہ کو بھی سمجھ سکتے ہیں ۔ کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ اول پاکستان میں دہشت گردی یا دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ ، دوئم پاکستان کو اربوں ڈالر کی امریکی امداد اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی ، سوئم اگر پاکستان نے دہشت گردی سے نمٹنے میں اپنا رویہ یا طرز عمل درست نہیں کیا تو اس کو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے ، چہارم ہم پاکستان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کا شکار ہے لیکن اس سے نمٹنے کے لیے اس کو امریکہ سمیت سب کو مطمئن کرنا ہوگا ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف امریکہ کی پالیسی یہ ہے کہ پاکستان ہمارا اہم پارٹنر ہے اوراس کی مدد کے بغیر ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکیں گے ۔ لیکن دوسری طرف پاکستان کو دباؤ میں لانے یا ڈومور کی پالیسی کے تحت یہ تاثر دینا ہے کہ امریکہ پاکستان کو حالیہ اقدامات کے باوجود کلین چٹ نہیں دے سکتا۔ خاص طو رپر امریکی صدر کا یہ کہنا کہ اس خطے میں موجود بڑے دہشت گرد طالبان ، القاعدہ اور داعش کے محفوظ ٹھکانے پاکستان میں ہیں یا پاکستان کی ان کی کسی نہ کسی شکل میں حمایت کررہا ہے ۔ اس کے لیے اسے ان دہشت گردوں کو نکیل ڈالنا ہوگی ۔ یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ پشاور اور کوئٹہ میں موجود طالبان شوری افغانستان میں دہشت گردی کو کنٹرول کررہی ہے ۔ ٹرمپ کے پالیسی بیان کا ایک اہم حصہ بھارت ہے جہاں وہ اس کی تعریف کرتے ہیں وہیں وہ امریکہ اور بھارت کے درمیان مزید بھارت کے کردار کے متمنی ہیں۔ لیکن یہ تعلقات پاکستان کو کمزور کرنے کی قیمت پر نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ ہی سب کے مفاد میں ہوگا۔
امریکی صدر ٹرمپ کا پالیسی بیان پاکستان کو بھی بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے میں عالمی دنیا میں کہاں کھڑے ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے میں سب سے زیادہ قربانی دینے والا ملک پاکستان اور اس کی ریاست کے اقدامات کو شک کی نگاہ سے کیوں دیکھا جارہا ہے۔ اسی طرح اس نقطہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ امریکہ یا دیگر ملک پاکستان پر تو دباؤ ڈالتے ہیں لیکن جو ہمارے تحفظات بھارت او رافغانستان کے تناظر میں اس پر خاموشی کیوں اختیار کی جارہی ہے۔ کیا دہشت گردی کا مسئلہ محض پاکستان کا ہے یا یہ پورے خطہ کی سیاست کا بھی داخلی ایجنڈا ہے۔ اگر ایسا ہے تو علاقائی ملکوں میں کیونکر دہشت گردی سے نمٹنے کے بارے میں مشترکہ میکنزم ، جدوجہد اور معاملات کو سمجھنے کا فہم کمزور نظر ہے ۔
حالیہ دنوں میں دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم برکس نے بھی اپنے مشترکہ اعلامیہ میں جیش محمد، لشکر طیبہ سمیت خطہ میں طالبان ، دولت اسلامیہ ، القائدہ ، تحریک طالبان پاکستان، حقانی نیٹ ورک اورحزب التحریر کی کاروائیوں کو قابل مذمت قرار دیا ہے ۔ ان کے بقول دہشت گردی میں ملوث، ان کا انتظام اور حمایت کرنے والوں کو ہر صورت میں کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ یاد رہے کہ برکس کے ارکان میں بھارت، چین ، برازیل ، روس اور جنوبی افریقہ شامل ہیں ۔ یہ اعلامیہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کو مختلف ممالک اور فورمز سے دباؤ میں لایا جارہا ہے ۔ یہ سوال اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہ کیا ان تمام دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کی ذمہ داری محض پاکستان پر ہی عائد ہوتی ہے یا اس میں دیگر ممالک کا بھی کردار ہے۔ یہ مسئلہ سیاسی تنہائی میں حل نہیں ہوگا۔
امریکہ کی کوشش یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کو دو طریقوں سے دباؤ میں لایا جائے ۔ اول اقتصادی امداد اور دوئم سیاسی اور سفارتی یا ڈپلومیسی کے محاذ پرڈو مور کی پالیسی کو اور زیادہ شدت سے آگے بڑھانا شامل ہے۔ امریکہ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ اس وقت اس کی اہم ترجیح افغانستان ہے ۔ وہ اب یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اور بالخصوص پاکستان کی فوج کی مدد کے بغیر وہ افغانستان میں بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکے گا ۔ ماضی میں پاکستان کو نظر انداز کرکے افغانستان میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی امریکہ کی حکمت عملی ناکام ہوئی تھی ، اس لیے پاکستان کا کردار کلیدی ہے ۔ امریکہ نے افغانستان سے انخلا کی پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا ، اس کو اب مسترد کرکے دوبارہ افغانستان میں مزید رہنے اور فوجی بھیجنے کی پالیسی اختیار کرلی ہے ۔
اگرچہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے حالیہ ٹرمپ افغان پالیسی پر شدید تنقید کی ہے اور کچھ بڑے فیصلے بھی کیے جن میں امریکی امداد پر سخت ردعمل ، وزیر خارجہ کا دورہ امریکہ کو ملتوی کرنا ، امریکی سفارتی نمائندہ کے دورہ پاکستان کو ملتوی کرنا جیسے اقدامات شامل ہیں۔ آرمی چیف نے بھی اربوں ڈالر کی امداد کے طعنے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ہمیں ڈالر نہیں بلکہ پارٹنر شپ درکار ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اورپاکستان کے تعلقات کس شکل میں آگے بڑھتے ہیں۔ لیکن اس میں بھار ت کی کوشش ہوگی کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مزید مسائل کو ابھار کر بداعتمادی پیدا کی جائے ۔ افغانستان کے تناظر میں نئی صورتحال یہ سامنے آئی ہے کہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے پاکستان کو کشید تعلقات کے خاتمہ کے لیے جامع سیاسی مذاکرات کی پیش کش کی ہے ۔ ان کے بقول پاکستان کے ساتھ امن افغانستان کا قومی ایجنڈا ہے اور اس کے لیے ہم ہر قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں ۔
افغان صدر کی جامع مذاکرات کی پیش کش اچھا فیصلہ ہے اوراس کی حمایت بھی ہونی چاہیے اور پاکستان کو اس میں خود سے بڑی پہل بھی کرنی چاہیے ۔ تاکہ تاثر ملے ہم بھی امن چاہتے ہیں ۔ لیکن افغان صدر کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود داخلی سیاست میں کمزور وکٹ پر کھڑے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں پاکستان مخالف عناصر زیادہ کابل میں منظم ہیں اور ان کو بھارت کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ ماضی میں افغان صدر پاکستان کی طرف دوستانہ تعلقات کے حامی بھی رہے ہیں اور کچھ اقدامات بھی اٹھائے لیکن بھارت اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس ایجنڈے کو تقویت دینے کی بجائے پاکستان دشمن ایجنڈے کو زیادہ طاقت فراہم کی ۔
افغانستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ داخلی محاذ پر کمزوربھی ہے اور حالات بھی اس کے کنٹرول میں نہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ حالیہ ٹرمپ پالیسی نے پاکستان کو کافی جنجھوڑا ہے۔ اگر ہم واقعی مثبت حکمت عملی اور موثر اقدامات سے آگے بڑھتے ہیں تو ہمیں فائد ہ ہوگا۔ کیونکہ ہم سے زیادہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے اور اس کا فائدہ ہمیں ہر سطح پر اٹھانا چاہیے ۔