ہماری خارجہ پالیسی

کسی بھی ملک کے بیرونی و بین الاقوامی معاملات و تعلقات کے لئے خارجہ پالیسی انتہائی اہم و اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ خارجہ پالیسی دراصل اپنے ملکی مفادات کو مد نظر رکھ کر بنائی جاتی ہے۔ دنیا میں کامیابی کے حصول کے لئے کسی بھی ملک کو ایک جامع اور مثبت خارجہ پالیسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا میں کامیاب سپر پاورز کی کامیابی کے پیچھے ان کی بہترین اور مفصل خارجہ پالیسی کا بڑا کردار ہے۔

گزشتہ چند برسوں سے ہماری خارجہ پالیسی زیر بحث ہے۔ ہمارے تجزیہ کار اور ماہرین خارجہ پالیسی پر نکتہ چینی کرتے نظر آتے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک بدلتی صورتحال میں ملک پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں بھی بدلاؤ لانا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ملک اپنی ناکام خارجہ پالیسی کی بدولت دنیا میں تنہائی کا شکار ہو جائے۔ حکومت کے سیاسی مخالفین کے نزدیک ناکام خارجہ پالیسی کی بدولت حکومت نے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ گزشتہ چار برس وزارت خارجہ اور خارجہ پالیسی کا تعین نہ ہونا حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔  ہمارا ہمسایہ اور دشمن ملک بھارت جو ہمیں دنیا میں تنہا کرنے کا عزم کرچکا ہے، اپنی مفصل و چالاک خارجہ پالیسی کی بدولت وہ ایسا کرنے میں کافی حد تک کامیاب  ہے۔ مودی سرکار کی چاق و چوبند خارجہ پالیسی نے پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی۔

یہ تو صرف اللہ رب العزت کی عنایت ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت کی وجہ سے کوئی بھی ملک ہم سے پوری منہ نہیں پھیر سکتا۔  ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے ہم مذہب ہمسایہ ممالک بھی ہمارے مؤقف کے حامی نہیں۔ دوسری طرف چوکنا دشمن بھارت جس کے اندر عرصہ دراز سے آزادی کی کئی جد و جہد موجود ہیں  ،وہی ملک ہمیں تنہائی کا شکار کرنے کی طرف گامزن ہے۔ میں مانتا ہوں بھارت ایک بڑی طاقت ہے۔ اس کی آبادی ہم سے زیادہ ہے ، افواج و اسلحہ میں ہم سے زیادہ طاقتور ہے۔ مگر اس کے مسائل بھی ہم سے زیادہ ہیں ۔ اسے اپنی سلامتی برقرار رکھنے کے لئے ہم سے کہیں زیادہ مشکلات درپیش ہیں مگر وہ اپنی کاوشوں میں مگن ہے۔ الحمد للہ ہمارے اندرونی معاملات کافی حد تک بہتر ہو گئے ہیں اور بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ بلوچستان کے حالات قدرے بہتر اور تسلی بخش ہیں۔ مگر بھارت کے صوبہ پنجاب و بنگال سمیت بہت سے صوبوں میں آزادی کی بغاوتیں دن بدن بڑھ رہی ہیں۔

اتنے کٹھن اندرونی حالات کے باوجود بھارتی وزارت خارجہ و مودی سرکار نے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف اپنی سفارت کاری پر زور دیا اور دنیا کی بڑی طاقتوں پر پریشر ڈالا کہ وہ پاکستان کو دہشتگردی کا ذمہ دار ٹھہرائیں۔ مگر ہماری حکومت  چار برس خواب  غفلت میں سوئی رہی اور نواز شریف کی  نااہلی کے بعد سے نااہلی کا رونا ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہا ۔ کہیں ماتم اور کہیں جشن کا سماں ہے۔ ملکی بہتری و عزت کی کوئی پرواہ نہیں۔  یہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی ہی ہے کہ امریکہ جو ہمیں کچھ عرصہ پہلے اپنا سب سے بڑا نان نیٹو اتحادی کہتا تھا، وہی آج ہمیں محض اس لئے دہشتگردوں کا حامی قرار دے رہا کہ اس کا  نیا دوست بھارت خوش ہو سکے۔ انتہائی دکھ و افسوس کا عالم تھا کہ گزشتہ دن ہمارے اکلوتے دوست ملک چین نے بھی ہمیں ڈو مور کا مطالبہ کر دیا۔  یہ صرف ہماری ناکام خارجہ پالیسی کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔ بھارتی سفارتکاری کا جادو ہی ہے کہ چین اپنے دوست ملک کے خلاف بولا بھی تو اس کے  دشمن کے کہنے پر۔ تاہم چینی حکومت کو چینی ماہرین نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

بلاشبہ مودی سرکار نے اپنی توسیع پسندانہ اور عیاری کی بدولت اپنے مفادات کے قریب پہنچنے کی پوری کوشش کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستانی حکومت و ذمہ داران کب خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہیں۔ اور کب اپنی عزت و آبرو اور مفادات کو مد نظر رکھ کر اپنی پالیسیاں وضع کرتے ہیں۔ گزشتہ روز وزیر خارجہ خواجہ آصف کا دورہ چین بہت خوش آئند اور معنی خیز ہے، جس میں چین نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی اور پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کاوشوں اور قربانیوں کو سراہا۔ اور دنیا پر بھی زور ڈالا کہ وہ پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے اور دہشتگردی کی روک تھام کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ چینی وزیر خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک چین دوستی برقرار رہے گی اور چین اپنے دوست ملک کی ہمیشہ حمایت کرے گا۔ اس اہم میٹینگ سے برکس سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا خاتمہ تو ہوگیا  مگر پاکستان کو مستقبل میں چاق و چوبند رہنے کی ضرورت ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  پاکستان اپنی نئی وضع کردہ خارجہ پالیسی پر کتنا کاربند رہتا ہے۔ وزرات خارجہ کی طرف سے چین کے بعد ایران ، ترکی اور روس وغیرہ کے دوروں کا بھی زکر کیا گیا، جوکہ خوش آئند ہے۔ اگر ایسا پہلے ہوجاتا تو آج پاکستان کو دنیا کی طرف سے ایسے ریمارکس سننے کو نہ ملتے۔  موجودہ صورتحال میں پاکستان کو ایران جو کہ ہمارا ہم مذہب ہمسایہ بھی ہے اس کو افغانستان کے معاملے پر اپنا حامی بنانا بہت ضروری ہے۔ جو اس وقت افغان معاملہ میں بھارت کا حامی ہے۔ اہم بات پاکستان کو روس سے تعلقات بڑھانے کے ساتھ ساتھ امریکہ سے بھی تعلقات کو فروغ دینا ہوگا۔ جیسے بھارت نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو وسعت دی مگر روس سے اپنے تعلقات کو کم نہیں ہونے دیا ۔  پاکستان نے امریکہ سے تو تعلقات کم کرلئے مگر روس کے ساتھ تعلقات کو وسعت نہیں دی۔ یہ سب ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے جسے مستقبل میں مد نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔

روس کو ہم پر زیادہ اعتبار نہیں۔ ہمیں اپنا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ پاکستان کے لئے بیک وقت روس کو اپنا گرویدہ بنانا اور امریکہ سے بھی تعلقات کو بہتر کرنا مستقبل کا بڑا چیلنج ہوگا۔ یہی وہ طریقہ ہے کہ پاکستان سی پیک کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر خطے میں معاشی طاقت بن سکتا ہے۔