روہنگیا پر سیاست اور ریٹنگ
پاکستان کا سوشل اور مین سٹریم میڈیا ان دنوں روہنگیا مسلمانوں کے غم میں بے حال ہے ۔ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی عید، حج کی دعاؤں اور مبارک بادوں کے پیغامات میں ان کا تذکرہ کرکے اپنے جذبات کو ٹھنڈا کر رہے ہیں اور خود کو تسلی دے رہے ہیں کہ وہ درد دل رکھنے والے مسلمان ہیں جو اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اس ساری بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ دنیا بھر میں صرف مسلمان ہی زیر عتاب ہیں۔ اقوام متحدہ مسلمانوں کی مدد نہیں کرتی۔ یہی سلوک اگر کہیں مسیحی کمیونٹی سے ہو رہا ہوتا تو اب تک سلامتی کونسل، نیٹو اور یورپی یونین سب متحرک ہو چکے ہوتے ۔
ایک تجویز یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ پاکستان کو روہنگیا مسلمانوں کو قبول کر لینا چاہیے اور انہیں پاکستان میں پناہ دینی چاہیے ۔ اس سے پہلے افغانی بھی ہماری میزبانی کا لطف اٹھا چکے ہیں۔ یہی باتیں کم و بیش مین سٹریم میڈیا کے ٹاک شوز میں سننے کو ملتی ہیں۔ مذہبی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لوگ یہی الفاظ دہراتے نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو ‘لوہا گرم’ والی بات ہے یعنی لوگ اس موضوع پر جذباتی ہیں لہذا لگے ہاتھ جس قدر ریٹنگ مل جائے وہ لے لینی چاہیے ۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کو یہ موقع ‘غیب’ کی طرف سے مل رہا ہے کہ وہ اس موضوع کو اٹھائیں اور اس پر اپنی سیاسی دکان کو جس قدر ہو سکے چمکا لیں۔ بہت سی مذہبی جماعتیں تو میدان میں کود بھی پڑی ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک نے 100 سے زیادہ شہروں میں مظاہرے کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔ دیگر مذہبی جماعتیں بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈال چکی ہیں۔
سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر سیاسی لیڈر، اینکر اورعام آدمی ترکی کے صدر اردگان کی تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے لیکن اردگان کی یہ فیاضی صرف روہنگیا تک ہی رہے گی یا پھر ترک کرد بھی اس فیاضی سے بہرہ ور ہوں گے ۔ اس سوال کا جواب ملنا باقی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ روہنگیا اس وقت ایک ایسی بے وطن کمیونٹی ہے جسے کوئی بھی ریاست تسلیم کر نے کو تیار نہیں ہے ۔ دنیا میں سٹیٹ لیس لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اس وقت دنیا میں دس ملین سے زیادہ لوگ اس صورت حال سے دوچار ہیں جن کے پاس نہ تو کوئی قومی شناخت ہے نہ زندگی کی بنیادی ضروریات تک رسائی کے مواقعے ۔
روہنگیا کا مسئلہ پاکستان میں جس طرح پیش کیا جا رہا ہے اس میں جذباتیت کی آمیزش زیادہ ہے ۔ اس جذباتیت کا فائدہ ان عناصر کو ہوگا جو مذہب کو معاشرے میں اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں روہنگیا ایک بار پھر ایسے ہی استعمال ہوں گے جیسے نوآبادیاتی اور بعد از نوآبادیاتی سیاست میں استعمال ہوئے تھے۔ الین پتاوے نے اپنے ریسرچ آرٹیکل میں جو پرو ٹیکٹیڈ ڈس پلیسمنٹ ان ایشا نامی کتاب میں شائع ہوا اس مسئلے کی تاریخ پر کچھ روشنی ڈالی ہے :1784 میں ریاست آراکان ختم ہوگئی اور اسے بدھ اکثریتی ریاست برما کے ساتھ ملا دیا گیا۔ اس وقت بہت سے روہنگیا مشرقی بنگال کی طرف ہجرت کرگئے جو اس وقت برطانیہ کی کالونی تھا۔ اپنی زبان کلچر اور مذہب کی وجہ سے یہ لوگ بنگالیوں میں گھل مل گئے ۔ 1800 میں برطانیہ نے برما پر حکومت قائم کی تو اسے ہندوستان کے ایک صوبے کی طرح چلایا اور لیبر کی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے آبادی کا تبادلہ ہوتا رہا۔ ہندوستان کے کونے کونے سے روزگار کی تلاش میں لوگ یہاں آنے لگے ان میں سے کئی یہیں (سابقہ ریاست آراکان) بس گئے۔ اور کچھ نے برما کے بڑے شہروں میں سکونت اختیار کرلی۔ ان میں ہندو مسلم دونوں ہی تھے ۔
اس وقت بنگال میں رہائش پذ یر روہنگیوں نے مناسب موقع جانتے ہوئے اپنے گھروں کو واپسی کی۔ اس وقت یہ ہجرت مقامی تصور کی گئی تھی تاہم موجود برمی حکومت نے اس ہجرت کو تسلیم نہیں کیا اور روہنگیوں کو برما کا شہری ماننے سے انکار کردیا۔ یہی اصل جھگڑا ہے ۔1942 میں جاپان نے برما پر چڑھائی کی تو بہت سے روہنگیا ایک بار پھر مشرقی بنگال چلے گئے جس سے برما میں بدھ اکثریت اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے ۔ 1948 میں برما آزاد ہوا تو اس وقت روہنگیا مسلمانوں کو مشرقی پاکستان بھیجنے کی تحریک شروع ہوئی لیکن اس وقت کی پاکستانی حکومت نے ان کو لینے سے انکار کر دیا اور روہنگیا مسلمان بھی مشرقی پاکستان میں آباد نہیں ہونا چاہتے تھے ۔ جو مشرقی پاکستان پہنچ گئے ان کو مشرقی پاکستان غیر قانونی تارکین وطن اور جو برما میں رہ گئے ان کو برما غیر قانونی شہری تسلیم کرتا ہے ۔1962 میں جب برما میں سوشلسٹ پارٹی برسر اقتدار آئی تو اس نے روہنگیا کی سیاسی و سماجی تنظیموں کو توڑ دیا۔1977 میں ملٹری حکومت نے مردم شماری سے پہلے تمام غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کا آغاز کیا تاکہ انہیں اکثریتی آبادی سے الگ کیا جا سکے ۔
اس وقت روہنگیوں کے خلاف فسادات پھوٹ پڑے جس میں قتل اور آبروریزی اور عبادت گاہوں کو جلانے کے واقعات رونما ہوئے ۔ اس دوران دولاکھ کے قریب روہنگیوں نے بنگلا دیش میں پناہ لی۔ 80 کی دہائی میں جنرل ضیا الحق کی پالیسوں کے وجہ سے روہنگیوں کی اکثریت کو کراچی میں بھی پناہ گزینوں کے طور پر رکھا گیا۔ ڈان کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل ایلین رجسٹریشن اتھارٹی کے مطابق کراچی میں روہنگیا کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے ۔ ان لوگوں کو اس وقت رہائشی پرمٹ جاری کیے گئے تھے تاہم ان لوگوں کے پاس قومی شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ان میں جبری مشقت اور دیگر معاملات میں استحصال بھی شامل ہے جبکہ شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم میں بھی روہنگیا ملوث پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے چونکہ یہ لوگ مذہب کی طرف زیادہ رجحان رکھتے ہیں اس لئے اہل سنت و الجماعت، جماعت اسلامی، جمعیت علما اسلام (ف) اور دیگر مذہبی تنظیموں کے تنظیمی ڈھانچے کراچی کی برمی کا لونیوں اور ان کے گرد و نواح میں موجود ہیں۔
میڈیا اور سوشل میڈیا پر ابھی تک یہ سوال نہیں اٹھایا گیا کہ 1948 میں روہنگیا کو کیوں واپس کیا گیا اور جب 80 کی دہائی میں انہیں پاکستان لایا گیا تو اس وقت کون سے ضابطے اور قوانین بنائے گئے تھے ۔ اگر اس وقت یہ سب کچھ سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے کیا گیا تھا تو کیا اب بھی سیاسی جماعتوں کے نزدیک مذہب کے نام پرلوگوں کو جذباتی کرکے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔ روہنگیا پر سوشل و مین سٹریم میڈیا اور سیاسی جماعتیں روایتی جذباتیت اور کوتاہ بینی کا شکار نظر آتے ہیں۔ جذبات اور مذہب کے نعرے لگانے سے ریٹنگ تو مل جائے گی لیکن اس سے معاشرہ بھی ریڈ یکلائز ہوجائے گا۔ ایسی باتیں یہاں کم سنی اور اس سے بھی کم سمجھی جاتی ہیں۔