لندن کا فیض امن میلہ

9 ستمبر کو لندن کے معروف ہولبرن (Holborn)علاقے میں فیض امن میلے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ میلہ فیض احمد فیض کی شاعری اور ان کی زندگی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقد ہوتا ہے۔ اس میلے کا اہتمام فیض کلچرل فاؤنڈیشن ہر سال لندن میں  کرتی ہے۔ پچھلے سات سالوں سے فیض امن میلہ لندن میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے۔ جس میں خاص کر فیض احمد فیض کی بیٹی سلیمہ ہاشمی بطور مہمان خصوصی پاکستان سے تشریف لاتی ہیں۔ سلیمہ ہاشمی ایک معروف پینٹر اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ فیض احمد فیض کی سب سے بڑی بیٹی ہیں اور ان کی پیدائش دلّی میں ہوئی تھی۔

یوں تو فیض میلہ پچھلے سات برسوں سے لندن میں منعقد ہو رہا ہے لیکن مجھے اس میلے میں شرکت کرنے کا پہلا اتفاق ہوا۔ دراصل اس کی دو وجوہات تھیں ۔ پہلی وجہ فیض احمد فیض سے دلچسپی تھی اور دوسری ماسکو سے تشریف لا رہی اردو اسکالر لدمیلا واسیلیوا کی شرکت تھی۔ اس لئے میں نے اپنی تمام تر مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر اس پروگرام میں شرکت کرنے کے لئے کئی دنوں سے تیا ر بیٹھا تھا۔ ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ فیض امن میلہ میں شرکت کرنے کے لئے مجھے بیس پونڈ کا ٹکٹ بھی خریدنا پڑا جو کہ تقریباً ہندوستانی اور پاکستانی ہزار روپئے سے زیادہ بنتا ہے۔ تاہم پروگرام کی دلچسپی  اور محترمہ لدمیلا واسیلیوا کی تقریر کو سن کربیس پونڈ ٹکٹ مہنگا نہیں لگا۔  جب میں(Conway Hall) کون وے ہال پہنچا تو مرکزی دروازے پر ایک شخص کو ڈھول بجاتے ہوئے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے پایا۔ جس سے ماحول میں ایک جشن جیسا سماں کا احساس ہورہا تھا۔ ڈھول بجانے والے شخص کے خدوخال اور ڈھول بجانے کے انداز سے اس بات کا علم ہوگیا کہ اس پروگرام کے منتظمین کا تعلق پاکستان کے پنجاب سے ہے۔ جہاں ایسے ڈھول کا ہر تقریب میں استعمال ہوتا ہے۔

ہال میں داخل ہوتے ہی معروف ڈرامہ نویس، ڈائیریکٹر اور شاعر  رفعت شمیم سے ملاقات ہوئی۔ سلام و کلام کے بعد کچھ ہم نے اپنی روداد سنائی اور کچھ رفعت شمیم  نے اپنی صحت اور مصروفیات کا حالِ  بیان کیا۔ رفعت شمیم نے وقت پر پروگرام کے نہ شروع ہونے کا رونا بھی رویا۔ تھوڑی دیر کی رسمی گفتگو کے بعد میں رفعت شمیم سے جدا ہو کر ہال کے بیچ جا بیٹھا۔ میرے پاس کراچی کی عمیمہ نواب بھی تشریف فرما تھی جنہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اس پروگرام میں شرکت کے لئے کافی پر جوش تھیں۔ ہال دھیرے دھیرے لوگوں سے بھرنے لگا اور فیض احمد فیض کے دیوانے بے صبری سے فیض امن میلہ2017 کے افتتاح کا انتظار کرتے ہوئے دیکھے جانے لگے۔ آخر کار تھوڑی سی دیر اور انتظار کے بعد مائیک پر ایک شخص نے اعلان کیا کہ خواتین و حضرات فیض امن میلہ 2017 کا افتتاح معروف سماجی کارکن مرحوم عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی کے ہاتھوں ہونے والا ہے۔ دراصل میلے کا افتتاح ایدھی صاحب کی بیگم بلقیس ایدھی صاحبہ کو کرنا تھا لیکن کسی وجہ سے وہ اس پروگرام میں شرکت نہیں کر پائیں اور ان کی جگہ ان کے صاحب زادے فیصل نے اس کام کو انجام دیا۔

فیصل ایدھی پاکستان کے قومی لباس میں ملبوس تھے انہوں نے مرکزی دروازے پر لال فیتے کو کاٹا اور
ڈھول کی زور دار آوازاور دیگر مہمانوں کے ساتھ سارے لوگ اسٹیج کے سامنے دھیرے دھیرے بڑھنے لگے۔ اس دوران سامعین نے زوردار تالیوں کی گونج سے فیض امن میلے کے خاص مہمانوں کا استقبال بھی کیا۔
پروگرام کا آغاز دو نوجوان آرٹسٹ کے فن کے مظاہرے سے ہوا۔ ان نوجوانوں نے وائیلن اور طبلے کے ملاپ سے فیض احمد فیض کی مشہور غزل ، ُ ُ گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے ۔ چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے ‘، کی دھُن  سے سامعین کا دل جیت لیا۔

اس کے بعد تقاریر اور پروجیکٹر پر سلائیڈ شو کا دور شروع ہوا۔ سب سے پہلے فیض احمد فیض  کی بیٹی سلیمہ ہاشمی نے اپنے فن اور آرٹ کے بہترین نمونے کو پیش کرتے ہوئے فیض صاحب کی شاعری کا ذکر کیا۔ جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔ سلیمہ ہاشمی نے دوران سلائیڈ شو کئی دلچسپ باتیں فیض احمد فیض کے حوالے سے بتائیں ۔ ان میں سے ایک دلچسپ بات جو مجھے پسند آئی وہ یہ تھی کہ ایک دفعہ سلیمہ ہاشمی لاہور کی شاہراہ پر اپنی گھر کی طرف جارہی تھی تو انہیں کسی نے بتایا کہ ارے وہ دیکھوتانگے پر فیض احمد فیض جارہے ہیں۔ سلیمہ نے کہا کیا بکواس ہے ابّا تو جیل میں ہے۔ لیکن سلیمہ ہاشمی نے اس بات کو محسوس کیا کہ تانگے پر بیٹھا آدمی فیض صاحب کی طرح سگریٹ پی رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں تانگہ آنکھوں سے غائب ہوگیا اور سلیمہ نے گھر پہنچ کر اپنی امّی سے پوچھا ۔ امّی آج گھر آتے وقت مجھ سے کسی نے کہا کہ ابّا تانگے پر سگریٹ پیتے ہوئے جارہے تھے۔ سلیمہ کی میم امّی نے سلیمہ سے کہا تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا۔ تم تو جانتی ہو تمہارے ابّا تو جیل میں ہیں۔ تھوڑے دنوں بعد جب فیض صاحب جیل سے رہا ہو کر گھر آئے تو سلیمہ نے فیض صاحب سے پوچھا ، ابّا کیا آپ جیل میں قید کے دوران تانگے کی سیر کرنے کو نکلے تھے۔ فیض صاحب نے سلیمہ سے مسکرا کر کہا سیر کرنے کو نہیں بلکہ میرے دانتوں میں  درد تھا اس لئے میں تانگے پر سوار ہو کر دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس جارہا تھا۔ سلیمہ نے اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد سامعین سے حیرانی جتاتے ہوئے بتایا کہ ابّا تانگے پر جارہے تھے اور انہوں نے مجھے نظر انداز کردیا۔

روس کی راجدھانی ماسکو سے تشریف لانے والی اردو اسکالر لدمیلا واسیلیوا نے اپنی پُر مغز اور مخصوص انداز سے اردو زبان میں تقریر کرکے سامعین کو سکتے میں ڈال دیا۔ لدمیلا صاحبہ نے مولانا الطاف حسین حالی پر پی ایچ ڈی کی ہے اور نہایت نفیس اردو بولتی ہیں۔ لدمیلا صاحبہ نے بتایا کہ دراصل مرزا غالب کے ذریعہ ان کی ملاقات فیض احمد فیض سے ہوئی تھی ۔ چونکہ ان دنوں لدمیلا صاحبہ اردو زبان کی ایک معمولی طالب علم تھیں اور مرزا غالب کے متعلق ان کو کچھ جانکاری حاصل کرنی تھی۔ لدمیلا صاحبہ نے فیض صاحب کے بارے میں یہ بھی بتایا کہ وہ اتنے اچھے انسان تھے کہ ان سے جو ایک بار ملتا اس کا فیض صاحب سے جدا ہونا بہت مشکل ہوتا۔ فیض صاحب جب بھی ماسکو آتے لدمیلا صاحبہ ان کے ساتھ مسلسل  رابطے میں رہتیں اور ان سے کافی کچھ سیکھتی تھیں۔

لدمیلا صاحبہ نے اپنی روسی زبان کے کتاب کا بھی ذکر کیا جسے انہوں نے فیض صاحب کے لئے لکھا تھا اور جس کی ایک لاکھ جلدیں فروخت ہوچکی ہیں۔  دورانِ تقریر لدمیلہ صاحبہ کی آنکھیں اس وقت بھر آئیں جب سلائیڈ شو کی ایک تصویر میں فیض احمد فیض اور سجّاد ظہیر کے درمیان لدمیلا صاحبہ مسکراتے ہوئے کھڑی تھیں۔ لدمیلا صاحبہ نے بتایا کہ ایک فوٹو گرافر نے یوں ہی یہ تصویر کھینچی تھی اور اس کے تھوڑی دیر بعد سجّاد ظہیر کا اچانک انتقال ہوگیا۔ لدمیلا صاحبہ نے یہ بھی بتایا کہ فیض صاحب سجّاد ظہیر کی موت سے بہت دکھی ہوئے تھے۔ لدمیلا صاحبہ کی خوبصورت تقریر کو سننے کے بعد سامعین نے کھڑے ہو کر تالیوں سے ان کو دادِ تحسین دی۔ اس کے بعد پروگرام مختلف ثقافتی اور تقاریر سے اختتام پذیر ہوا۔