برمی مسلمانوں کی تاریخ، مسائل اور کرنے کے کام
- تحریر محمد آصف اقبال
- منگل 12 / ستمبر / 2017
- 7050
زماں و مکاں کی قیود سے باہر انسانی مظالم کے مناظر تاریخ کی کتابوں میں بھرے پڑے ہیں۔ ہمیں چونکہ تاریخ سے دلچسپی نہیں اور اگر دلچسپی ہے بھی تو صرف ایک سبجیکٹ کے طور پر ہر چیز کو ہم پڑھنے کے عادی ہوچکے ہیں لہذا واقعات جو تاریخ میں بیان کیے گئے ہیں ان سے ہم کسی طرح کا سبق حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی ہم اندھے گونگے بہرے بنے ذاتی زندگی کے لیے آرام و سکون تلاش کرتے پھرتے ہیں۔
موجودہ دور میں مسلمانوں کے درمیان دہشت گرد کے سبب مسائل پیش آرہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ مسائل کا انبار ہے جس میں الجھ کر کچھ اور سوچنے سمجھنے اور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ دوسری وجہ مسلمانوں کو ہر سطح پر کمزور کرنے کی منظم و منصوبہ بند سازش ہے۔ متذکرہ دوحالات میں مسلمانوں کا ایک طبقہ مسائل سے دوچار رہتا ہے۔ کچھ بلاواسطہ متاثر ہوں گے، کچھ نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا ہوں گے تو بڑا طبقہ خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگا۔ نتیجہ میں وہ اہداف حاصل ہوں جائیں گے جو مطلوب ہیں۔ فی الوقت جو اہم مسئلہ فوری توجہ کا مستحق ہےوہ برما کے مظلوم مسلمانوں کا مسئلہ ہے جنہیں روہنگیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ برما میں فوج، بودھ مذہبی رہنماؤں،عام شہریوں اور متشدد تنظیموں کی جانب سے برمی مسلمان زندگی اور موت سے جوجھ رہے ہیں۔ چہار جانب ان معصوم و مظلوم قوم کے افراد کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ ان کی بدبو پھیلی ہوئی ہے، وہ اپنی جان کی امان کی خاطر ملک سے نکلتے ہیں۔ آگے اور پیچھے سے ان پر حملے ہو رہے ہیں۔ چند ممالک ان کو پناہ بھی دے رہے ہیں اور ان کے پرسان حال بھی ہیں۔ اس وقت بڑا سوال یہ نہیں ہے کہ یہ حالات کیوں پیدا ہوئے فی الوقت سوال یہ ہے کہ ان کی مدد کیسے کی جائے۔ لیکن چونکہ مہذب دنیا میں ہر ملک کی ایک باؤنڈری لائن ہوتی ہے لہذا یہ باؤنڈری پار کرنا اُس ملک کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
بدھ مت کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ مسلمان برما میں باہر سے آئے ہیں اور انہیں برما سے بالکل اسی طرح ختم کردیں گے جس طرح اسپین سے عیسائیوں نے مسلمانوں کو ختم کیا تھا۔ لیکن معلوم ہونا چاہیے کہ برما کا ایک صوبہ اراکان وہ سرزمین ہے جہاں خلیفہ ہارون رشید کے عہدِ خلافت میں مسلم تاجروں کے ذریعہ اسلام پہنچا تھا۔ اس وقت ملک میں مسلمان بغرض تجارت آئے تھے اور اسلام کی تبلیغ شروع کی تھی۔ اسلام چونکہ ہر شخص کا فطری دین ہے اور فطرت سے ہم آہنگ ہے لہذا وہاں کی کثیر آبادی نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا اور 1430 میں مسلم حکومت کی بنیاد رکھی ۔ اراکان میں ساڑھے تین صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی ، مساجد بنائیں، قرآنی حلقے قائم کئے ، تعلیم گاہوں کا اہتمام کیا، ملک کی ترقی ، امن و امان اور بڑی حد تک عدل و انصاف کے قیام میں سرگر م عمل رہے ۔ آج برما جسے اب میانمار کہا جاتا ہے بدھ کے پیروکاروں کا ملک ہے۔ اراکان اس کا ایک صوبہ ہے جو بیس ہزار مربع میل پر مشتمل ہے۔ اس میں تقریباً تیس لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔
اراکان دراصل تاریخی حیثیت کا حامل علاقہ ایک زمانے میں باقاعدہ خودمختار خوشحال مسلم سلطنت تھا جس کی ابتدا1420 کے دوران ہوئی ۔ اراکان کے پڑوس میں برما تھا جہاں بدھسٹوں کی حکومت تھی ۔ مسلم حکمراں بودھسٹوں کو ایک آنکھ نہ بھائے اور 1784 میں اراکان پر حملہ کیا، جنگ ہوئی اور آخر کاراراکان کو شکست ہوئی ۔ اسے برما میں ضم کرلیا گیا اوراس کا نام بدل کر میانمار رکھ دیا۔ 1824 میں برما برطانیہ کی غلامی میں چلاگیا۔ سوسال سے زائدغلامی کی زندگی گزارنے کے بعد 1948 میں انگریزوں سے خودمختاری حاصل ہوئی۔ برطانیہ سے آزاد ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی میانمار میں یونین سیٹیزن ایکٹ پاس کیا گیا جس میں ان تمام قوموں کا ذکر کیا گیا جنہیں میانمار کی شہریت کا حق تھا جن میں یہ مسلمان شامل نہیں کیے گئے ۔ لیکن اس ایکٹ کے تحت اُن لوگوں کو بھی شہریت لینے کا حق دیا گیا جن کے خاندان دو نسلوں سے یہاں آباد تھے۔ لہٰذا بہت سے مسلمانوں کو اس ایکٹ کے تحت عارضی شہریت دے دی گئی ۔
آزادی کے بعد پہلی فرصت میں بدھسٹوں نے مسلم شناخت کے مٹانے اور مسلمانوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبورکیا ، چنانچہ پانچ لاکھ مسلمان برما چھوڑنے پر مجبورہوئے۔ سعودی عرب، پاکستان ، بنگلہ دیش، ملیشیااور امریکہ و دیگر ممالک میں یہ لوگ پناہ گزیں کی حیثیت سے زندگی گزاررہے ہیں ۔1962 کے فوجی اقتدار کے بعد میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے لئے تمام حالات ڈرامائی انداز میں بدلتے چلے گئے۔ تمام شہریوں کے لیے نیشنل رجسٹریشن کارڈ کا حصول لازم کر دیا گیا اورروہنگیا مسلمانوں کو غیر ملکی تصور کر کے انہیں غیرملکی شناختی کارڈ جاری ہوئے۔ جس کی وجہ سے ان کے لئے ملازمتوں، تعلیم اور دیگر سہولیات کے دروازے بند ہوتے گئے۔ 1982 میں پھر ایک نیا قانون پاس ہوا جس کے مطابق روہنگیا مسلمان میانمار میں موجود کسی بھی قومیت سے تعلق نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ شہریت کے لیے تین مراحل متعارف کروائے جن کی کم از کم شرط یہ تھی کہ شہریت لینے والے کے پاس اس بات کا ثبوت ہو کہ وہ یا اس کا خاندان میانمار میں 1948 سے پہلے قیام پذیر ہے۔ تحریری ریکارڈ نہ ہونے کے نتیجہ میں بڑی آبادی شہریت کے حقوق سے مسترد کر دی گئی اورمسلمانوں کے لیے تعلیم، روزگار، مذہبی رسومات اور دیگر بنیادی سہولیات پر پابندی عائد کر دی گئی جو اب تک جاری ہے۔
یہ لوگ نہ تو ووٹ دے سکتے ہیں، نہ میڈیکل یا قانون کے شعبوں میں جا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنا کوئی کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ آخری بات یہ کہ ان حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ یہاں یہ صاف رہنا چاہیے کہ معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے معاملہ تو انسانی حقوق کا ہے جو ہر انسان اور ہر حکومت سے تعلق رکھتا ہے۔ پہلے مرحلے میں انسانیت سے ہمدردی کی بناپر حکومت کو سخت رویہ سے پرہیز کرنا چاہیے اور عام ہندوستانیوں اور خصوصا مسلمانوں کو قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے مظلومین کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے۔ دوسری جانب ہمیں چاہئے کہ ہم برادران وطن سے ہمدردی کی بنیاد پر تعلقات استوار کریں، ان کے دکھ درد میں شریک ہوں اور ان کے کام آئیں۔ ساتھ ہی اسلامی تعلیمات سے لوگوں کو آراستہ کریں۔
ان تمام کاموں میں ہم ہندوستانی مسلمانوں کو فوری طور پر عمل پیرا ہوجانا چاہیے۔ اس بنا پر نہیں کہ ہم حال یا مستقبل میں کسی بھی طرح کے خوف سے دوچار ہیں بلکہ اس بنا پے کہ اللہ نے ایک مسلمان کو یہی ہدایات و تعلیمات دی ہیں ۔ یاد رکھئے جو لوگ اللہ کی ہدایت پر عمل پیرا ہوتے ہیں وہی دنیا و آخر میں سرخ رو ہوں گے!