نے چراغ نے گلے
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- بدھ 13 / ستمبر / 2017
- 8635
صدر امریکہ ڈونلنڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے دنیا بھر کو تحیر میں ڈال دیا۔ انہوں نے سرعام کہہ دیا کہ امریکہ نے پاکستان کو ملین اور بلین ڈالر دہشت گردی کی روک تھام کے لئے دیئے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ بجائے پاکستان نے دہشت گردوں کو پناہ گاہیں دے رکھی ہیں۔ آگے چل کر کہتے ہیں کہ ہم دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر حملہ کریں گے، کب؟ لیکن حملہ ضرور کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے بہت سے لوگ خوش بھی ہیں اور بہت سے ناخوش بھی۔ لوگ ناخوش اس لئے ہیں کہ پاکستان امریکہ کا قدیم اتحادی ہے۔ امریکہ اور پاکستان کا اتحاد ایک مدت سے چل رہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ افغان، روس جنگ کے دوران امریکہ نے پاکستان کی خاطر خواہ مدد کی:
میں تو اس صبح درخشاں کو تونگر جانوں
جو میرے شہر سے کشکولِ گدائی لے لے
صدر امریکہ کے اس بیان کے بعد پاکستان نے چپ سادھ لی۔ اُدھر چین کا بیان پاکستان کے حق میں آیا۔ عمران خان نے بھی پاکستان کی طرف سے بیان دیا۔ روس اور ترکی کے بیانات منظر عام پر آئے لیکن پاکستان کی خاموشی لوگوں کو ناگوار گزری۔ یہ بات قابل غور ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد شطرنج کے مہروں کی طرح ایک وزیر خارجہ تعینات کیا گیا لیکن وہ بھی ساکت رہے۔ نہ جانے وہ کس وجہ سے خاموش رہے۔ اور منظور نظر وزیراعظم بھی۔
شہر شیریں سخناں بن گیا شہر شنام
منظور نظر وزیراعظم نے برسرعام کہہ دیا ہے کہ ”میں وزیراعظم ضرور ہوں لیکن ہمارے وزیراعظم تو بدستور نواز شریف ہیں۔“ دوسرے معنوں میں وہ نواز شریف کی کرسی پر براجمان ہیں لیکن ان کے پاﺅں زمین کو نہیں چھو رہے۔ بات جب پارلیمنٹ کی کی جاتی ہے تو یار لوگ کہتے ہیں کہ سردار صادق ایاز کی سربراہی میں پارلیمنٹ وہی حیثیت ہے جو پہلے تھی۔ اب سلسلہ یوں ہے کہ جب کوئی مسئلہ سر اٹھاتا ہے تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھاگے بھاگے ”جاتی امرا“ کا رخ کرتے ہیں اور نور بصیرت لے کر آتے ہیں اور نواز شریف بدستور پوچھ رہے ہیں کہ ”مجھے کیوں نکالا گیا؟“ اس بات کا جواب سب کے پاس ہے اور وہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔
ہم عرض کر رہے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکہ نے ملین اور بلین ڈالر پاکستان کو دہشت گردی کی روک تھام کے لئے دیئے۔ لیکن پاکستان بدستور دہشت گردوں کو پناہ گاہیں مہیا کر رہا ہے۔ رونا تو اس بات کا ہے کہ نہ تو امریکہ پاکستان کو پہچانتا ہے اور نہ ہی پاکستان امریکہ کو۔ امریکہ دراصل ڈالر اور سینٹس کا ملک ہے۔ اور اس پر روز روشن کی طرح اعتبار کرتے ہیں اور اس پر ہمیشہ نظر رکھتے ہیں۔ وہ سرعام کہہ رہے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کو ملین اور بلین ڈالر دیئے لیکن پاکستان کی طرف سے امریکہ کو خاطر خواہ جواب نہیں مل رہا۔ ادھر پاکستان بیان بازی کر رہا ہے کہ ہم نے ہزاروں فوجی جوانوں کی قربانی دی اور اس جنگ میں ملین اور بلین ڈالر اپنی جیب سے لگائے۔ ہم پاکستان اور امریکہ دونوں کی بات مان لیتے ہیں۔
ہمیں معلوم ہے کہ امریکہ ضیاءالحق کے زمانے میں پاکستان کو افغان روس جنگ کے دوران اور اس کے بعد بھی مالی امداد دیتا رہا۔ جیسا کہ ۔۔۔۔۔۔۔ امریکہ ڈالر اور سینٹس کی معیشت ہے۔ تو کیا یہ لازم نہیں کہ امریکہ کا جواب بھی ان کی زبان میں دیا جائے۔ ہمارا میڈیا اور ہمارے ٹی وی اینکرز برملا کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں جانی اور مالی نقصانات اٹھائے جو کہ درست ہے۔ لیکن امریکہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں۔ ہم ٹی وی پر آ کر دل کی بھڑاس نکال تو لیتے ہیں جس کی حیثیت ایک خبر سے زیادہ نہیں ہے۔ ہم نے مانا کہ وزیراعظم پاکستان نے صدر امریکہ کی بات کا جواب دینے کی ضرور سعی کی ہے۔ (دیر آید ہی سہی) لیکن دنیا کے گرد کن کن ممالک نے ان کی بات سنی۔ کیا ان کے دلائل یونائیٹڈ نیشن نے سنے۔ اور ان کی بات کو کس قدر اہمیت دی گئی۔
امریکہ ڈالر اور سینٹس کی بات غور سے سنتا ہے۔ اس کو حقیقت کو بناتے ہوئے کیا یہ ممکن نہیں کہ ہماری گورنمنٹ اور اس کی ساری مشینری ان کی بات کو حقیقت بنا کر دنیا کو ثابت کریں کہ امریکہ نے پاکستان کو کس قدر رقم دہشت گردی کی روک تھام کے لئے دی اور پاکستان کے خزانے سے کس قدر رقم خرچ ہوئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ بھی ثابت کریں کہ پاکستان پر ٹھونسی گئی اس جنگ میں ہمارے کتنے شہیدوں کا لہو بھی شامل ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ پاکستان ایسا کرنے سے گریز کرے گا۔ کیونکہ پاکستان کے لئے اس مالی امداد کی شفافیت کو تلاش کرنا جوئے شیر لانا ہے:
میرمراز، غریباں نے چراغ نے گلے
نے پر پروانہ سودو نے صدائے بلبلے