ہائر ایجوکیشن کمیشن --- چیلنجز کیا ہیں

اگرچہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ اعلی پرائمری تعلیم کا فقدان ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایک طرف ناخواندگی ہے تو دوسری طرف پرائمری میں دی جانے والی تعلیم کے اعلی معیار کا مسئلہ ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پرائمری تعلیم کے جو اہداف طے کرتی ہیں اس میں بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی ۔ اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا زور پرائمری تعلیم سے زیادہ ہائر ایجوکیشن کی جانب ہے۔ اس مقصد کے لیے آج سے پندرہ برس قبل ستمبر2002 میں ملک میں وفاقی سطح پر ڈاکٹر عطا الرحمن کی سربراہی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی بنیاد رکھی گئی اور بعد میں یہ عمل وفاق کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ میں صوبائی سطح پر بھی صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی صورت میں سامنے آیا۔ جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ابھی یہ کمیشن صوبائی سطح پر نہیں تشکیل دیے جاسکے ۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک میں پرائمری تعلیم کے لیے کوئی ایجوکیشن کمیشن نہیں مگر اس کے باوجود اس ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اہمیت ، افادیت سے انکار ممکن نہیں ۔ ماضی میں وفاقی سطح پر ڈاکٹر عطاالرحمن ، ڈاکٹر جاوید لغاری اس کمیشن کے سربراہ رہ چکے ہیں  جبکہ موجودہ چیرمین ڈاکٹر مختاراحمد ہیں ۔ یہ کمیشن اس سال اپنے پندرہ برس مکمل کررہا ہے ۔ اس کمیشن سے قبل کہا یہ جاتا تھا کہ ہماری جامعات معیاری تعلیم کے معاملہ میں کافی پیچھے ہیں۔ ان میں اعلی تعلیم کا ماحول ، تحقیق کا فقدان ، سیاسی گروپ بندی ، طلبہ یونین کی مداخلت ، اساتذہ کا تعلیمی معیار، پی ایچ ڈی اساتذہ کی کمی جیسے مسائل سرفہرست تھے ۔ خیال تھا کہ اس ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد ہماری اعلی تعلیم میں موجود مسائل کے سامنے کوئی بڑا بندھ باندھا جاسکے گا، مگر ایسا نہ ہوسکا ۔

معروف بین الاقوامی ادارے ٹائمز ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ جامعات کی عالمی درجہ بندی 2016-17 میں ایک بھی پاکستانی جامعہ 600 بہترین جامعات اور ایشیا کی 100بہترین جامعات میں شامل نہیں جبکہ ہمارے مقابلے میں بھارت کی پہلی 100جامعات میں دس جامعات شامل ہیں ۔ حالیہ درجہ بندی میں دنیا کی 1000جامعات کا ذکر اس رپورٹ میں آیا ہے اس میں ہماری محض چار جامعات شامل ہیں ۔ ان میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد، کامسٹس یونیورسٹی  اسلام آباد ، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نسٹ اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد شامل ہیں ۔ جبکہ گذشتہ ادوار میں ہماری نو جامعات دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شامل تھی۔ اس بار ہماری تعداد کم ہوکر محض چار رہ گئی ہے ۔ جبکہ پہلی ایک ہزار جامعات میں بھارت کی 30، سعودی عرب کی 05، ملایشیاکی 08، چین کی 60، جاپان کی 71، ایران کی 14، ترکی کی 20، اور ساوتھ کوریا کی 27جامعات شامل ہیں ، جو سوالیہ نشان ہے ۔

وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن نے میڈیم ٹرم ڈولیپمنٹ فریم ورک 2010-15میں کچھ اہداف ازخود طے کیے گئے تھے ۔ ان اہداف میں دنیا کی اعلی جامعات کے ساتھ مشترکہ طور پر  125 اکڈیمک پروگرامزکا اجرا، جامعات میں 50 نئے پیشہ وارانہ ترقی کے مراکز کا قیام، جامعات اور انڈسٹری کے درمیان پچاس مشترکہ منصوبے ، ٹیکنالوجی کے 60 مراکزاور پانچ ٹیکنالوجی پارک کا قیام شامل تھے ۔ لیکن وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن ان اہداف کے حصول میں ناکام را ہے ۔ اسی طرح آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کمزوریوں کا شکار ہے ، کمیشن کے پاس مختص شدہ بجٹ کے استعمال کا باضابطہ اور موثر طریقہ کار موجود نہیں ۔ان کے بقول 2015-16میں کمیشن نے اپنے مجموعی بجٹ 1903.27ملین میں سے صرف21فیصد رقم ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی۔ اس کے علاوہ کمیشن نے ترقیاتی کاموں کے لیے جو بجٹ مختص کیا اس کا 65 فیصد جاری ہی نہیں کیا گیا۔ جبکہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ہدایات پر بھی عمل نہیں کیا گیا اور محض ان کی 35 فیصد ہدایات پر عمل کیا گیا۔

اسی طرح رپورٹ کے مطابق مختلف منصوبوں کے لیے موجود 2762.30 ملین رقم  جاری کی گئی، اس میں سے محض 1437.63ملین روپے خرچ ہوئے جبکہ 48 فیصد رقم خرچ نہیں کی جاسکی ۔ ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ 2016-17میں تسلیم کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس کی طرح رواں برس بھی پاکستان اعلی تعلیم ، تربیت اور تخلیقی اختراح کے میدان میں جنوبی ایشیا اورمسلم ممالک سے بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔ اسی فورم کی جانب سے جن 138 ملکوں کی جائزہ رپورٹ پیش کی گئی اس میں بھی ہماری درجہ بندی 123ویں نمبر پر ہے ۔ یہ تمام اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے وفاقی اور صوبائی سطح پر ہائرایجوکیشن کمیشن کے قیام اور اربوں روپوں کے وسائل کے باوجود وہ اہداف حاصل نہیں کیے ۔ جب یہ کہاجاتا ہے کہ ہم نے تعلیم کے میدان میں دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو اس پر جو طرز عمل ہمارا ہونا چاہیے ، اس کا فقدان ہے ۔

بنیادی طور پر اعلی تعلیم او رجامعات کی کارکردگی کو موثراور شفاف بنانے میں ریگولیٹری اداروں کا کردار اہم ہوتا ہے ۔ یہ ریگولیٹری ادارے اور جامعات کے سربراہ مختلف فریقین کے ساتھ مل کر ایک ایسا روڈ میپ تشکیل دیتے ہیں جس پر ان کی سیاسی مضبوط کمٹمنٹ بھی ہوتی ہے اور اس عملدرآمد کا موثر نظام بھی جوابدہی اور احتسابی عمل کے ساتھ جڑا ہوتا ہے ۔ جبکہ اس کے برعکس ہم نے اپنی جامعات میں جہاں اعلی تعلیم میں کمزور کارکردگی دکھائی ہے وہیں ان اہم تعلیمی درس گاہوں کو سیاسی مداخلت کا مرکز بنادیا ہے ۔ تعلیمی جامعات کے سربراہان کی تقرری بھی میرٹ کی بجائے سیاسی اقراپروری کی بنیاد پر کی جاتی ہے ۔ اس وقت بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اعلی تعلیم سے محبت کا عالم یہ ہے کہ پنجاب میں 12کے قریب ایسی جامعات ہیں جہاں ابھی تک مستقل وائس چانسلر کی تقرری نہیں ہوسکی اورمعالات کو ایڈہاک پالیسی پرچلایا جارہا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ہم ملک میں اعلی تعلیم کے معاملات میں اپنی ساکھ اور معیار کو موثربنانا ہے تو ہمیں اس میں موجود چیلنجز سے موثر طریقے سے نمٹنا ہوگا ۔ لیکن اس کے لیے پہلی اوربنیادی شرط یہ ہے کہ ہم تسلیم کریں یہ واقعی ہمارے چیلنجز ہیں اور ہم اپنی داخلی خامیوں کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں ۔ کیونکہ جب تک ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم نہیں کریں گے ، آگے بڑھنے کا عمل موثر اور شفاف نہیں ہوسکے گا۔ اول ہمیں 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نظام کو موثر بنانا ہوگا ۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں یہ کمیشن فوری طور پر قائم کیے جائیں اوران کو بااختیار ادارے بنایا جائے ۔ چیرمین سینٹ رضا ربانی کی صدارت میں طے ہونے والے فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کے نظام کو یقینی بنایا جائے ۔ دوئم ہائی کورٹ کے فیصلے کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے فیصلوں کو مشترکہ مفادات کونسل کے ساتھ جوڑا جائے ۔ سوئم جامعات میں جاری ایڈہاک نظام کو ختم کیا جائے اوروفاقی و صوبائی حکومتوں کی مداخلت بند کی جائے ۔ چہارم جامعات کی انتظامی صلا حیتوں، وسائل کو خرچ کرنے اورجو آڈٹ رپورٹس نے سوالات اٹھائے ہیں ان کو شفاف بنایا جائے۔ جامعات کی درجہ بندی ، معیار اور ساکھ سمیت تحقیق کے شعبہ میں زیادہ توجہ دی جائے اور طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ میں بھی تحقیق کو فوقیت دی جائے ۔ پنجم کارکردگی کی بنیاد پرجوابدہی اور احتساب کے نظام کو موثر بنایا جائے ، تاکہ ہم موثر نتائج حاصل کرسکیں۔ ششم دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں ایچ ای سی کی سطح پر فنڈنگ، کوالٹی انشورنس، جامعات کی درجہ بندی اور جامعات کی انتظامی بورڈ میں شمولیت و اختیارات کو علیحدہ کرنا چاہیے۔

یہ سب اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر اپنی مجموعی تعلیم اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کارکردگی کے حوالے سے بہت پیچھے ہیں ، ہم پر ملک کے اندر اور باہر دونوں سطحوں پر سخت تنقید کی جارہی ہے اور عالمی سروے ، تجزیے اور درجہ بندی کی فہرستیں ہماری کارکردگی پر سوالات اٹھارہے ہیں ۔ یونیورسٹیوں کی سطح پر اساتذہ کی داخلی سیاست اور باہمی اختلافات بھی تعلیم کے معیار کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔ سنڈیکیٹ کی سطح پر ارکان اسمبلی کے ممبران کا تقرر خود سیاسی مداخلتوں کو دعوت دینے کا سبب بن رہا ہے جس پر غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے جو یقینی طور پر تلخ اور کڑوے ہوں گے ، مگر یہ کڑوی گولیاں ہضم کرنا ہوں گی ۔

معیاری اعلی ہائر ایجوکیشن کے لیے ہمارے پاس ایک واضح اور شفاف روڈ میپ ہونا چاہیے ، جو سالانہ بنیادوں پر مختلف فریقین کے درمیان میں سے جوابدہی سے گزرے ۔ جس سطح پر بھی سمجھوتہ ہو، سیاسی مداخلت ہو اور وسائل کا غلط استعمال ہو، وہاں ہمیں جوابدہی کے نظام کو اولین فوقیت دینی ہوگی ۔ اس وقت ہائر ایجوکیشن کی سطح پر ایک بڑے داخلی پوسٹ مارٹم کی ضرورت ہے ، جس کا مقصد غلطیوں کو ختم کرکے بہتری سے سفر کی طرف آگے بڑھنا ہونا چاہیے ۔
آ