نئی سیاسی تقسیم کے آثار
- تحریر سید تاثیر مصطفیٰ
- جمعرات 14 / ستمبر / 2017
- 4989
پاکستان میں اقتدار کے ایوانوں میں اُس رسّاکشی کا آغاز ہوچکا ہے جس میں پہلے مرحلے پر نئی صف بندی ہوتی ہے، پھر راہیں جدا ہوجاتی ہیں پھرقابلِ قبول جواز تراشے جاتے ہیں اورآخر میں راہوں کی جدائی سیاسی دشمنی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات یہ راہیں ایسی جدا ہوتی ہیں کہ برسوں ساتھ چلنے والے پھر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہیں رہتے۔
ماضی میں کئی بار ایسا ہی ہوا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، فیلڈ مارشل ایوب خان کی کابینہ کے سب سے اہم ارکان میں شامل تھے۔ ہر کام میں ایوب خان کے معاون، ہر معاملے میں مشیر، اور ہر میدان میں ان کے سربکف سپاہی۔ لیکن الگ ہوئے تو خلیج اتنی بڑھ چکی تھی کہ شاید اس کے بعد دونوں کی کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی اور دونوں اپنی اپنی باری پر قبروں میں اتر گئے مگر تاریخ میں ایک دوسرے کے بدترین مخالف کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ میاں اظہر اور شریف خاندان کے درمیان کئی دہائیوں کے تعلقات تھے۔ دونوں خاندان ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ مثالیں دی جاتی تھیں۔ اسی تعلق کی بنیاد پر نوازشریف نے میاں اظہر کو پہلے کونسلر، پھر میئر، پھر رکن قومی اسمبلی اور گورنر صوبہ بنایا۔ وہ بھی دوستی اور وفاداری نبھاتے رہے۔ لیکن اختلاف کی خلیج بنی تو ایسی بنی کہ یہ دونوں شخصیات ہی نہیں ان کے کارکن بھی ایک دوسرے کی جان کے دشمن معلوم ہوتے تھے۔ درمیانی دوستوں کی کوششوں کے باوجود یہ خلیج پاٹی نہ جاسکی اور تب سے میاں نوازشریف اور میاں اظہر کی کسی خوشی غمی کی تقریب میں بھی ملاقا ت کی خبر نہیں آئی۔ ہوسکتا ہے کہ بعض مواقع پر ملاقات ہو بھی جاتی ہو مگر اعلانیہ دونوں اس بات سے بھی گریز کرتے ہیں کہ ان کی ملاقات کی خبربھی لوگوں تک پہنچے۔
چودھری شجاعت میاں نوازشریف کے کئی دہائیوں تک قریبی ساتھی اورکچن کیبنٹ کا حصہ رہے، اتنے کہ جب پرویزالٰہی نوازشریف کی صوبائی کابینہ سے اختلاف کے باعث الگ ہوئے تب بھی چودھری شجاعت نوازشریف سے جڑے رہے۔ انہوں نے اس دور میں کبھی پرویز الٰہی کی حمایت نہیں کی۔ لیکن جب پرویزمشرف نے نوازشریف حکومت کا تختہ الٹا اور انہیں طیارہ سازش کیس میں جیل بھیج دیا جہاں پہلے سزا اور پھر سمجھوتے کے بعد وہ پارٹی کے کسی عہدیدار یا سیاسی ہمسفر سے مشورہ کیے بغیر جدہ چلے گئے تو چودھری شجاعت خم ٹھونک کر نوازشریف کے خلاف میدان میں آگئے۔ یہ اختلافات اس حد تک بڑھے اور ذاتی لڑائی میں تبدیل ہوئے کہ چودھری شجاعت کی والدہ کے جنازے میں بھی سب نے اس خلیج کو محسوس کیا کہ نوازشریف نہ چاہتے ہوئے جنازے میں آئے اور چودھری شجاعت نے نہ چاہتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔ اس ایک واقعہ کے علاوہ نوازشریف آل پارٹیز کانفرنسوں میں بھی چودھری شجاعت کی شرکت پسند نہیں کرتے تھے اور چودھری شجاعت بھی اُن سے کسی قسم کے مراسم رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔
آج بھی اقتدار کے ایوانوں میں جو رسّا کشی جاری ہے وہ اسی جانب بڑھتی نظر آرہی ہے۔ فاصلے بڑھ رہے ہیں، راہیں جدا ہورہی ہیں، اس کے لیے منصوبہ بندی بھی ہورہی ہے اور جواز بھی تراشے جارہے ہیں تاکہ وقت آنے پر وہ عوام کے سامنے رکھ دیئے جائیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ہم اپنے سابقہ کالموں میں یہ بات بالصراحت لکھ چکے ہیں کہ اس وقت شریف خاندان، مسلم لیگ (ن) نامی جماعت اور اس کی حکومتیں شدید ذہنی توڑ پھوڑ کا شکار ہیں، جو کسی وقت بھی خاندان میں دو مختلف سمتوں کے راہی بناسکتی ہیں۔ اسی طرح پارٹی اور پارٹی کی حکومتوں میں بھی نئی سوچ کے ساتھ نئی حکمت عملی سامنے آسکتی ہے۔
اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ خاندان میں تقسیم واضح ہوچکی ہے۔ لاہور کے حلقہ این اے 120 میں کلثوم نواز کو امیدوار بنانے، حمزہ شہباز کو انتخابی مہم کی انچارج شپ سے ہٹانے اور مریم کو اس حلقے میں انچارج مقرر کرنے سے تقسیم واضح ہوچکی ہے۔ یہ تقسیم مزید آگے بڑھ سکتی ہے کیونکہ تہمینہ درانی بھی سیاست اور خاندان میں کوئی اہم رول لینے کی تیاریاں کررہی ہیں۔ خاندان میں تو شاید انہیں رول نہ مل سکے لیکن سیاست میں شہبازشریف کی اہلیہ ہونے اور اپنے ذاتی اور خاندانی تعلقات کی بنا پر وہ اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
اس وقت سب سے فیصلہ کن تبدیلی مرکز یعنی وفاق اور پارٹی قیادت میں آتی دکھائی دے رہی ہے۔ وفاق میں وزارتِ عظمیٰ کے لیے اس وقت دو مضبوط امیدوار شاہد خاقان عباسی اور شہبازشریف ہیں۔ دونوں اس عہدے کے لیے پر تول رہے ہیں ان کی لابیاں بھی متحرک ہیں، جبکہ دونوں کے میڈیا سیل اور ان کے حامی دانشور حلقے بھی سرگرم ہوگئے ہیں۔ شہبازشریف کے لیے لابنگ کرنے والے کالم نگار، دانشور اور سیاسی لوگ یہ بتارہے ہیں کہ شہبازشریف نے پنجاب میں انقلابی قسم کے کام کیے ہیں اور وہ نوازشریف کے پُراعتماد بھائی ہیں مگراسٹیبلشمنٹ سے جھگڑے کے حامی نہیں، اس لیے اسٹیبلشمنٹ کو قبول ہیں۔ پارٹی میں ان کی مضبوط حیثیت ہے اس لیے وزارتِ عظمیٰ اور پارٹی قیادت ان کے ہاتھ آنی چاہیے۔ اس نکتے پر اس وقت بھرپور مہم جاری ہے۔
شاہد خاقان عباسی کی لابنگ ٹیم نے بھی ان کی امیج بلڈنگ شروع کردی ہے۔ پہلے یہ خبریں چلائی گئیں کہ شاہد خاقان نے نوازشریف سے ڈکٹیشن لینا بند کردی ہے۔ اسحق ڈار کی وزارت اور اختیار میں کمی کرکے بھی انہوں نے یہی پیغام دیا۔ شاہد خاقان دراصل سارے پیغامات اسٹیبلشمنٹ کو دے رہے ہیں۔ اب ان کی امیج بلڈنگ کے لیے خبریں چلائی جارہی ہیں کہ وہ مسلسل پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں جارہے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے، وہ اس ایک ماہ کے دوران 150 ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقات کرچکے ہیں، گویا ان بے چاروں کی سنی گئی۔ ورنہ وہ تو سال میں ایک بار بھی وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات بمشکل کرپاتے تھے اور وہ بھی محض مصافحہ تک محدود تھی۔ گویا شاہد خاقان کی لابی اب نوازشریف کی کمزوریوں کو نشانہ بنارہی ہے۔
دوسری جانب پہلی بار چودھری نثار علی خان نے نوازشریف کے بعد شہبازشریف کی قیادت کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے مگر مریم کو اپنا لیڈر ماننے سے صاف انکار کردیا ہے۔ اس طرح وہ پارٹی کی قیادت شہبازشریف کے حوالے کرنا چاہتے ہیں اور خود وزیراعظم یا دوسری صورت میں وزیراعلیٰ پنجاب کی پگ اپنے سر پر دیکھنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ ان کے پاس دو آپشن ہیں۔ پارٹی کی قیادت انہیں چاہئے ہی نہیں اس لیے وہ شہبازشریف کو آگے کرنا چاہتے ہیں۔ اگر شہبازشریف پارٹی قیادت سنبھالنے کے بعد وزیراعظم بننے کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے لابنگ کرلیتے ہیں تو وہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ قبول کرلیں گے کہ جہاں پہلے ہی شہباز کے بعد زبردست خلا موجود ہے۔ تاہم ان کی پہلی نظر وزارتِ عظمیٰ پر ہے، لیکن وہ 2018 کے لیے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ پر اکتفا کرکے آئندہ وزیراعظم کے لیے گیم کرسکتے ہیں۔ جبکہ شہبازشریف ہر صورت میں پارٹی قیادت چاہتے ہیں اور وفاق اور صوبے میں سے ان کی پہلی ترجیح وفاق ہے۔ اگر یہ نہ مل سکے تو وہ پنجاب میں ہی وزارتِ اعلیٰ جاری رکھ لیں گے۔
شاہد خاقان عباسی کی نظر پارٹی قیادت پر بالکل نہیں ہے۔ وہ اب پنجاب میں بھی جانے کی پوزیشن میں نہیں، اس لیے ان کی پہلی اور آخری ترجیح وزارتِ عظمیٰ ہے۔ اس طرح پارٹی کی قیادت کے معاملے میں شہبازشریف کے لیے کوئی مشکلات نہیں ہیں۔ یہ عہدہ انہیں آسانی سے ان کے مخالفین بھی دینے کو تیار ہیں۔ اصل معاملہ وزارتِ عظمیٰ کا ہے جہاں شاہد خاقان، شہبازشریف اور چودھری نثار خاصے مضبوط امیدوار ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ ہما کس کے سر پر بیٹھتا ہے۔ لیکن اگر شاہد خاقان عباسی وزارتِ عظمیٰ پر برقرار رہتے ہیں اس عرصے میں اپنی کارکردگی بھی ظاہر کرتے ہیں اور محنت کرکے اچھی مثال بھی قائم کردیتے ہیں تو مخالفت نہ کرنے کے باوجود پارٹی کی قیادت شریف خاندان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔
اگرچہ پارٹی ماضی میں بھی حکومتی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرتی تھی مگر اُس وقت پارٹی قیادت اور وزارتِ عظمیٰ دونوں نوازشریف کے پاس تھیں۔ اِس بار شاید یہ دونوں اکٹھے نہ رہ سکیں۔ کیونکہ شہبازشریف اگر وزیراعظم نہیں بنتے اور پارٹی سربراہ بن جاتے ہیں تو وہ سرکاری امور میں مداخلت کریں گے جو شاہدخاقان عباسی کو قبول نہیں ہوگی۔ اس لیے مستقبل میں شاہد خاقان عباسی اور شہبازشریف حریف ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے نظر آرہے ہیں۔