ترقی کے لئے نظریہ ضروری ہے

دنیا کی آبادی سات ارب سے تجاوز کر رہی ہے، ہر طرف لوگ ہی لوگ دکھائی دیتے ہیں اور سب کے سب بھاگ دوڑ میں مصروف ہیں۔  یہ بھاگ دوڑ دنیا کی آسائشیں جمع کرنے کے شوق میں شروع ہوتی ہے اور زندگی کے مفلوج ہونے تک جاری رہتی ہے۔ مگر یہ دوڑ رکتی نہیں ہے بلکہ اگلی نسل کو منتقل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اب نسلوں کی تعلیم و تربیت و پرورش اسی ڈھب پر کی جارہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دنیا کمانی ہے ۔

دنیا کیسے کمانی ہے اسبارے میں کوئی ضابطہ اخلاق مرتب کیا گیا ہے، بس ایک مقصد اپنایا گیا ہے کہ پیسہ کمانا ہے دنیا کی آسائشوں کو جمع کرنا ہے ۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو انجانے میں ایسا کام شروع کرتے ہیں جو رائج اصولوں کے منافی یا پھر مختلف ہوتا ہے۔ جو معاشرے کیلئے ناقابل قبول ہوتا ہے۔ اس عمل کو بغاوت بھی کہا جاسکتا ہے ۔ ہمارے گھروں میں کسی نئی چیز کو جگہ بنانے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے اور پھر اس کے استعمال سے جب لوگ مستفید ہونا شروع ہوتے ہیں، اس چیز کے دیر سے آنے کا گلہ بھی کرتے سنائی دیتے ہیں۔ نظریات کابنیادی مقصد کیا ہوتا ہے۔ کسی مخصوص نقطہ نظر کو اجتماعی سطح پر نافذ کروا کر اس پر عمل درآمد کروانا۔ اس بات کو سمجھنے کیلئے دو قومی نظرئیے کی مثال لے لیجئے ۔

سرسید احمد خان نے 19 ویں صدی میں یہ واضح کر دیا تھا کہ مسلمان اور ہندو ہر لحاظ سے دو الگ الگ قومیں ہیں لیکن اس بات ک ںتیجہ اخذ کرنے میں طویل  سفر طے کرنا پڑا۔ پاکستان کے وجود کی بنیاد دوقومی نظریہ ہی تھی۔ جب دوقومی نظریہ پیش کیا گیا تو پتہ چلا کہ ہم تو ساتھ رہ ہی نہیں سکتے اور ایک الگ ریاست کے قیام کی جدوجہد شروع کی گئی۔ یعنی نظریات جدوجہد کی سمتوں کا تعین بھی کرتے ہیں۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے۔ پاکستان بنانے والے اور نظریہ پاکستان کے امین بہت دیر تک پاکستان میں رہ نہ سکے مگر ان کے نظریات آج بھی زندہ ہیں۔

کوئی نظریہ کسی مخصوص گروہ کی ترجمانی کرنے کیلئے وجود میں آتا ہے تو کسی گروہ کو اس سے نقصان بھی ہوتا ہے۔ نظریہ خود بخود تو وجود میں نہیں آتا، اس پر لوگ تحقیق کرتے ہیں اور اخذ کرنے کے بعد پیش کرتے ہیں۔ لیکن وقت کی کروٹ نے سارے نظریات  پر مٹی ڈال دی ہے اور صرف نظریہ ضرورت اہم ترین قرار پایا ہے ۔ آج دنیا جس اہم ترین نظرئیے کے گرد گھوم رہی ہے وہ نظریہ ضرورت ہی ہے۔   آج طاقت اور دولت کو نظریے کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔

اسی لئے دنیا زوال پذیرہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز سے دیکھ لیجئے یا آپ پچھلی دو دہائیوں کا جائزہ لے لیجئے سب کچھ سمجھ آجائے گا۔ جو ملک یہ چاہ رہا ہے کہ وہ سب کو کمزور کرکے خود طاقت ور ہوجائے گا تو بہت جلد وہ بھی کمزور ہوکر بکھرنا شروع ہوجائے گا۔ اگر دنیا کا کوئی ملک بھی یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پرانے نظریات پر چلاسکتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ یہاں ہر دن گزارنے کیلئے مختلف نظریات پیش کئے جاتے ہیں اور بربادی کا سامان فراہم کیا جاتا ہے ۔ نسلوں کی بربادی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یکسوئی نہیں ہے اور یکسوئی کیلئے ایک نظریہ ہونا ضروری ہے۔