نیو ورلڈ آرڈر اورگلوبل مونہہ زور کمپنیاں

  • تحریر
  • جمعہ 15 / ستمبر / 2017
  • 7837

ثبات اِک تغیّر کو ہے زمانے میں، محاورے کی حد تک اسے اسکول میں یاد تو کر لیا لیکن اس محاورے کی روح سمجھنے میں زمانے لگے۔ تبدیلی انسان کے خمیر میں ہے، انسان خوب سے خوب تر کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔ کچھ اس جستجو کے اس قدر متمنی ہوتے ہیں کہ اس کے لئے ہلکان ہو جاتے ہیں لیکن کچھ ہم ایسے تن آسان ہوتے ہیں جو دوسروں کی جستجو سے ہی اپنا کام چلا لیتے ہیں۔

ساٹھ کی دِہائی کے آخر میں مشہور امریکی مصنف ایلوِن ٹافلر نے یکے بعد دیگرے دو کتابیں تحریر کیں، Future Shock اور Third Wave ۔ دونوں کتابوں کا موضوع یہ تھا کہ انسانی معاشرے میں تبدیلی کی رفتار اس قدر تیز اور حجم اتنا بڑھ گیا ہے کہ ایک عام انسان سے ان تبدیلیوں کے ساتھ مسلسل قدم ملائے رکھنا ایک کارِ دارد ہو گیا ہے۔ اس تغیر کی سرخیل اکثر و بیشتر وہ بڑی بڑی گلوبل کمپنیاں ہیں جن کے حجم کئی درمیانے سائز کے ملکوں کی معیشت سے بھی بڑے ہیں۔ ان کمپنیوں کے ہاں ہر سال اربوں ڈالرز ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ پر خرچ کئے جاتے ہیں تاکہ ان کا ٹیکنالوجی پر کنٹرول مظبوط اور ہمہ گیر رہے اور وہ مقابل کمپنیوں سے آگے رہیں۔

پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے، کچھ یہی دستور یہاں بھی ہے کہ ٹیکنالوجی پر سبقت اور دسترس نئی ریسرچ سے مزید آگے اور مضبوط ہو جاتی ہے۔ جان لیوا بیماریوں کے علاج کے لئے نت نئی دوائیاں ہوں یا فصلوں کے نئے نئے بیج، جی ایم ٹیکنالوجی پر کمند ڈالنی ہو یا آئی ٹی میں نئے جہانوں کی دریافت ہو ، ان گلوبل کمپنیوں نے مستقبل کے بہت سے امکانات کو اپنے نام کر لیا ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر میں سرمائے کی طاقت اور تقدس کا اب یہ عالم ہے کہ دھیرے دھیرے بڑے بڑے ملکوں کی حکومتیں ، پالیسی سازی، قانون سازی ، سیاست اور میڈیا پر ان کمپنیوں کا مکمل کنٹرول ہے۔ اس گرفت کی مضبوطی کے خلاف عوامی ردِ عمل گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ اور یورپ میں ووٹ کے ذریعے سامنے آیا ۔ ماہرین نے اس رد عمل کو گلوبلائزیشن یعنی عالمگیریت کے خلاف نیشنلسٹ رویّے کا نام دیا ہے۔ 

اس رویے کی نوبت کیوں آئی؟ چند دَہائیاں قبل جب سوشلزم اور سرمایہ داری نظام کا ٹکراؤ عروج پر تھا تو اسّی کی دِہائی کے اوائل میں نیو لبرل اکونومی میں کئی بنیادی تبدیلیوں کی بنیاد ڈالی گئی۔ کاروباری اور مارکیٹوں کے معمولات میں امریکہ میں حکومتی عمل دخل کو کم سے کم رکھنے کے لئے قانون سازی کی گئی۔ بعد ازاں ٹیکس کی شرح انتہائی امیر افراد اور کمپنیوں پر مسلسل کم کی گئی۔ یہی روایت یورپ میں بھی رائج ہو گئی۔ میڈیا اور یونیورسٹیوں میں یہی تبلیغ ہونے لگی کہ حکومت کا کاروبار سے کیا کام۔  لہٰذا جو ادارے اور بزنس حکومتوں کی ملکیت تھے ان کی نج کاری کا پرچار ہونے لگا۔ مالیاتی، حصص، اجناس، انرجی خام مال اور دھاتوں کی عالمی منڈیوں کے بارے میں یہ نکتہ راسخ کیا گیا کہ مارکیٹیں اپنی حیثیت میں اگر آزادانہ کام کریں تو ایک خود کار انداز میں طلب اور رسد کی بنیاد پر خود ہی اپنا توازن تلاش کر لیتی ہیں۔

حکومت کا صرف یہ کام بتایا گیا کہ وہ صرف موافق ماحول مہیا کرے یعنی Enabling Environment ۔ نوے کی دِہائی کے آغاز میں روس کی شکست و ریخت کے ساتھ سوشلزم کا متبادل نظام زمیں بوس ہو گیا۔ رہا چین تو اس نے سرمایہ داری اور سوشلزم کا ایک ہائی برڈ نظام تخلیق کر لیا جس میں کمیونسٹ پارٹی حکومت اور معیشت کو کنٹرول کرتی ہے لیکن سرمایہ کاری کے مواقع اور ماحول بھی ایسا فراہم کر دیا ہے کہ دنیا بھر کی کمپنیاں چین میں اپنا سرمایہ اور ٹیکنالو جی لا چکی ہیں۔  گلوبل کمپنیوں کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ منافع کے حصول کے مطابق اپنی رفتار اور کام کی جگہ کا انتخاب کرتی ہیں۔ ملکوں کی جغرافیائی حدود کی ان پر قید نہیں۔ جہاں جہاں ٹیکس اور آسان ضوابط کی سہولت ہے، یہ وہیں اپنے ہیڈ کوارٹرز یا دفاتر بناتے ہیں۔ اسی لئے ان کمپنیوں کے لئے دس پندرہ سال قبل ایک ترکیب ایجاد کی گئی Metanationals یعنی ماورائے ریاست شہری۔

ماہرین ، دانشور اور میڈیا ان تمام سالوں میں یہ بتا بتا کر ہلکان ہو گیا کہ کس طرح اسے نئے نظام میں جہاں حکومتیں اور جمہوری نظام فقط سہولت کار ہیں ، ان گلوبل کمپنییوں اور مارکیٹ اکونومی کے توسط سے ملکوں کی قومی آمدنی اور فی کس آمدنی بڑھ رہی ہے۔ ان اعدادو شمار پر جائیں تو دنیا میں غربت اور معاشی نا ہمواری کا خاتمہ ہو جانا چاہئے تھا یا کم از کم معاشی نا ہمواری بہت کم رہ جاتی لیکن ہؤا اس کے بالکل الٹ۔ دنیا بھر میں دولت کا ارتکاز ہولناک تیزی سے بڑھا ہے۔ اس قدر کہ مشہور زمانہ Oxfam کی اس سال کی رپورٹ کے مطابق صرف پچاسی افراد دنیا کے پچاس فی صد نچلے طبقات کے برابر دولت کے مالک ہیں۔ دولت کے اس بے محابہ ارتکاز نے جس معاشی ناہمواری کو بڑھاوا دیا ہے اس کے معاشرتی اثرات تباہ کن انداز میں ظاہر ہو رہے ہیں۔

نوبل انعام یافتہ ماہر معیشت جوزف اسٹگلٹز نے اپنی کتاب The Price of Inequality میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی معاشی نا ہمواری کے معاشرے پر اثرات اب واضح ہو رہے ہیں اور ان کا تعلق بھی سمجھ آ رہا ہے، جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے، صحت کے مسائل اور ذہنی دباؤ میں حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے، عام افراد کے لئے اعلیٰ تعلیمی کامیابیاں محدود اور اکثر ممالک میں اوسط عمر میں بھی کمی ہو رہی ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں۔ کیوں یہ ناہمواری تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کا سیاست اور معاشرت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ جوزف اسٹگلٹز کے بقول اپنے آپ Markets نہ تو Effecient ہو پاتی ہیں اور نہ مستحکم۔ اس مسلسل عدم توازن اور استحکام کے جھمیلے میں دولت زیادہ ہاتھوں میں پھیلنے کی بجائے چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی رہتی ہے۔ قومی پیداوار اور معاشی شرح نمو میں دھیرے دھرے بڑھوتری کی رفتارکم ہونے لگتی ہے۔ گزشتہ دس سالوں سے کم عالمی معاشی شرح نمو اسی کا ایک شاخسانہ ہے۔

ان موضوعات پر دنیا بھر میں متبادل نظام یا اس نظام کی خامیوں کی نشاندہی پر بہت تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ پاکستان میں البتہ اس پر خال خال ہی کام ہوا۔ پاکستان میں دولت کے ارتکاز پر تو کوئی قابلِ ذکر کام ہماری نظر سے کم ہی گزرا۔ اس موضوع پر ایک عرصے بعد ساہیوال سے ایک ہمارے ایک کتاب دوست ذکریا خان نے ایک نئی تصنیف اکیسویں صدی کا سامراج ۔۔ ملٹی نیشنل کارپوریشنز اور پرائیویٹ آرمی ہمیں فراہم کی۔ یہ تنقیدی اور تحقیقی کتاب محمد سلیم نے لکھی جو سوشیالوجی اور قانون میں تعلیم یافتہ ہیں۔ عالمی معیشت ، عالمی سیاسی پیش بینی اور اس کی سیاسی حکمت عملی پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے بڑی عرق ریزی سے عالمی معیشت اور ترقی یافتہ ممالک میں گلوبل کمپنیوں کی اٹھان اور ان کے اثر و نفوز پر قلم اٹھایا ہے۔
ان کے بقول کمیونزم اس وقت منظر سے غائب ہو رہا ہے جبکہ کیپیٹلزم نے جدید سامراجیت کا روپ دھار کر امن عالم کے لئے خطرناک مسائل پیدا کر دئے ہیں۔ یک طرفہ عالم گیریت ان کے بقول انہی قوتوں کی ہنر مندانہ اختراع ہے جس کے ذریعے پوری دنیا کو اجارہ درانہ سرمایہ کاری کے ‘ لیبر کیمپ ‘ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

ان کے بقول میڈیا عالمی سیاست کی شہ رگ ہے ، یہ رائے عامہ اور عالمی سیاست کے بناؤ بگاڑ میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ خود مختار قومی ریاستیں اور کارپوریٹ عالمی حکومت دونوں متضاد چیزیں ہیں۔
کئی عالمی ماہرینِ معیشت اور سوشیالوجسٹ کا خیال ہے کہ نیو ورلڈ آرڈر میں عالمی ادارے اور گلوبل کمپنیوں کے پاس اس قدر وسائل اور اسیری طاقت ہے کہ نیشن اسٹیٹس کے پاس اب بڑے بڑے فیصلے کرنے کا اختیار اور دائرہ کار محدود ہو گیا ہے ۔ اس کے بر عکس عوام کی توقعات اپنی حکومتوں سے اسی طرح برقرار ہیں بلکہ وہ ان عالمی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لئے اپنی حکومتوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ توقعات پوری نہ ہونے اور کاروبار زندگی مزید مشکل ہونے پر بالعموم عوام میں مایوسی اور غصہ بڑھ رہا ہے۔ جس کا اظہار گذشتہ دو سالوں کے الیکشنز میں امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں ہو چکا ہے۔

ان ماہرین کے بقول اگر منصفانہ معاشی اور معاشرتی نظام کی طرف قدم نہ اٹھایا گیا تو وسائل سے لیس اور منافع اندوزی کی حرص میں لت پت گلوبل کمپنیاں جس نیو ورلڈ آرڈر کی بنیاد پر یہاں تک پہنچی ہیں، اسی نظام کی زمیں بوس بھی کر سکتی ہیں۔