ترقی پسند تحریک اور سجاد ظہیر

ادب سے سماج کے زیر دست طبقوں کی زنجیریں توڑی جا سکتی ہیں، محکوموں کے استحصال کی شکلوں کو آشکار کیا جاسکتا ہے ۔ عام لوگوں کو زبردست طبقوں کا غلام رکھنے کے لیے کون کون سے معاشرتی اور مذہبی ادارے بنائے گئے ہیں جو کس طرح سے غلامی کو ایک سنہری طوق بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ترقی پسند تحریک اور ادبیوں نے یہ سب کچھ بتایا اور اس معاشرے کے طبقات کا آپریشن بھی کیا۔

غلام ہندوستان کے معاشرے میں ترقی پسند ادیب ہی تھے جنہوں نے اس ملک اور سماج کے پسے ہوئے طبقات کی آواز کو بلند کیا۔ انہوں نے برصغیر میں انگریز آقاؤں سے مرعوب اصلاح کاروں کو، جو اپنی شناخت، تہذیب، زبان اور ادب پر معذرت خواہاں رویہ اپنے ہوئے تھے ، یہ سمجھایا کہ ایسا رویہ سامراجی بیانیے کو مزید تقویت دے گا۔ ترقی پسند ادیبوں نے معاشرے میں بالا دست طبقے اور سماجی اداروں کے باہمی گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرکے پسے ہوئے طبقے کو یہ بتایا کہ اس کی محرومی، غلامی، غربت اور بھوک کی وجوہات کیا ہیں۔ ادب کی یہ تحریک جسے ہم ترقی پسند تحریک کے نام سے جانتے ہیں اپنے ابتدا سے ہی مذہبی رجعت پسندوں، نام نہاد مصلحوں اور معذرت خواہوں کے پہلو میں ایک خار کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔

اس تحریک کے روح رواں سجاد ظہیر تھے جنہیں ان کے ساتھی اور چاہنے والے بنے بھائی کہتے تھے ۔ انہوں نے اس تحریک کے لیے انتھک کام کیا۔ اس تحریک کا کونسا شعبہ ایسا ہے جس میں انہوں نے عملی طور پر حصہ نہ لیا ہو۔ ترقی پسند ادب کیا ہونا چاہیے اور سامراجی دور میں کس طرح کے ادب کی ضرورت ہے۔  جاگیردارانہ معاشرہ سامراج کی چھتر چھایا میں کس طرح کا بیانیہ تشکیل دے رہا ہے ۔  اور اس کا متبادلہ بیانیہ بنانے والے ادیب کی ذمہ داریاں کیا کیا ہیں۔ اس کو ایک منظم اور مربوط نظام میں بنے بھائی نے ہی متعارف کروایا۔ انہوں نے اس تحریک کو استوار کرنے اسے چلانے کے لیے ہی دن رات کام نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس وقت ترقی پسند ادب کی تھیوری پر بھی کام کیا۔ ان کا خیال تھا کہ برصغیر میں سامراج نے غلامی کو قائم رکھنے کے لیے قوانین اور ان پر عملدرآمد کرنے والے ادارے بنانے کے ساتھ تہذیبی سطح پر بھی سامراج نواز بیانیہ سازی کی ہے ۔

یہ بیانیہ سازی کس طرح ہوتی ہے اور کون کون سے طبقات اور ادارے اس میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کی وضاحت اپنی کتاب ’روشنائی‘ جو کہ ترقی پسند تحریک تاریخ ہے ، میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں: برطانوی سامراجی نظریوں کی خصوصیت کیا تھی۔ اول تو تمام ہندوستانیوں کے ذہنوں میں یہ خیال پیوست کرنا کہ انگریز قوم ان سے ہر لحاظ سے بہتر ہے اور ہندوستان پر اس کی حکومت جائز اور مناسب ہے ، بلکہ خدا کی طرف سے نازل کی ہوئی ایک نعمت ہے ۔ انگریزوں اور ان کی حکومت کا وفادار رہنا ہر ہندوستانی کا سیاسی اور مذہبی فریضہ قرار دیا گیا۔ یہ نظریہ تمام سرکاری اور نیم سرکاری سکولوں اور کالجوں، درسی کتابوں، نیم سرکاری اخباروں، عیسائی مشنیریوں، زرخرید ملاؤں اور پنڈتوں، سرکاری عہدیداروں، راجاؤں، نوابوں، بڑے زمینداروں اور دیگر تمام ایسے لوگوں کے ذریعے پھیلایا جاتا تھا جن کی روزی انگریری سرمایہ داروں یا ان کے حکومتی اداروں سے وابستہ تھی۔ اپنے وطن کی عظیم تہذیب اور تمدن کو گھٹیا خیال کرنا اور اس کی طرف بے توجہی برتنا، مغرب کی ہر ایک چیز کو اس سے بہتر سمجھنا، انگریزی فیشن اور آداب کی احمقانہ نقالی کرنا، اس نظریے سے پیدا ہونے والی تہذیب’ کا ایک لازمی جزو تھا۔

اس نظریے کی ترویج کا مقصد ظاہر ہے ہم میں احساس کمتری پیدا کرکے ہمیں ذہنی طور پر انگریزی استعمار کا آلہ کار اور مطیع بنانا تھا۔ انگریز مؤرخین نے انیسویں صدی میں ہمارے ملک کی جو تاریخیں لکھیں ان میں یہی نظریہ پیش کیا گیا تھا۔ وہ تمام طبقات ہیں جن کا سجاد ظہیر نے اس پیرا گراف میں ذکر کیا ہے اب بھی موجود ہیں اور اب بھی ’سرکاری بیانیہ‘ تشکیل دینے میں یہی طبقات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔  اب جو بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے اس کا مقصد بالا دست طبقے اور نئے کلونیل آقاؤں کے درمیان ہونے والی سازباز اور گٹھ جوڑ کو پسے ہوئے طبقات کی نظروں سے اوجھل رکھ کر اور ان سے لوٹی ہوئی دولت کا رخ جنوب سے شمال کی طرف رکھنا ہے ۔

ایسے میں جو ادب پیدا ہو رہا اسے بھی کارپوریٹ سیکٹر کے ادبی میلوں میں اطاعت کا پاٹ پڑھایا جاتا ہے ۔ کس ادب کو پڑھنا ہے اور کس چشمے سے پڑھنا اس کا ایجنڈا بھی اب وہی کارپوریٹ ادارے سیٹ کر رہے ہیں، جن کا مقصد سرمایہ دار کی طاقت کو مستحکم اور منظم کرنا ہے ۔ جن حالات اور جس دور میں بنے بھائی نے اس تحریک کو منظم کرنے کا بیڑا اٹھایا وہ اس قدر آسان نہیں تھے ۔ وہ راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہو کر مچھ جیل پہنچے تو روشنائی کی شکل میں اس تحریک کی تاریخ بھی مرتب کر ڈالی۔  سبط حسن اسے ترقی پسند تحریک کا تاثراتی جائزہ لکھتے ہیں۔ پاکستان میں ترقی پسند تحریک نے ایک منظم اور مربوط مخالفت کا سامنا کیا ہے ۔ یہاں کی لبرل اشرافیہ اور ریاست سرد جنگ میں عالمی سرمایہ دارانہ بلاک کے گٹھ جوڑ سے اس تحریک کی مخالفت پر اتر آئی۔ ترقی پسند ادیبوں پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا، ترقی پسند اخبارات اور رسالوں کو معاشی قتل عام اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

1954 میں انجمن ترقی پسند مضنفین کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا (سبط حسن دیباچہ روشنائی ) لیکن اس کے باوجود یہ تحریک پاکستان کے ادب میں کسی نہ کسی صورت میں موجود رہی۔ جس شخص نے اردو ادب ہی نہیں بلکہ برصغیر کی دیگر زبانوں کے ادب پر اہم اثرات چھوڑے 13 ستمبر کو ان کی برسی پاکستان کے تعلیمی اور ادب کے اداروں میں کم ہی منائی جاتی ہے ۔ اب ہمارے لیے وہ ادیب سیلبرٹیز کا درجہ پا چکے ہیں جن کا کام مقتدرہ حلقوں کے بیانیے کو تقویت دینا اور اسے مذہب کے لبادے میں لپیٹ کر ہمارے لیے قابل قبول بنانا تھا۔