جمہوریت کا مقدمہ

دنیا میں اس وقت جو بھی سیاسی نظام ہیں ان میں جمہوریت کو باقی نظاموں کے مقابلے میں فوقیت حاصل ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں جاری مباحث میں جمہوریت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ وہ ممالک جہاں جمہوریت ہے وہاں پر بھی جمہوریت کو بہتر اور فعال بنانے کی بحث جاری ہے ۔ جبکہ جو ممالک جمہوری عمل سے دور ہوکر دیگر نظاموں میں اپنا نظام چلارہے ہیں وہاں پر بھی جمہوری نظام کو لانے کی باتیں شدت سے کی جارہی ہیں ۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت اور جمہوری نظام میں ان کے بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ لیکن یہ مسئلہ بھی شدت سے زیر بحث ہے کہ کیا وجہ ہے کہ دنیا اور بالخصوص پاکستان میں جاری جمہوری نظام عام لوگوں کی خواہش اور ضرورتوں کے برعکس کیونکر چل رہا ہے ۔

پاکستان میں جمہوریت بنیادی طور پر اب بھی ایک ارتقائی عمل سے گزررہی ہے ، یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں جمہوری نظام کی مضبوطی اور اس کے ثمرات کے عمل سے عوام مجموعی سطح پر محروم ہیں ۔ جمہوریت کی مضبوطی کے تناظر میں جو بڑے بڑے چیلنجز ہیں ان میں کچھ مسائل داخلی اور کچھ خارجی  ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ  جمہوری نظام کے عدم تسلسل اورفوجی مداخلتوں کی وجہ سے بھی یہ نظام مضبوط نہیں ہوسکا ۔ لیکن کچھ مسائل داخلی نوعیت کے بھی ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہماری جمہوری قوتیں اپنے داخلی مسائل کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ان میں موجود تضادات بھی جمہوری عمل کو مضبوط بنانے میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ جمہوری عمل محض انتخابات ، ووٹ کا حصول اور اقتدار تک محدود ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک مجموعی نظام کا حصہ  ہوتا ہے ۔

دنیا میں ہر برس 15ستمبر کو جمہوریت کے بین الااقوامی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر میں جمہوریت، جمہوری اقدار و طرز عمل کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ اس برس عالمی یوم جمہوریت کا مرکزی عنوان ’’ تنازعات کی روک تھام اورجمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کی اہمیت ‘‘ کی طرف توجہ دلانا ہے ۔ عملی طور پر جمہوری نظام میں آئین کی پاسداری ، جمہوریت، مساوات، انسانی حقوق کا فروغ، قانون کی بالادستی ، وسائل کی منصفانہ تقسیم ، انصاف کی فراہمی ، کمزوروں کو تحفظ فراہم کرنا سمیت آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے تحفظ اور فراہمی کے عمل کو یقینی بنانا ہوتا ہے ۔  جمہوریت اور جمہوری نظام کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ  اس میں  فہم فراست، تدبر ، عقل ودانش اور حکمت عملی سے تنازعات کے خاتمہ کے لئے کام کیا جاتا  ہے ۔ لیکن یہاں المیہ یہ ہے کہ ہم مجموعی طور پر جمہوریت کے تناظر میں موجود تنازعات کو کم کرنے کی بجائے انہیں زیادہ شدت سے بڑھانے کے عمل میں شریک کار ہو گئے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لوگوں کو جمہوریت سے زیادہ جمہوری نظام کو چلانے والے افراد یا اداروں سے زیادہ مایوسی یا تحفظات پائے جاتے ہیں ۔ اسی طرح ہم نے اداروں کی خود مختاری اور آزادی کو جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے نام پر مفلوج بنادیا ہے ۔  ادارے اسی صورت میں خود مختاررہتے ہیں جب ہم قانو ن کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں ، جبکہ یہاں اداروں کے مقابلے میں حکمران یا افراد کو مضبوط بنانے کی روش جمہوری نظام کی مضبوطی میں بڑی رکاوٹ ہے ۔

برطانوی ادارہ برائے اکنامسٹ انٹیلی جنٹ یونٹ کے مطابق جمہوری انڈیکس میں پاکستان167ممالک کی فہرست میں 111ویں نمبر پر ہے ۔ جبکہ ہمارے مقابلے میں نائجریا 109، لبنان 102، سری لنکا66 اور ملائیشیا 65ویں نمبر پر ہیں ۔ یہ درجہ بندی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان دیگر مسلم ، افریقی اور جنوبی ایشائی ممالک سے بھی بہت پیچھے ہے ۔ اسی طرح پاکستان عالمی جمہوری درجہ بندی 2016 میں 10ویں نمبر پر تھا ۔ وہ ممالک جہاں جمہوری عمل یا طرز حکمرانی کا عمل ہمارے بعد شروع ہوا انہوں نے بھی اپنی سیاسی کمٹمنٹ کی وجہ سے بہت سے جمہوری انڈیکیٹرز میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں ، مگر اس عمل میں ہم وہ کچھ نہیں کرسکے جو ہمیں کرنا چاہیے تھا۔

جمہوریت کی ساکھ  طرز حکمرانی یا گورننس کے نظام سے منسلک ہوتی ہے۔ یہ عمل لوگوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی کا ضامن ہوتا ہے ۔ مگر پاکستان میں جو سیاسی ، سماجی ، انتظامی ، معاشی اور طبقاتی تقسیم پیدا ہورہی ہے اس نے عام لوگوں اور جمہوری نظام کے درمیان فاصلے اور تحفظات پیدا کیے ہیں ۔ مسئلہ یہ نہیں لوگ جمہوریت کے مقابلے میں کوئی اور نظام چاہتے ہیں ۔ ان کا مقدمہ جمہوری نظام میں  ڈیلیوری کے بارے میں ہے۔ وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں اگر جمہوری نظام نے ان کے بنیادی مسائل اور حقوق کی فراہمی کے عمل کو یقینی نہیں بنانا تو ہمیں اس نظام کی کیا ضرورت ہے ۔ ایک عمومی رائے یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ فوج ہے ۔ کیونکہ یہ رائے شدت سے دی جاتی ہے کہ فوج کی بار بار کی مداخلت کی وجہ سے جمہوری نظام مضبوط نہیں ہورہا ۔ اس میں ایک رائے سول ملٹری تعلقات میں بگاڑ کو بھی سمجھا جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے امور پر فوج کے کردار اور طرز عمل کی وجہ سے بھی جمہوری نظام کی مضبوطی کا عمل پیچھے رہا ہے ۔ لیکن اس نکتہ پر زیادہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر وہ کونسی وجوہات ہیں جو ان دونوں فریقین کے درمیان تناؤ، بگاڑ اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا باعث بنتی ہیں۔

اس کے برعکس اگر ہم بادشاہت اورمافیا کی طرز پر سیاسی نظام کو چلانا چاہتے ہیں اور اس نظام میں طبقاتی بنیادوں پر ڈلیوری کے عمل کو آگے بڑھانا ہے تو ایسی صورت میں جمہوری ساکھ بہتر طور پر اپنے آپ کو منوانہیں سکے گی ۔ یہاں ہمیں جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے چند بنیادی اصولوں پر اتفاق کرنا ہوگا ۔ اول جمہوری نظام کا تسلسل، دوئم  حکومت اور عوام کے درمیان  خلیج کو کم کرنا،  سوئم اداروں کی بالادستی اور خودمختاری اور قانون کی حکمرانی، چہارم جوابدہی ، احتساب ، شفافیت، پنجم سیاسی جماعتوں میں جمہوری نظام، ششم سول ملٹری تعلقات میں بد اعتمادی کا خاتمہ۔ ملک میں ایسا نظام لانا ہوگا جس میں مشاورت کے عمل کو فوقیت حاصل ہو۔

یہ کام کسی بڑی سیاسی جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں ۔ پاکستان کے شہریوں ، سول سوسائٹی اور میڈیا کو یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ کوئی بھی نظام اس وقت تک موثر، شفاف اور جوابدہ نہیں ہوتا جب تک اس میں دباؤ  کا عنصر موجود نہ ہو۔  ہمیں سماج میں لوگوں کے سیاسی شعور کو اجاگر کرنا ہوگا کہ وہ افراد کے ساتھ ساتھ سیاسی نظام اور اداروں کی مضبوطی کے عمل میں  سپاہی کا کردار ادا کریں۔ جو لوگ جذباتی نعروں کی بنیاد پر لوگوں کو سیاسی طور پر گمراہ کرتے ہیں ، ان کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی ۔  آج کی نوجوان نسل  دباؤ کی سیاست کو جنم دے کر جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے عمل میں مختلف فریقین کو مجبور کرسکتی ہے کہ وہ جمہوریت کے نام پر بدنما کھیل بند کریں۔  اور حقیقی جمہوریت کو پنپنے دیں۔