پاکستان کا داخلی اور خارجی بحران
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 17 / ستمبر / 2017
- 6149
پاکستان اس وقت داخلی اور خارجی سطح پر کئی طرح کے سنگین مسائل کا شکار ہے ۔ کچھ مسائل کا تعلق خارجی معاملات سے ہے۔ اس میں ہماری غلطیوں کے علاوہ کچھ دیگر ممالک کی پالیسیاں بھی وجہ ہیں ۔ لیکن زیادہ مسائل کا تعلق براہ راست ہمارے داخلی حالات سے ہے۔ یہ ہماری ریاستی و حکومتی نالایقی، نااہلی ، بدعنوانی اور کمزور سیاسی کمٹمنٹ کی وجہ سے جنم لیتے رہے ہیں۔ یہ دلیل وزن رکھتی ہے کہ اگر کوئی ریاست یا نظام اپنے داخلی مسائل کو قابو نہیں پاتا تو اسے خارجی محاذ پر بھی زیادہ سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس لئے جب یہ منطق دی جاتی ہے کہ ہمیں بطور ریاست یا ملک خارجی مسائل کا سامنا ہے تو اس امر کا بھی تجزیہ کیا جانا چاہیے کہ ان خارجی معاملات یا مسائل میں ہمارے کون سے داخلی مسائل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔
یہ دلیل کافی حد تک محض جذباتیت پر مبنی ہوتی ہے کہ ہمارے مسائل کی وجہ محض خارجی مسائل ہیں یا کچھ ہمارے دشمن ممالک ہمیں ہر سطح پر کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں ۔ ہر ملک کا اپنا ایک ایجنڈا ہوتا ہے اور وہ اس ایجنڈے یا اپنے مفادات کو بنیاد بنا کر داخلی اور خارجی عمل کو آگے بڑھاتا ہے ۔ یہاں ہمیں اپنے قومی مفادات کے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ کیونکہ جب تک ہم داخلی معاملات کو درست طور پر سمجھ نہیں پائیں گے ، ہم انتشار اور عدم استحکام کی سیاست سے باہر نہیں نکل سکیں گے ۔ بھارت ، افغانستان ، امریکہ یا کوئی اور ملک جو ہمیں عالمی سطح پر کمزور یا تنہا کرنے کی کوشش کررہے ہیں اس سے ہم کیسے نمٹیں ، یہ فہم بطور ریاست، حکومت، معاشرہ یا قوم ہمیں درکار ہے ۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم داخلی اور خارجی مسائل سے کیسے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کیونکہ اگر ہم مسائل سے نمٹنے کے لیے درست سمت کا تعین ہی نہ کرسکیں تو پھر نتائج بھی وہی نکلیں گے جو ہمیں مزید مسائل میں الجھا دیں گے یا ہمیں کمزور کرنے کا سبب بنیں گے ۔ اس میں سب سے اہم کردار ہماری سیاسی قیادت کا ہوتا ہے ۔ کیونکہ سیاسی قیادت ہی بنیادی طور پر ایک ایسی سمت کی نشاندہی کرتی ہے اور قیادت کرتی ہے جو قومی معاملات کی درست عکاسی کرتی ہو۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری داخلی سیاست اور قیادت سمیت اس سے وابستہ افراد اور ادارے قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتیات میں الجھے ہوئے ہیں۔ جب سیاست قومی نکل کر ذاتی مفاد میں چلی جاتی ہے تو پھر اس کا فائدہ دوسرے ممالک کو ہوتا ہے جو ہماری کمزوریوں اورناکامیوں کو بنیاد بنا کر اپنے ایجنڈے کو تقویت دیتے ہیں۔
پاکستان کو اس وقت داخلی محاذ پر چار بڑے چیلنجز ہیں ۔ اول ہم انتہا پسندی اوردہشت گردی سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ مسئلہ ہماری داخلی اور خارجی سیاست کی سلامتی سے متعلق ہے ۔ دوئم اس وقت حکمرانی کا بحران ہے جس میں حکومت اور عوام کے درمیان خلیج ہے اور لوگوں بنیادی نوعیت کے مسائل میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ سوئم ملک میں میں معاشی ناہمواری اور تقسیم موجود ہے۔ چہارم قانون اور اداروں کی بالادستی کا سوال ہے جو طاقت ور کے ساتھ کھڑا ہے اور کمزور کے لیے استحصال کا سبب بنتا ہے ۔ پنجم کمزور جمہوریت، کمزور سیاسی نظام جو ملک میں ایک مضبوط ، شفافیت اورجوابدہی پر مبنی نظام ، احتساب، کرپشن ، بدعنوانی اور مافیا کے خاتمہ کے نظام میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔
ملک میں سیاسی جماعتیں ، قیادت اور اہل دانش آپس میں الزام تراشیوں پر مبنی سیاست سے جکڑے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ کوئی کسی کی سیاسی حیثیت ، حکومت کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور محاز آرائی کا یہ عمل اتفاق رائے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔ لوگوں کو مضبوط اورمستحکم بنانے کے لیے ہماری حکومتیں اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مقامی مسائل کے حل میں موثر کردار ادا کرنے والے مقامی حکومتوں کے نظام کوپاکستان میں اپاہج کر دیا گیا ہے۔ یہ عمل حکمرانی کے بحران کو زیادہ سنگین کرتا ہے او رلوگ زیادہ بے بس نظر آتے ہیں ۔ ہمارے سیاسی ، انتظامی، قانونی اور حکمرانی کے نظام پر جن اداروں نے کام کرنا ہوتا ہے، ان کے بارے میں اعلی عدلیہ کے ججزبھی ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ یہاں ادارے فعال نہیں جو مسائل کی وجہ ہیں۔
جہاں تک خارجی سطح کے مسائل کا تعلق ہے ان میں بھارت، افغانستان ، ایران اورامریکہ کی جانب سے ہمیں سنگین مسائل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اس پر بھی ہمیں بڑا قومی اتفاق رائے کا فقدان ہے ۔ ہماری سیاسی قیادت کے درمیان جاری محاز آرائی ان خارجی معاملات کو خراب کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔ سفارت کاری کے محاذ پر ہم اپنا مقدمہ عالمی دنیا میں اس انداز سے پیش نہیں کرسکے جو ہماری قومی ضرورت پورا کرتا ہو۔ ہمارے اپنے اندر سے ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو عملی طور پر وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو دیگر ممالک ہم پر الزامات لگاتے ہیں ۔ یہ مسئلہ سمجھنا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ ہم عالمی دنیا میں دہشت گردی سے نمٹنے میں ایک بڑے کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ہم پر ہی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں ۔ پچھلے دنوں امریکی صدر اور چین میں ہونے والی پانچ ممالک کی کانفرنس میں پاکستان کو ہدف بنایا گیا۔ اس پر ہماری سفارت کاری یا ڈپلومیسی خود سوالیہ نشان ہے ۔ یہ سوچ بھی ہمیں داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر ختم کرنا ہوگی کہ پاکستان میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مختلف امور پر خلیج یا بداعتمادی پائی جاتی ہے ۔ اس مسئلہ کو زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور اب وقت ہے کہ سول ملٹری تعلقات کو موثر اور فعال کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے نیشنل سیکورٹی کونسل جیسے ادارے پر اتفاق ہو۔ کیونکہ موجودہ خارجی مسائل میں ایک آواز ہو کر اور اتفاق رائے یا مشترکہ سوچ و حکمت عملی کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ۔
ہمارے یہاں سماج کو مختلف امور پر تقسیم کرنے کا کھیل جاری ہے اس کو بھی ہمیں زیادہ گہرائی سے سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ معاشرے میں حد سے بڑھتی ہوئی تقسیم اور تضادات قوم کو یکجا کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔ یہاں یہ مسئلہ نہیں کہ کون ملک کا وفادار ہے اور کون غدار ۔۔۔ ہمیں اس طرح کی بحثوں میں الجھنے کی بجائے ایک بڑے قومی ایجنڈے کی تشکیل نو کرنی چاہیے ۔ لیکن اس کے لیے سب فریقین ایک دوسرے کے ادارے کی افادیت کو تسلیم کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔ اور سیکورٹی مسائل پر سیکورٹی اداروں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی سے بھی ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ پاکستان اس وقت مسائل اورامکانات کے درمیان کھڑا ہے ۔ یہ نہیں کہ جو مسائل ہمیں داخلی اور خارجی سطح پر ہیں ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے بلکہ اصل مسئلہ ہماری مضبوط سیاسی کمٹمنٹ، مشاورت پر مبنی فیصلوں ، حکمت عملیوں اور مختلف فریقین کو یکجا کرنے سے متعلق ہے۔ ہمیں قومی مفاد کو مقدم رکھ کر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔ غیر معمولی صورتحال میں فیصلے بھی غیر معمولی ، مشکل اور کڑوے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے بغیر ہم بہتر نتائج بھی حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ ریاست کو مضبوط اورمستحکم کرنے کا سیاسی ، سماجی ، معاشی اور انصاف پر مبنی بیانیہ ہمیں درکار ہے ۔ اسی کی طرف پیش رفت ہونی چاہیے ۔ یہ سمجھنا کہ جس انداز سے ہم ریاست و حکومت کا موجودہ نظام چلارہے ہیں اس سے ہم اپنے داخلی اور خارجی بحران سے نمٹ سکیں گے ، ممکن نہیں ۔
اب وقت ہے کہ پاکستان کے داخلی اور خارجی مسائل کو بنیاد بنا کر ہم اپنے تمام تر معاملات کو نئے سرے سے جانچیں ، سمجھیں ، پرکھیں اور پھر ایک نئی سمت کا تعین کریں کہ ہمیں کیسے آگے بڑھنا ہے ۔ لیکن یہ کام ایک مضبوط سیاسی نظام میں ہی ممکن ہے۔ کیونکہ جب سیاسی قیادت معاملات کو لیڈ کرتے ہوئے نظر نہیں آئے گی تو قوم بھی تقسیم ہوگی اور ملک کے معاملات کو بھی نقصان ہوگا۔