محرم الحرام
- تحریر علامہ عبدالحق مجاہد
- سوموار 18 / ستمبر / 2017
- 5400
اسلامی سال 1434 کا پہلا مہینہ محرم الحرام شروع ہے ۔ عربی قواعد کے مطابق یہ اسم مفعول ہے ۔ جو کہ تحریم سے بنا ہے تحریم باب تفعیل ہے ۔ تحریم کے بہت سے معنی ہیں ۔ ایک معنی تعظیم کرنے کا بھی ہے ۔ اس لحاظ سے محرم کا معنی ہے عظمت والا احترام والا مہینہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی آمد سے قبل بھی دوسری شریعتوں میں چار مہینے بہت فضیلت والے گنے جا تے تھے جن کا قراٰن کریم میں یوں تذکرہ ہے یسْءَلُوْنَکَ عنَِ الشَّھْرِ الْحَرَامْ ۔ ان مہینوں کا اہل عرب بھی بہت احترام کرتے تھے۔
عرب اکثر قتل و غارت میں مصروف رہنے کے باوجود ان مہینوں میں جنگ و جدال سے پرہیز کرتے تھے۔ یہ رجب المرجب ذیقعد ذی الحج اور محرم الحرام تھے ۔ حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری کے بعد بھی یہ مہینے اسی طرح سے حرمت والے کہلاَئے ہیں۔ محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو تاریخ عالم میں خاص اہمیت حا صل ہے ۔ مشہور قول کے مطابق سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کی تاریخ دس محرم الحرام ہے ۔ اس لیے آپ کی شریعت میں دس تاریخ کا روزہ فرض تھا اور آدم علیہ السلام ہمیشہ دس تاریخ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ دس محرم الحرام وہ اہم تاریخ ہے جس دن مصر کا نافرمان بادشاہ فرعون قلزم میں غرق ہوا تھا ۔ اور حضرت موسی علیہ السلام نے مع اپنی قوم بنی اسرائیل اس کے مظالم سے نجات پائی تھی ۔ حضرت موسی علیہ السلام اللہ تعالی کے شکرانہ کی ادائیگی کے لیے ہمیشہ دس محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے ۔ آپ کی اقتداء میں قوم یہود نے بھی ہمیشہ اس تاریخ کا روزہ رکھا ۔
حضور اکرم ﷺجب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو اس تاریخ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا ہمارے لیے بھی دس محرم اسی طرح سے قابل احترام ہے لیکن مسلمان اپنا امتیاز اور تشخص قائم رکھنے کے لیے نویں اور دسویں محرم کا روزہ رکھا کریں۔ اس لیے صحابہ کرام ہمیشہ یہ دو روزے رکھا کرتے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ دس محرم الحرام کو کثرت سے خیر خیرات کرنے کی بھی تبلیغ فرمایا کرتے تھے آپ کے فرمودات عالیہ سے یہ بات ملتی ہے ۔ کہ جو شخص دس محرم الحرام کو خیر خیرات کرے گا تو اللہ تبارک و تعالی جل جلا لہ و عم نوالہ اس کے رزق میں فراخی پیدا کر دیں گے۔ یہی وہ دس تاریخ ہے جس دن قیامت آئے گی اور اللہ تبارک و تعالی اس کائنات کی بساط لپیٹ دیں گے۔ محرم الحرام کو اسلامی تاریخ میں اس لیے بھی خصوصی اہمیت حا صل ہو گئی کہ اس کی یکم تاریخ خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی تاریخ ہے ۔ جنہیں نبی کریم ﷺنے اللہ تبارک و تعالی سے مانگ کے لیا تھا اور اللہ تعالی نے آپ کو رسول اللہ ﷺکی مراد بنا کر آپ کی جھولی میں ڈال دیا تھا ۔ جن کے فضائل سے کتب بھری پڑی ہیں۔ دوسری اہم ترین اہمیت محرم الحرام کو اس عظیم درد ناک واقعہ سے ہوئی جو کہ کربلاء معلی میں نواسہ رسول پاک ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے ساتھیوں کی شہادت کا ہے۔ یہ وہ کربناک، افسوس ناک اور دکھ بھری شہادت کی کہانی ہے کہ جس پر امت مسلمہ ہمیشہ آنسو بہاتی رہے گی۔
حضور اکرم ﷺ کو ان دونوں صاحبزادوں سے والہانہ محبت تھی فرمایا کرتے تھے۔ حسن اور حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں اور یہ بھی فرمایا حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ ان پر شفقت کے کئی پیارے واقعات ہیں۔ ایک دفعہ آپ ممبر پر واعظ فرما رہے تھے کہ یہ دونوں صاحبزادے آ رہے تھے اور قمیض میں پاؤں اڑ کر گر پڑے تو حضور اکرم ﷺ نے ان دونوں کو اٹھا کر ممبر پر اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔ حضرت اسامہ بن زید سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی دونوں رانوں پر حسنؓ اور حسینؓ کو بیٹھے دیکھا اور فرما رہے تھے یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں۔ اے اللہ میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔ اور ہر اس شخص سے محبت فرما جو ان سے محبت کرتا ہو ۔ آپ کایہ بھی ارشاد عالی موجود ہے کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ جو حسینؓ سے محبت رکھے اللہ تعالی اس سے محبت رکھے۔ حضرت حسینؓ کی شہادت کی خبر آپ نے اپنی زندگی مبارک میں ہی دے دی تھی۔
واقعہ کربلا کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ جب یذید نے بیعت لی تو چار عظیم المرتبت ہستیوں نے بیعت سے انکار کردیا 1 ۔ سیدنا حضرت امام حسینؓ 2 سیدنا حضرت عبداللہؓ بن عمرؓ 3 ۔ سیدنا حضرت عبداللہؓ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ 4 ۔ سیدنا حضرت عبداللہؓ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ یہ چاروں عظیم امرتبت ہستیاں مکۃ المکرمہ میں مقیم تھیں ۔ چند روز بعد کوفہ جو کہ سیدنا حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کا پایہ تخت رہا تھا وہاں کے لوگوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخطوط لکھے کہ ہمارے اوپر بہت سے مظالم ڈھائے جارہے ہیں، ہمیں ان سے نجات دلانے کے لیے آپ کوفہ تشریف لائیں ۔ آپ نے پہلے تو انکار کیا مگر پھر ان کا اصرار بڑھنے پر ارادہ فرمالیا۔
آپ 10 ذولحج 60 ھجری کو گھر کے تمام افراد جن میں مرد عورتیں اور بچے وغیرہ شامل تھے مکۃ المکرمہ سے عراق کی جانب روانہ ہوگئے۔ یزید نے یہ خبر پاکر کوفہ کے گونر عبیداللہ بن زیاد کو اس معاملے سے نمٹنے کے لیے مقرر کیا۔ اس نے کوفہ کی فوجی چھاؤنی کے کور کمانڈر عمرو بن سعد کو یہ ذمہ داری سونپ دی۔ اس اثناء میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کربلائے معلیٰ کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ عمر بن سعد نے معلومات پاکر کر بلا کے میدان میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ہمراہیوں کو گھیرے میں لے لیا اور مذاکرات شروع ہوگئے۔ آپ نے فرمایا کہ میری تین باتیں ہیں یا تو مجھے واپس مکۃ المکرمہ لوٹنے دیا جائے یا دمشق جانے دیں میں خود یزید سے معاملات طے کرلوں گا۔ تیسری بات یہ ہے کہ مجھے کسی غیر مسلم کی سرحد تک جانے دیں میں وہاں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کروں گا ۔ عمر و بن سعدؓ رضامند ہونے کے قریب تھا کہ نائب سپہ سالار شمر ذی الجوشن جو اول درجے کا بدبخت اور دشمن اہل بیت عظام تھا اس نے کہا اگر حسینؓ بچ گئے تو وہ یزید سے مسلم بن عقیل کے قصاص کا مطالبہ کریں گے جس کے عوض میں تم قتل کردیئے جاؤ گے ۔ بہتر ہے کہ حضرت حسین کا یہاں ہی کام تمام کردیا جائے ۔ ابن زیاد کی بدبختی غالب آگئی اس نے شمر ذی الجوشن سے اتفاق کیا اور عمر بن سعدؓ کو پیچھے ہٹاکر شمر بن جوشن کو اس دستے کا سربراہ مقرر کر دیا جو حضرت حسینؓ سے نمٹے گا۔
اس پر شمر نے کمان سنبھال لی اور دریائے فرات کا پانی بند کردیا اہل بیت پانی کی بوند بوند کو ترس گئے اور مطالبہ کیا کہ اس کے ہاتھ پر نائب یزید ہونے کی حیثیت سے پہلے بیعت کی جائے پھر یزید کے ہاتھ پر۔ حضرت امام حسینؓ نے انکار فرمادیا در اصل یہ شمر کی محض خباثت تھی وہ ہر حال میں نواسہ رسولؓ کو ختم کرنے کے درپے تھا۔ اس کے بعد شمر کی فوج سامنے آئی تو اس میں بہت سے وہ کوفی بھی موجود تھے جن کے خطوط حضرت حسینؓ کو وصول ہوچکے تھے۔ آپ نے ایک ایک کو خطاب کرکے ان کے خطوط دکھلائے مگر کسی کو غیرت نہ آئی ۔ یہ خوفناک حالات سات محرم سے دس محرم تک جاری رہے۔ آخر دس محرم الحرام 61ھ کو ان ظالموں نے نوسہ پاکؓ حضور اکرم ﷺ کو سجدے کی حالت میں شہید کردیا ۔
دس محرم الحرام ہمیں صبر و تحمل کا سبق دیتا ہے اس روز کثرت سے تلاوت کلام پاک اور درودشریف پڑھ کر اور جوکچھ اللہ تعالیٰ توفیق دے اہل بیت عظام کو ایصال ثواب کرنا چاہیے۔ اور ہر اس کام سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے اللہ تبارک وتعالیٰ جل جلالہ وعم نوالہ حضور اکرم ﷺ ،اہل بیت عظامؓ اور صحابہ کرامؓ کی ناراضگی کا اندیشہ ہو ۔ وآخر دعوانا عن الحمد اللہ رب العالمین